يارب لا أرجو لهم سواكا يارب فامنع منهم حماكا
Al-Risala, August 1988, pp. 16–18
By Maulana Wahiduddin Khan
(اے میرے رب، ان کے مقابلہ میں تیرے سوا میں کسی سے امید نہیں رکھتا، اے میرے رب، تو ان سے اپنے حرم کی حفاظت کر)۔ اس طرح عبد المطلب نے کعبہ کو اللہ کے حوالے کیا اور قبیلہ کے دوسرے لوگوں کے ساتھ بستی سے نکل کر پہاڑوں میں چلے گئے اور وہاں چھپ کر بیٹھ گئے۔
ابرہہ اپنے لشکر کے ساتھ بڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ جب وہ حدود حرم پر پہنچا تو اس کے ہاتھی نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔ اس کو مار مار کر زخمی کر دیا گیا مگر وہ آگے نہ بڑھا۔ اسی دوران بے شمار چڑیوں کے جھنڈ فضا میں ظاہر ہوئے۔ ان کے چونچ اور ان کے پنجوں میں کنکریاں تھیں۔ نے یہ کنکریاں ابرہہ کے لشکر پر گرائیں تو وہ گولیوں کی بارش کی مانند ان پر برسنے لگیں۔ پورا لشکر بھس کی طرح چورا چورا ہو کر رہ گیا۔ یہ واقعہ مکہ کے قریب وادی محسر میں پیش آیا۔ اس واقعہ کے بعد عربوں نے قدیم رواج کے مطابق بہت سے اشعار لکھے اور ان میں اپنے
جذبات اور مشاہدات کا اظہار کیا۔ ابو قیس بن الاسلت کا ایک شعر یہ ہے :
فَلَمَّا أَتَاكُمْ نَصْرُ ذِي الْعَرْشِ رَدُّهُمْ جُنُودُ الْمَلِيكِ بَيْنَ ساف وَحَاصِبِ پھر جب تمہارے پاس عرش والے کی مدد آگئی تو اس بادشاہ کے لشکر (پرندوں) نے ان کو مٹی اور اور پتھر سے مار کر پسپا کر دیا (سیرۃ ابن ہشام ، الجزء الاول ، صفحہ ۶۲)
ابرہہ کا مذکورہ واقعہ ۵۰۔ ۵۶۵ ء میں پیش آیا تھا۔ اس کے ٹھیک ۵۸ سال بعد ۶۲۲ ء میں اسی مکہ کی سرحد پر ایک اور واقعہ اس سے مختلف صورت میں پیش آیا۔ یہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ واقعہ ہے جو اسلامی تاریخ میں صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔
اس وقت رسول اللہ علیہ وسلم اپنے دارِ ہجرت (مدینہ) میں تھے۔ ایک خواب کے مطابق آپ اپنے تقریباً ڈیڑھ ہزار اصحاب کے ساتھ عمرہ کے ارادہ سے مکہ کے لیے روانہ ہوئے۔ آپ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تھے کہ مکہ کے قریش نے آگے بڑھ کر آپ کو روکا۔ انھوں نے کہا کہ ہم آپ کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ آپ عمرہ کیے بغیر مدینہ واپس جائیں۔
قریش کا آپ کو عمرہ سے روکنا۔ یقینی طور پر ظلم اور سرکشی کا واقعہ تھا۔ بظاہر دیکھیے تو یہاں قریش مکہ بدلی ہوئی صورت میں وہی کردار ادا کر رہے تھے جو ۵۸ سال پہلے ابرہہ نے ادا کیا تھا۔ اب بظاہر یہ ہونا چاہیے تھا کہ جس طرح ابرہہ کے اوپر خدا نے آسمانی سزا بھیجی اسی طرح دوبارہ قریش کے اوپر آسمانی سزا آتی اور انھیں تباہ کر دیتی تاکہ وہ رسول اور اصحاب رسول کی راہ میں رکاوٹ
مگر ایسا نہیں ہوا۔ پھر اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس فرق کا کم از کم ایک سبب یہ ہے کہ ابرہہ کے حملے کے وقت فریق ثانی کے پاس وہ نظریاتی ہتھیار موجود نہ تھا جو پیغمبر اسلامؐ کے ساتھ حدیبیہ کے واقعہ کے وقت موجود تھا۔
ابرہہ کے حملے کے وقت ابھی قرآن کا نزول نہیں ہوا تھا۔ مگر اس کے ۵۸ سال بعد جب حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا، اس وقت پیغمبر آخر الزماں مبعوث ہو چکے تھے۔ اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنا سچا دین قرآن کی صورت میں بھیج دیا تھا۔
اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ دین کی اور اہلِ دین کی حفاظت فرمائے گا۔ تاہم ابرہہ کے زمانہ
میں اللہ تعالیٰ نے دین کی حفاظت کا انتظام اس طرح کیا کہ حق کے دشمنوں پر آسمان سے پتھر برسائے۔ مگر پیغمبر آخر الزماں کی بعثت کے بعد اب صورتِ حال بدل چکی تھی۔ اب اہل حق کے پاس دین فطرت کی صورت میں وہ طاقت ور ہتھیار موجود ہے جس کے آگے کوئی مخالفانہ ہتھیار کارگر نہیں ہو سکتا۔ لوگوں کے دلوں اور دماغوں پر حملہ کرتا ہے ۔ وہ دشمن کو دوست کے روپ میں بدل دیتا ہے ۔ انسان کو اندر سے مسخر کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ یہ دین بلاشبہ سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ آدمی کے پاس بڑا ہتھیار ہو تو چھوٹا ہتھیار استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ میں قریش سے دس سال کا نا جنگ معاہدہ کر کے لوٹے تو قرآن میں یہ آیت اتری کہ خدا نے تم کو کھلی فتح دے دی اور تم کو نصر عزیز سے سرفراز فرمایا (الفتح)، چنانچہ اس کے صرف دو برس بعد لوگوں نے دیکھا کہ جو لوگ اسلام کے دشمن بنے ہوئے تھے، وہ اسلام کے دوست اور اس کے دست و بازو بن گئے ہیں ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کے خلاف جو لوگ سرکشی کر رہے تھے، ان کے بارے میں قرآن میں کہا گیا ـــــــــ بلکہ ہم حق کو باطل پر ماریں گے تو وہ اس کا سر توڑ دے گا اور دفعہ وہ جاتا رہے گا (الانبیاء ۱۸)، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ عبدالمطلب کے زمانہ میں ابرہہ کے لشکر کو پتھروں سے مار کر ہلاک کیا گیا تھا، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سرکشی کرنے والوں کو خود حق کی ضرب سے مفتوح اور مغلوب کر دیا گیا ۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ فکری اور نظریاتی شکست ، فوجی شکست سے کہیں زیادہ سخت ہے ۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ایک جاری نبوت ہے۔ وہ قیامت تک باقی رہے گی ۔ اس دوسرے دور میں حق کے مخالفین کو زیر کرنے کے لیے انھیں کہہ کر پتھر مارنے کی ضرورت نہیں ۔ اہل حق کو چاہیے کہ وہ حق لے کر اٹھیں جس طرح پیغمبر اسلام حق لے کر اٹھے ۔ اور پھر تمام مخالفین حق ان کے سامنے سے بھاگتے ہوئے نظر آئیں گے : جاء الحق وَزَهَقَ الباطل إنّ الباطل كان زهوقا (حق آیا اور باطل مٹ گیا ، اور باطل تھا ہی مٹنے والا )