Al-Risala · August 1988

نظریۂ ارتقاء

Al-Risala, August 1988, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

چارلس ڈارون (۱۸۸۲ء - ۱۸۰۹) نے یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ زندگی ارتقائی عمل ذریعے ظہور میں آئی ہے۔ یعنی ابتدا از پانی اور کیچڑ کے تعامل سے زندگی کا پہلا جرثومہ بنا۔ پھر لمبی مدت تک وہ مختلف ارتقائی مراحل سے گزرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ نوع بن کر تیار ہوئی جس کو انسان کہا جاتا ہے۔ یہ نظریہ لوگوں کو بہت پسند آیا اور ابتدا میں اس کو غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی، مگر بعد کی بعض تحقیقات نے اس کو ناقابلِ فہم بنا دیا۔ اس میں سے ایک زمین کی عمر تھی۔ سائنسی طریقوں کو استعمال کر کے زمین کی عمر تقریباً متعین طور پر معلوم ہو گئی۔ مگر یہ عمر ارتقائی مفروضہ سے مطابقت نہیں رکھتی کیوں کہ سائنس نے زمین کی جو عمر بتائی وہ اتنی کم تھی کہ مفروضہ ارتقائی عمل کے لیے وہ کسی طرح کافی نہیں ہو سکتی۔

اس دریافت کے بعد ارتقاء پسند علماء نے ایک اور دعویٰ کرنا شروع کیا۔ انھوں نے کہا کہ ارتقاء کا نظریہ بذاتِ خود صحیح ہے۔ البتہ ارتقاء کا ابتدائی عمل زمین پر نہیں ہوابلکہ بالائی خلا میں ہوا۔ بالائی خلا میں ستاروں کے اوپر زندگی کا ابتدائی جرثومہ تیار ہوا۔ پھر وہ وائرس اور بیکٹیریا کی صورت میں دم دار ستارہ (Comet) کی دم پر سوار ہو کر زمین تک پہنچا۔ اس نظریہ کے علم بردار خاص طور پر دو امریکی سائنس داں تھے، ان کے نام یہ ہیں :

Printed page