Al-Risala · August 1988

عبرت ناک

Al-Risala, August 1988, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان کی آزادی کے ذیل میں ہندوستانی علماءءء کی تقریریں سنیے یا ان کی تحریریں پڑھیے تو اس میں ہمیشہ علما کی زبردست قربانیوں کا تذکرہ ہو گا ۔ زور پر جوش طور پر یہ کہا جائے گا کہ ہندوستان کو آزادی ہم نے دلائی ۔ علما اور مسلم عوام لاکھوں کی تعداد میں قربان نہ ہو گئے ہوتے تو انگریز نہ ہندوستان کے مطالبہ آزادی کو تسلیم نہیں کر سکتا تھا۔

یہ بات اگرچہ کلی طور پر نہیں تاہم جزئی طور پر یقیناً صحیح ہے ۔ مگر حیرت ناک بات یہ ہے کہ علما کے دعوؤں کے باہر اس کا اعتراف کہیں موجود نہیں۔ ہندوستان میں قومی سطح پر آزادی کی جو تاریخیں لکھی گئی ہیں ان میں علما و ہند کا یہ " شاندار باب " بالکل حذف ہے۔ یہی نہیں بلکہ ہندوستان سے باہر عالمی سطح پر ہندوستان کی آزادی کی تاریخ کے بارے میں جو کچھ لکھا گیا ہے۔ اس میں بھی اس کا تذکرہ موجود نہیں ۔ اس کی ایک مثال انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) کا وہ مضمون ہے جو سبھاش چندر بوس (۱۹۴۵-۱۸۹۷) کے عنوان کے تحت درج کیا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں جب جاپانیوں نے سنگاپور پر قبضہ کر لیا تو سبھاش چندر بوس جاپان پہنچے۔ وہاں انھوں نے اکتوبر ۱۹۴۳ میں " آزاد ہند حکومت " کی بنیاد ڈالی ۔ اور اس کے تحت ایک آزاد ہند فوج (Indian National Army) بنائی ۔ اس فوج کے افراد زیادہ تر وہ ہندوستانی فوجی تھے جو انگریزی فوج میں شامل تھے اور جنھوں نے جاپان کی فتح کے بعد ہتھیار ڈال دیے تھے۔ سبھاش چندر بوس اس فوج کو لے کر رنگون پہنچے تاکہ وہاں سے ہندوستان کی طرف مارچ کر سکیں ۔ یہاں ان کا مقابلہ انگریزی فوج سے ہوا جس میں انھیں شکست ہوئی ۔ اس کے بعد ان کا دل ٹوٹ گیا ۔ ایک حادثہ کا شکار ہو کر وہ کچھ دن جاپان کے اسپتال میں رہے اور وہیں ۱۹ اگست ۱۹۴۵ کو انتقال کر گئے۔

سبھاش چندر بوس کے تذکرے کے تحت انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا میں لکھا گیا ہے کہ سبھاش چندر بوس نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ برطانی فوج کے ہندوستانی سپاہیوں میں بھی حب وطن کا جوش پیدا کیا جا سکتا ہے ۔ اپنے اس عمل سے انھوں نے وہ اثرات ڈالے جو بالاخر ہندوستان الہ اگست ۱۹۸۸ ۲۱

کی آزادی تک پہنچے :

اس اقتباس کو پڑھنے کے بعد میں نے سوچا کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ جس واقعہ کو ہندوستانی علماء اپنے خانہ میں درج کیے ہوئے ہیں وہ عالمی ریکارڈ میں " سبھاش چندر بوس" کے خانہ میں لکھا ہوا نظر آتا ہے۔ اس سوال کا جواب مجھے اس وقت ملا جب کہ میں نے انسائیکلو پیڈیا میں سبھاش چندر بوس کے مذکورہ مضمون کے نیچے اس کی کتابیات (Bibliography) دیکھی۔ میں انگریزی کتابوں کی ایک لمبی فہرست ہے جو سبھاش چندر بوس کی زندگی اور ان کی جدوجہد کے بارے میں لکھی گئی ہیں اور جن سے معلومات اخذ کرتے ہوئے یہ مضمون تیار کیا گیا ہے۔ دنیا کو اس قسم کی " کتابیات" نہ دے سکے۔ اس لیے دنیا نے نہ ان کو جانا اور نہ ان کا تذکرہ کیا۔ موجودہ زمانہ میں جو مسلم علماء قیادت کے لیے اٹھے ان کی سب سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ وہ انگریزی زبان یا اور کسی مغربی زبان سے ناواقف تھے۔ مزید یہ کہ انھوں نے انگریزی تعلیم کا مسلسل اس طرح استخفاف کیا کہ قوم کے دوسرے لوگ بھی بہت کم انگریزی تعلیم کی طرف مائل ہو سکے ۔ اور جو شخص انگریزی تعلیم کی طرف گیا وہ بھی یہ سمجھ کر گیا کہ وہ علماء سے اور ان کے مذہب سے باغی ہو کر انگریزی تعلیم کی طرف جا رہا ہے۔ اس انحراف کے بعد وہ علماء کے کام نہیں آ سکتا تھا اور نہ وہ ان کے کام آیا۔ انسائیکلو پیڈیا یا دوسری مغربی کتابوں کے مذکورہ بیانات کو عام مسلمان اور خود ہمارے علماء " مستشرقین کے تعصب " کے خانہ میں ڈالتے ہیں۔ مگر میں اس کو خود علماء اور مسلمانوں کی اپنی کمی کے خانہ میں ڈالتا ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنی کمی کو دور کر کے ہی اس تاریخی صورت حال کو بدل سکتے ہیں، تعصب اور سازش کا الزام لگانے سے نہ اب تک کوئی فائدہ ہمیں ملا ہے اور نہ آئندہ اس سے کوئی فائدہ ہمیں مل سکتا ہے۔

Printed page