Al-Risala · August 1988

ایک سفر

Al-Risala, August 1988, pp. 23–24

By Maulana Wahiduddin Khan

17 مئی ۱۹۸۸ کو رمضان کے مہینہ کی آخری تاریخ تھی اور ۲ بجے دن کا وقت۔ میں دہلی میں اپنے دفتر میں تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ رسیور اٹھایا تو معلوم ہوا کہ حیدرآباد سے جناب احمد بختیار الدین صاحب بول رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ساتھیوں کے مشورہ سے حیدر آباد کے اجتماع کے لئے ۳۔ ۵ جون ۱۹۸۸ کی تاریخ طے ہوئی ہے۔ میں نے اپنی ڈائری دیکھ کر ان تاریخوں سے اتفاق کیا ، اور دو ٹ کے بعد گفتگو ختم ہوگئی۔

یہ مواصلات (Communication) کا ایک معاملہ تھا۔ موجودہ زمانہ میں مواصلات کی بے حد اہمیت ہوگئی ہے۔ قدیم زمانہ میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پیغام پہنچانے کے لئے ہفتوں اور مہینوں لگ جاتے تھے۔ جدید مواصلاتی ذرائع کی دریافت نے اُس چیز کو ممکن بنا دیا ہے جس کو فوری انتقال خبر (Instantaneous transmission) کہا جاتا ہے۔ اور جس کے ذریعہ سے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ لکھے یا بولے ہوئے الفاظ کو بلاتأخیر دنیا کے کسی بھی حصے میں پہنچایا جاسکے (10/655) ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی عجیب نعمت ہے۔ اس نے انسانی شخصیت کو آفاقی وسعت دیدی ہے۔ نعمت کا سب سے زیادہ استعمال دعوت کے لئے ہونا چاہئے تھا۔ مگر آج اس کا سب سے کم استعمال جہاں ہو رہا ہے وہ دعوت ہی ہے۔ کچھ لوگ اپنے دعوے کے مطابق جدید ذرائع کو دعوت میں استعمال کر رہے ہیں۔ مگر یہ محض غلط فہمی ہے۔ یہ لوگ جس کام میں مشغول ہیں وہ من مناظرہ بازی، سیاسی جھگڑے اور دنیوی ہنگامے ہیں نہ کہ حقیقۃً دعوت الی اللہ مسلمانوں کی موجودہ سرگرمیاں دراصل ان کے قومی فخر کا جب کہ دعوت الی اللہ وہ مقدس عمل ہے جو ایک طرف خوف خدا اور ندمی اور دوسری طرف شفقت انسانی کے جذبہ کے تحت ظاہر ہوتا ہے۔

دہلی سے حیدرآباد کا سفر انڈین ایرلائنس کی فلائٹ نمبر ۳۹۴ کے ذریعہ ہوا۔ ۳ جون ۱۹۸۸ کی صبح کو حیدرآباد کے ہوائی اڈہ پر اترا تو وہاں ۳۱ درجہ گرمی تھی اور تیز ہوا چل رہی تھی۔ ہوائی جہاز سے ہوائی اڈہ کی عمارت تک پیدل سفر کرنا تھا۔ میں چل رہا تھا کہ میری دو پلی ٹوپی سر سے اُڑ گئی اور وسیع پختہ میدان میں ہوا کے ساتھ تیزی سے بھاگنے لگی۔ میں چند قدم اس کی طرف بڑھا۔ مگر جس تیزی سے وہ

مخالف سمت میں بھاگی جا رہی تھی ، میں نے محسوس کیا کہ میرے جیسے کمزور آدمی کے لئے اُس تک پہنچنا ممکن نہیں ہوائی اڈہ کے اسٹاف کا ایک آدمی جو اپنے لباس سے کوئی افسر معلوم ہو رہا تھا ، اس نے یہ منظر دیکھا تو وہ اس کو پکڑنے کے لئے آگے بڑھا ، اور دوڑ کر ٹوپی کو اٹھا لایا ۔ میں نے پوچھا کہ آپ کا نام ۔ اس نے اپنا دونوں ہاتھ جوڑ کر کہا : "گوئل پٹیل"

اس واقعہ کے بعد میں نے سوچا کہ اس دنیا میں ہر آدمی اچھا آدمی ہے ۔ وہ صرف اس وقت برا آدمی بن جاتا ہے جب کہ ہم اپنی نادانی سے اس کو چھیڑیں اور اس کی انا کو جگا دیں۔ انا کے جاگنے کے بعد اپنی قوم کا آدمی بھی اتنا ہی خونخوار ہو جاتا ہے جتنا کوئی غیر قوم کا آدمی ۔ جہاز کے اندر میں اخبار پڑھ رہا تھا ۔ آج تمام اخبار میں مسٹر راج کپور کے انتقال کی خبر تھی جن کو ہندوستان کا سب سے بڑا نمائشی انسان (Showman) کہا جاتا ہے ۔ ایک اخبار نے حسب ذیل الفاظ میں اس کی سرخی لگائی تھی :

Printed page