Al-Risala · August 1988

The end of a living legend.

Al-Risala, August 1988, pp. 24–27

By Maulana Wahiduddin Khan

میں انھیں خیالات میں تھا کہ اناؤنسر نے اعلان کیا " اب سے کچھ سے بعد ہمارا جہاز حیدر آباد اترنے میں نے سوچا کہ ایک کا جہاز اتر چکا ، دوسرے کا جہاز اترنے والا ہے ۔ اسی طرح تمام لوگوں کے " جہاز " خدا کی دنیا میں اتر جا ئیں گے۔ یہ لمحہ بہ حال ہر ایک پر آنے والا ہے ، کوئی اُس کو ٹال نہیں سکتا۔ تا ہم کسی کے لئے اس کا اترنا محفوظ اترنا (Safe landing) ہو گا ، اور کسی کے لئے اس کا اتر نا تباہی کا اترنا (Crash landing) ۔

حیدر آباد میں میرا قیام جناب حبیب بھائی کی رہائش گاہ پر تھا۔ یہاں لوگ برابر آتے رہے اور ان سے دعوتی و تعمیری موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی ۔ اندازہ ہوا کہ حیدر آباد میں اسلامی مرکز کے پیغام کی اشاعت کا کام کافی بڑھ رہا ہے اور دن بدن بڑھتا جا رہا ہے ۔ تعلیم یافتہ طبقہ عام طور پر اس مشن سے واقف ہو چکا ہے۔ الرسالہ اکیڈمی اور دوسرے بہت سے انفرادی اشخاص الرسالہ اور اس کے مشن کو پھیلانے میں مسلسل مصروف ہیں ۔

حیدر آباد کا ذکر ہوتا ہے تو لوگ عام طور پر نظام کی دولت کا ، چار مینار کا ، سالار جنگ میوزیم کا اور اس طرح کی دوسری چیزوں کا ذکر کرتے ہیں۔ مگر میرا ذوق اس معاملہ میں بالکل مختلف ہے ۔

حیدر آباد کے تمام معلوم واقعات میں مجھ کو سب سے زیادہ جو واقعہ پسند ہے وہ تقریباً ۸۰ سال پہلے پیش آنے والا واقعہ ہے۔ یہ ڈاکٹر نشی کانت چٹو پادھیای کے قبولِ اسلام کا واقعہ ہے۔ پچھلی صدی میں لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں کے حالاتِ زندگی میں نے پڑھے ہیں۔ مگر جس گہرے شعور کے ساتھ ڈاکٹر نشی کانت چٹوپادھیای نے اسلام قبول کیا، اس کی مثال، میرے علم کی حد تک کسی دوسرے کے یہاں نہیں ملتی۔

اگھور ناتھ چٹو پادھیای ایک بنگالی برہمن تھے۔ انھوں نے بنگال سے آکر حیدر آباد میں رہائش یہاں وہ نظام کالج کے پرنسپل تھے۔ سرجنی نائیدو (ص ۱۹۴۹ - ۱۸۷۹) انھیں کی بڑی صاحبزادی تھیں جنھوں نے اپنی مختلف خصوصیات کی بنا پر کافی شہرت حاصل کی ۔ بوقتِ انتقال وہ اتر پردیش کی گورنر تھیں۔

ڈاکٹر نٹشی کانت چٹو پادھیای اسی خاندان کے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد تھے۔ وہ مہاراجہ کالج میسور میں تاریخ کے استاد تھے۔ اس کے بعد وہ حیدر آباد کالج کے پرنسپل مقرر ہوئے۔ وہ بیک وقت کئی زبانیں جانتے تھے۔ ان کے اندر حق کی تلاش کا جذبہ ابھرا۔ انھوں نے مختلف ممالک کا سفر کیا۔ فلسفہ اور مذہب کا نہایت تفصیلی مطالعہ کیا۔ آخر میں وہ اسلام کی صداقت پر مطمئن ہوئے اور اسلام قبول کرکے اپنا نام محمد عزیز الدین رکھا۔ ان کی دو کتابیں برٹش میوزیم (لندن) میں موجود ہیں جن کو اسی زمانہ میں لوزاک (Luzac and Sons) نے چھاپا تھا۔ ان کتابوں کو جناب حسن الدین احمد صاحب نے دوبارہ چھپوا دیا ہے ۔ ان کے نام یہ ہیں :

1. Muhammad: The Prophet of Islam 2. Why Have I Accepted Islam یہ دونوں در اصل دو لکچر ہیں جو بالترتیب ۲۵ نومبر ۱۹۰۴ اور ۲۶ نومبر ۱۹۰۴ کو حیدر آباد میں دئے گئے ۔ ایک لکچر میں انھوں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ حیدر آباد میں اسلامی دعوت کا ایک سنٹر قائم کیا جائے ( ملاحظہ ہو عظمتِ قرآن، صفحہ ۴۶ - ۱۴۵)، یہ بلاشبہ اہم ترین بات تھی جو ایک بندہ خدا کی زبان سے ادا ہوئی ۔ مگر اس تجویز پر ۸۰ سال بیت گئے اور کسی نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔ راقم الحروف نے ۱۹۸۳ میں اس مقصد کے لئے حیدر آباد میں ایک دعوتی مرکز قائم کرنا چاہا۔ اس کی عملی

صورتیں بھی پیدا ہوئیں ۔ مگر جلد ہی لوگوں کی بے حسی اور اخلاقی پستی نے اس قیمتی منصوبہ کو خاک میں

خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب حالات میں بگاڑ پیدا ہوا تو کچھ لوگوں نے حضرت علی سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ عمر فاروق کے زمانہ میں حالات درست تھے اور آپ کے زمانہ میں حالات بگڑ گئے ۔ اس کے جواب میں حضرت علی نے فرمایا کہ ” عمر کے ساتھی میرے جیسے لوگ تھے ، میرے ساتھی تمہارے جیسے لوگ ہیں “۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر منصوبہ سب سے پہلے قابلِ اعتماد افراد چاہتا ہے ۔ اگر قابلِ اعتماد افراد حاصل نہ ہوں تو بہتر سے بہتر منصوبہ بھی زیرِ عمل نہیں لایا جا سکتا ، حتی کہ ” خلیفہ راشد “ کی موجودگی میں بھی نہیں۔

۱۸۵۷ کی ” جنگ آزادی “ انگریزوں اور ہندوستانیوں کے درمیان تھی۔ اس جنگ میں حیدر آباد کے مسلم حکمران (نظام) نے انگریزوں کا ساتھ دیا۔ قومی اصطلاح میں یہ واضح طور پر ” غداری “ کا کیس تھا۔ مگر بعد کی تقریبا سو برس کی تاریخ بتاتی ہے کہ ” غدارِ نظام “ سے ملت کو بے شمار فائدے پہنچے۔ ” مجاہدِ نظام “ سے ملت کو کسی بھی قسم کا کوئی مثبت فائدہ نہ پہنچ سکا۔

موجودہ زمانہ میں بیشتر اسلامی ادارے عربوں کے ” پٹرول ڈالر “ کی امداد پر چل رہے ہیں۔ تمام مشہور شخصیتوں کے پیچھے یہی پٹرول ڈالر کی طاقت ہے۔ پٹرول ڈالر کے ظہور سے پہلے یہی حیثیت نظام حیدر آباد کو حاصل تھی۔ اس زمانہ میں برصغیر کے اکثر اسلامی ادارے نظام کے مالی تعاون کی بنیاد پر چل رہے تھے۔ اسی طرح حیدر آباد کے نواب نے دوسرے بہت سے ملی مفاد والے کام کئے ہیں جن کی تفصیل کا یہاں موقع نہیں۔

پچھلے ڈیڑھ سو برس کی تاریخ ہنگامہ خیز مسلم تحریکوں کی تاریخ ہے۔ ان تحریکوں نے مسلمانوں کے جان و مال کو بر باد تو ضرور کیا جس کو بطور خود انھوں نے قربانی کا شاندار نام دیا ہے۔ مگر ان میں کوئی بھی قابلِ ذکر مسلم تحریک نہیں جس نے مسلمانوں کو حقیقی معنوں میں کوئی مثبت فائدہ پہنچایا ہو۔ اس کا کم از کم ایک بنیادی سبب یہ تھا کہ ان تحریکوں کے قائدین نے ممکن اور ناممکن کے فرق کو نہیں سمجھا۔ وہ ممکن کو چھوڑ کر ناممکن کے پیچھے دوڑتے نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ممکن کو حاصل کرنے میں بھی ناکام رہے۔

اس کی ایک مثال ” ریاست حیدر آباد “ کا معاملہ ہے جو ۱۹۴۸ کے انقلاب کے دوران طوفان

کی طرح اٹھا اور گرد و غبار کی طرح ختم ہو گیا۔ اس کی وجہ ہمارے قائدین کی یہی غیر حقیقت پسندانہ سیاست انھوں نے اس راز کو نہیں جانا جس کو ایک مفکر نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے کہ سیاست ممکن کا فن ہے :

Printed page