Al-Risala · January 1988

عمر بن عبد العزیز شوریٰ

Al-Risala, January 1988, pp. 2–5

By Maulana Wahiduddin Khan

عمر بن عبدالعزیز (۱۰۱ - ۶۱ھ) بنو امیہ کے امراء میں سے تھے۔ ان کی ابتدائی زندگی تعیش کی ان کی رئیسانہ چال اتنی مشہور ہوئی کہ اس کو عمری چال (المشية العمرية) کہا

۹۹ھ میں سلیمان بن عبد الملک اموی کی وفات ہوئی۔ اس کی وصیت کے مطابق حضرت عمر بن عبدالعزیز خلیفہ مقرر ہوئے۔ وہ اگرچہ بظاہر عیش و عشرت کے ساتھ رہتے تھے۔ مگر ان کے سینہ میں ایک درد مندانہ دل تھا۔ چنانچہ خلافت کے عہدہ پر تقرر کے بعد ان کی زندگی بالکل بدل گئی۔ داری کے احساس نے ان سے دنیوی لذت و آرام کا احساس چھین لیا۔ ان کے ایک ساتھی ان کے بارے میں کہتے ہیں :

رأيته في المدينة وهو أحسن الناس ملبساً میں نے ان کو مدینہ میں دیکھا اور وہ سب سے بہتر ومن أطيب الناس ريحاً ومن أخيل الناس لباس میں تھے۔ اور سب سے اچھی خوشبو لگائے في مشيته - ثم رأيته بعد ذالك ہوئے تھے۔ اور سب سے زیادہ امیرانہ چال چلتے يمشى مشيّة الرهبان - تھے۔ پھر میں نے ان کو اس کے بعد دیکھا کہ وہ درویش کی چال چل رہے تھے۔

عمر بن عبدالعزیز علم میں اتنے بڑھے ہوئے تھے کہ ان کی بابت ایک معاصر عالم نے کہا : ما كان العلماء عند عمر بن عبد العزيز الاستلاميذ (عمر بن عبدالعزیز کے سامنے علماء محض شاگرد معلوم ہوتے تھے)

عمر بن عبدالعزیز سے پہلے بنو امیہ کے خلفاء نہایت شان و شوکت کے ساتھ رہتے تھے، مگر انہوں نے اس قسم کی تمام چیزوں کو چھوڑ دیا۔ خلافت کے عہدہ پر فائز ہونے کے بعد ان کے سامنے شاہانہ سواری لائی گئی جو نہایت شاندار اور مزین تھی، مگر انہوں نے اس کو قبول نہیں انہوں نے کہا کہ میرا جانور میرے لیے زیادہ ٹھیک ہے (دَابَّتِي اوفق لی) حضرت عمر بن عبدالعزیز کے اصول پر نہایت شدت کے ساتھ قائم تھے۔

کے عہدہ پر ان کا تقرر سابق خلیفہ کی وصیت کے تحت ہوا تھا۔ مگر انہوں نے اس کو کافی نہیں سمجھا۔ اس سلسلہ میں تاریخ کا بیان ہے :

وجمع الناس في المسجد، وكان من قوله لهم: إنّي قد خلعْتُ ما في أعناقكم من بيعَتي، فأخْتاروا لأَنفُسِكُم. فصاحَ الناسُ صيحةً واحدةً : قَد اخْتَرنا لَك يا امير المومنين - عمر بن عبد العزيز نے تقرری کے بعد لوگوں کو دمشق کی جامع مسجد میں جمع کیا۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ میری بیعت کا قلادہ جو تمہاری گردن میں تھا اس کو میں نے اتار دیا۔ پس تم خود اپنے لیے کسی کو پسند کرکے خلیفہ بنالو۔ یہ سن کر تمام لوگ ایک آواز ہو چیخ اٹھے ؛ اے امیر المومنین ہم آپ ہی کو منتخب کرتے ہیں۔

سابق خلیفہ سلیمان بن عبد الملک کے انتقال کے بعد لوگ مسجد میں جمع کیے گیے۔ بن حیوہ نے سلیمان بن عبد الملک کا وہ وصیت نامہ پڑھ کر سنایا جس میں عمر بن عبد العزیز کو خلیفہ نامزد کیا گیا تھا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز کا حال اس وقت یہ تھا کہ وہ خلافت کے لیے اپنا نام سن کر انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھ رہے تھے۔ اس تحریر کو سن کر وہ اپنی جگہ پر بیٹھے رہ گیے۔ ایک شخص نے ہاتھ پکڑ کر انھیں اٹھایا اور لے جاکر منبر پر بٹھایا۔ اس کے بعد خلافت کی بیعت جب آپ بیعت سے فارغ ہو کر گھر واپس آئے تو آپ کی داڑھی آنسوؤں سے تر تھی۔ خلافت کے بعد آپ کی خدمت میں سواری کے لیے شاہی گھوڑے پیش کیے گئے تو آپ نے فرمایا : میرا جانور میرے لیے زیادہ بہتر ہے (دابتی اوفق لی) اسی طرح آپ سے کہا گیا کہ شاہی محل میں قیام کریں۔ آپ نے فرمایا کہ میرا خیمہ میرے لیے کافی ہے ( في فسطاطی

سلیمان بن عبد الملک کا ایک بھتیجا عبد العزیز بن ولید بن عبد الملک تھا۔ سلیمان بن عبد الملک کی وفات کے وقت وہ دار الخلافہ سے باہر تھا۔ اس کو عمر بن عبد العزیز کی بیعت کا حال معلوم نہ چنانچہ اس نے سلیمان کی وفات کی خبر سن کر خلافت کا دعویٰ کر دیا اور اپنی فوج لے کر دمشق کی طرف روانہ ہوگیا۔ جب وہ دمشق پہنچا اور اس کو معلوم ہوا کہ عمر بن عبد العزیز کے

ہاتھ پر خلافت کی بیعت ہوئی ہے تو بلا تاخیر وہ ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی۔

عبد العزيز بن ولید نے کہا کہ مجھ کو آپ کی بیعت کا حال معلوم نہ تھا، ورنہ میں اپنی خلافت کا اعلان نہ کرتا۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے کہا کہ اگر تم خلافت کے لیے کھڑے ہو جاتے تو میں ہرگز تمہارے مقابلہ پر نہ آتا بلکہ اس سے الگ ہو کر اپنے گھر میں بیٹھ جاتا۔ عبد العزیز بن ولید نے کہا کہ خدا کی قسم آپ کی موجودگی میں کسی اور کو میں خلافت کا مستحق نہیں سمجھتا۔ مسلمانوں میں انتہا پسند خوارج کا ایک طبقہ پیدا ہو گیا تھا۔ وہ حضرت علی کے زمانہ سے ہر حکمراں کے خلاف جنگ چھیڑے رہتا تھا۔ مگر جب عمر بن عبد العزیز خلیفہ ہوئے تو خوارج نے حکومت سے لڑائی ختم کر دی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے لیے جائز نہیں کہ ہم ایسے صالح آدمی سے جنگ کریں ( ما ينبغى لنا أن نقاتل هذا الرجل )

عمر بن عبد العزیز ابتدا سر سے ایک حق پرست اور با اصول آدمی تھے۔ خلافت سے پہلے وہ مدینہ کے امیر تھے ۔ ان کو حجاج بن یوسف کے ظلم کا حال معلوم ہوا تو انھوں نے اس کی شکایت لکھ کر خلیفہ کے نام روانہ کی۔ مگر حجاج خلیفہ کے ذہن پر چھایا ہوا تھا۔ کی معزولی تو نہیں ہوئی۔ البتہ اس شکایت کی بنا پر خود عمر بن عبد العزیز امارت مدینہ سے معزول کر دیے گئے۔ یہ واقعہ ۹۳ ھ کا ہے۔

خراسان کے عامل جراح بن عبد اللہ نے حضرت عمر بن عبد العزیز کو لکھا کہ اہل خراسان بہت نا ہموار لوگ ہیں، وہ تلوار کے بغیر سیدھے نہیں ہوں گے۔ اس لیے ان کے خلاف تلوار کے استعمال کی اجازت دی جائے ۔ حضرت عمر بن عبد العزیز نے جواب میں لکھا کہ تم جھوٹ کہتے ہو کہ اہل خراسان تلوار کے بغیر درست نہ ہوں گے۔ انصاف کرنا اور حق دار کو اس کا حق پہنچانا وہ چیزیں ہیں جو ہر ایک کو درست کر دیتی ہیں۔ اس لیے تم ان کے درمیان انھیں دونوں چیزوں کی اشاعت کرو۔ وقت کے تمام علماء نے آپ کے غیر معمولی علم کی گواہی دی ہے ۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہم عمر بن عبد العزیز کے پاس اس خیال سے آئے کہ وہ ہم سے کچھ سیکھیں گے ، مگر ان کے پاس آنے کے بعد ہمیں خود ان سے سیکھنا پڑا ۔ اس سے مراد کتابی علم نہیں ، بلکہ وہ علم ہے جو

خشیتِ خداوندی (مناظر ۲۸) سے پیدا ہوتا ہے۔ کتابی علم کی ایک حد ہے، مگر خشیت کے ذریعہ ملنے والے علم کی کوئی حد نہیں۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز کا دینی مقام اتنا بلند ہے کہ وہ عمر ثانی کہے جاتے ہیں۔ مخالفین تک ان کی عظمت اور پاکبازی کا اعتراف کرتے تھے۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا (1984) کے مقالہ نگار نے لکھا ہے کہ بنو امیہ میں وہ واحد شخص تھے جن کا احترام بعد کو آنے والے بنو عباس کرتے تھے، حتیٰ کہ وہ شیعوں کے درمیان بھی انتہائی محترم سمجھے جاتے تھے جو دوسرے مسلمانوں سے الگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد علی کی پیروی کرتے ہیں :

جراح بن عبد اللہ اسلمی خراسان کے عامل (گورنر) تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس شکایت پہنچی کہ اہل ذمہ میں سے جو لوگ اسلام قبول کر لیتے ہیں، جراح بن عبداللہ ان سے بھی جزیہ وصول کرتے ہیں۔ آپ نے فوراً جراح بن عبداللہ کے پاس یہ حکم بھیجا کہ جو شخص نماز پڑھتا ہو اس کا جزیہ معاف کر دیا جائے۔ اس خبر کو سننے کے بعد لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہونے لگے ۔

جراح بن عبداللہ نے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے کہا کہ اگر ایسی پالیسی اختیار کی گئی تو ہماری آمدنی بہت کم ہو جائے گی اور حکومت کو سخت مالی نقصان ہوگا۔ آپ نے فرمایا : تمہارا برا ہو، محمد ہدایت کے لیے بھیجے گئے تھے نہ کہ مال گزاری وصول کرنے کے لیے (ویحک إن محمداً بعث هادياً ولم يبعث جابياً)

Printed page