Al-Risala · August 1988

Safety first, speed next.

Al-Risala, August 1988, pp. 35–43

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کو دیکھ کر خیال آیا کہ آدمی اگر اپنے آپ میں گم ہو جائے تو وہ "اسپیڈ کو اہمیت دے گا۔ اور اگر وہ جانے کہ سڑک پر وہ تنہا نہیں ہے، بلکہ بہت سے دوسرے لوگ بھی یہاں اپنی اپنی دوڑ لگا رہے ہیں تو وہ سیفٹی کو سب سے زیادہ اہم سمجھے گا۔ یہی وسیع تر زندگی کا اصول بھی ہے سڑک کا وہی مسافر حفاظت کے ساتھ اپنی منزل پر پہنچتا ہے جو دوسروں کی رعایت کرتے ہوئے اپنا سفر جاری کرے۔ اسی طرح زندگی میں وہی شخص محفوظ رہ سکتا ہے جو دوسروں کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھے اور دوسروں کا لحاظ کرتے ہوئے اپنی زندگی کا سفر طے کرے ۔ یہاں دوسرے کو فرسٹ بنانا پڑتا ہے اور اپنے آپ کو نیکٹ" اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی اس دنیا میں اپنی مطلوبہ منزل پر بحفاظت پہنچ سکے۔

محبوب نگر میں دو پروگرام ہوئے۔ یہاں مدرسہ سراج العلوم مولانا امیر اللہ خاں کی زیرنگرانی چل رہا ہے۔ مجھے اس کی لائبریری اور اسٹاف کوارٹرس کا سنگ بنیاد رکھنے کے لئے بلایا گیا تھا۔ بنیاد رکھنے سے پہلے ایک جلسہ ہوا جس میں دینی تعلیم اور مدارس عربیہ کی اہمیت پر تقریر کی گئی۔ اس موقع پر میں نے کہا کہ بعض لوگ ناسمجھی کی بنا پر عربی مدارس کا استخفاف کرتے ہیں۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ ان مدارس میں تحفیظ قرآن کا شعبہ رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ پریس کے دور میں قرآن کے لاکھوں نسخے چھپ کر ہر جگہ پھیل چکے ہیں۔ ایسی حالت میں قرآن کا حفظ غیر ضروری ہے۔

میں نے کہا کہ یہ حفاظت بالائے حفاظت کا معاملہ ہے۔ جیسے مولانا آزاد کی کتاب کے تئیس صفحے بیک وقت دو جگہ محفوظ کئے گئے ہیں، کلکتہ میں اور دہلی میں ۔ تاکہ ایک نسخہ اگر کسی وجہ سے ضائع ہو جائے

تو دوسرا نسخہ موجود ہے۔ قرآن کی کاغذی طباعت کے ساتھ قرآن کی صدری تحفیظ اسی قسم کی ایک تدبیر ہے۔ یہ گویا ایک حفاظت کے اوپر دوسری حفاظت کا اضافہ ہے۔ یہ اہتمام مزید کی ایک صورت ہے جو ہر اہم دستاویز کے ساتھ ہمیشہ اختیار کی جاتی ہے۔

محبوب نگر میں کچھ لوگوں نے کریسنٹ پبلک اسکول (انگلش میڈیم) کھولا ہے۔ ۵ جون کی شام کو اس کی افتتاحی تقریب تھی۔ اس کے صدر شری رام چندر ریڈی ایڈوکیٹ تھے۔ مجھ کو اس موقع پر چیف گیسٹ کے طور پر بلایا گیا تھا۔ میں نے اپنی تقریر میں خاص طور پر یہ بتانے کی کوشش کی کہ اسلام علم کے حصول کو کتنی زیادہ اہمیت دیتا ہے۔

اس سلسلہ میں میں نے تاریخ اسلام کا یہ واقعہ پیش کیا کہ بدر کے قیدیوں کے لئے یہ ند یہ مقرر کیا گیا کہ اگر وہ دس مسلم نوجوانوں کو پڑھا دیں تو انہیں چھوڑ دیا جائے گا۔ یہ قیدی بدترین قسم کے جنگی مجرم تھے۔ ان کو چھوڑنے میں واضح طور پر یہ اندیشہ تھا کہ وہ منظم ہو کر دوبارہ مدینہ پر حملہ اور فی الواقع انھوں نے غزوہ احد کی شکل میں ایسا ہی کیا۔ تاہم اس واضح اندیشہ کے باوجود انہیں تعلیم کی خاطر چھوڑ دیا گیا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں علم کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ ہر خطرہ اور اندیشہ کو نظر انداز کر کے اس کو حاصل کیا جانا چاہئے ۔ جب علم اور دوسری مصلحتوں کے درمیان انتخاب کا معاملہ ہو تو علم کا انتخاب کیا جائے نہ کہ دوسری مصلحتوں کا۔ محبوب نگر کے تعلیم یافتہ طبقہ میں الرسالہ کافی پھیل رہا ہے۔ اور اس کا ذریعہ ایجنسی ہے۔ خدا کے فضل سے ہر جگہ ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو ذاتی دلچسپی کے تحت الرسالہ کی ایجنسی چلاتے ہیں اور مخالفین کی مخالفت کے باوجود پورے عزم کے ساتھ اس تعمیری کام پر جمے ہوئے ہیں۔ سے ایک محبوب نگر کے محمد عقیل احمد خاں ہیں۔ وہ ایک باہمت نوجوان ہیں اور مقصد ہی لگن کے تحت الرسالہ (اردو، انگریزی) کی ایجنسی نہایت باقاعدگی کے ساتھ چلا رہے ہیں۔ اس قسم کے لوگ بلا شبہ الرسالہ کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ میں نے ایک مجلس میں کہا کہ جس شخص نے الرسالہ کو ایک بار پڑھا اس نے الرسالہ کو نہیں پڑھا، جس نے الرسالہ کو دو بار پڑھا اس نے الرسالہ کو پڑھا ۔ اسی طرح جو شخص زبانی طور پر الرسالہ سے اتفاق کرے اس الرسالہ سے اتفاق نہیں کیا، الرسالہ سے اتفاق کرنے والا وہ ہے جو الرسالہ کی ایجنسی لے کر اس کو لوگوں کے درمیان

الرسالہ ایک مشن ہے ، اور مشن سے اتفاق کبھی جامد ہو کر نہیں رہ سکتا۔ یہ اپنی فطرت کے اعتبار سے ایک تو سیعی جذبہ ہے۔ جو اتفاق تو سیع نہ بنے وہ اتفاق نہیں۔ جو شخص صاحب الرسالہ ہو مگر وہ صاحب ایجنسی نہ بنے ، وہ صاحب الرسالیہ بھی نہیں۔

6 جون کی صبح کو انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر ۱۲۰ کے ذریعہ حیدر آباد سے بمبئی کے لئے روانگی یہ ایک گھنٹہ اور کچھ منٹ کا سفر تھا۔ اپنے بھتیجے اظہر میاں کے ساتھ ایئر پورٹ سے سیدھا ہندو جا اسپتال پہنچا جہاں میرے بڑے بھائی عبد العزیز خاں صاحب زیر علاج تھے۔ ان کو 23 مئی کو برین ہیموریج کا حملہ ہوا۔ اس کے بعد وہ مسلسل بے ہوشی (کوما) میں رہے۔ یہاں تک کہ ، 7 جون 1988 کی شام کو ان کا انتقال ہو گیا۔

اسپتال میں آئی سی یو (ICU) کے کمرہ نمبر ۱۱ میں داخل ہو اتو وہاں وہ شخصیت اسپتال کے مخصوص بیڈ پر لیٹی تھی جس کی عیادت کے لئے میں یہاں آیا تھا۔ میں بھائی صاحب کو دیکھ رہا تھا، مگر میں ان سے ربط قائم نہیں کر سکتا تھا۔ کیوں کہ اس وقت ان کے دیکھنے اور بولنے اور سننے کی صلاحیت معطل ہو چکی تھی۔ وہ نہ مجھ کو دیکھ رہے تھے ، نہ میرے سلام کا جواب دے سکتے تھے، نہ کسی قسم کی گفتگو ان کے ساتھ ممکن تھی۔ اس وقت وہ مجھ سے دور ، مگر اپنے رب سے قریب تھے___________ یہ لمحہ جاننے والوں کے اوپر جتے جی آجاتا ہے اور نہ جاننے والوں کے اوپر اس وقت آتا ہے جب کہ وہ موت کے دروازے پر پہنچ چکے ہوں : ونحن اقرب اليه منكم ولكن لا تبصرون (الواقعہ ۸۵)

عبد العزیز خاں صاحب اعظم گڑھ میں غالباً ۱۹۱۹ میں پیدا ہوئے۔ وہ غیر معمولی خصوصیات کے آدمی تھے اور انھوں نے معاشی میدان میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ 1962 میں انھوں نے اعظم گڑھ میں بزنس شروع کیا۔ ۵۷- ۱۹ میں لائٹ اینڈ کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ قائم کی جس کا صدر دفتر الہ آباد 1981 میں وہ خود بھی الہ آباد منتقل ہو گئے۔ وہ لائٹ اینڈ کمپنی کے چیرمین تھے ۔ اس کمپنی نے اپنی غیر معمولی کارکردگی کی بنا پر کئی بڑے بڑے انعامات حاصل کئے ہیں۔ اس کا کام ہے زیادہ طاقت کی بجلی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے والے بڑے بڑے کھمبوں کی تنصیب :

Erection of extra high voltage transmission lines. میری زندگی اور میرے مشن سے بھائی صاحب مرحوم کا نہایت گہرا تعلق تھا۔

(فرید الدین خاں مرحوم ) کا انتقال ہوا تو اس وقت میری عمر تقریباً 5 سال تھی۔ چنانچہ میرے بڑے بھائی ہی تمام عمر میرے سرپرست رہے۔ ہر آدمی جب بڑا ہوتا ہے تو اس کو معاشی جدوجہد میں لگنا اپنے مزاج کی بنا پر میں نے اس کے برعکس یہ خطرناک راستہ کیا کہ میں نے حصول معاش کے بجائے حصولِ علم کو اپنا نشانہ بنایا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد لمبا عرصہ ایسا گزرا ہے جب کہ میری ساری توجہ تلاشِ حق ، قرآن وحدیث کا مطالعہ اور دوسرے علوم کی تحقیق میں لگی رہی۔ میں میں نے کمانے کا کوئی کام نہیں کیا۔

یہ طویل غیر معاشی زندگی زبردست معاشی قیمت مانگتی تھی۔ اس کو مسلسل جاری رکھنے کے لئے ضروری تھا کہ کوئی شخص ہو جو میرے معاشی جوکھم کو اٹھائے، جو میری علمی جد و جہد میں میرا عملی بدل بن جائے۔ میرے بڑے بھائی نے یہ مشکل قیمت ادا کی۔ وہ مسلسل پچاس سال تک میرے سرپرست بنے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں تلاش و تحقیق اور مطالعہ و تجربہ کی طویل اور دشوار مہم کو اس کی آخری منزل تک پہنچانے میں کامیاب ہوا۔ اگر عبد العزیز خاں صاحب مرحوم میرا معاشی بوجھ نہ اٹھاتے تو شاید میں، بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح، صرف ایک حیوانِ کاسب بن کر رہ جاتا ، میں کبھی انکشاف حق کی منزل تک نہ پہنچتا۔

موجودہ دنیا میں کامیاب بننے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی دوسروں کے ساتھ مصالحت اور موافقت کی روش اختیار کرے۔ غیر مصالحانہ رویہ (Uncompromising attitude) کسی انسان کے لئے سب سے بڑا قاتل ہے۔ میں اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر کسی بھی شخصیت یا کسی بھی گروہ یا حلقہ کے ساتھ مصالحانہ انداز نہ اختیار کر سکا۔ میں نے ہمیشہ سچائی کا لحاظ کیا نہ کہ شخصیتوں اور جماعتوں کا۔ بلا شبہ یہ ایک بے حد خطر ناک معاملہ تھا۔ ہر ایک کے ساتھ غیر مصالحانہ روش اختیار کرنے کے بعد میرا زندہ رہنا بھی مشکل تھا، کجا کہ میں کہ لئی شَن کھڑا کر سکوں۔ خود بھائی صاحب مرحوم کو، تمام تر براورانہ محبت کے باوجود، اس معاملہ میں مجھ سے شکایت رہی۔ تاہم شکایت اور اختلاف کے باوجود انھوں نے کامل طور پر میری سرپرستی کی۔ اور میرا پورا بوجھ مسلسل اٹھاتے رہے ۔ غیر مصالحانہ روش موجودہ امتحان کی دنیا میں اتنا بڑا بوجھ ہے جس کا تحمل کرنے کے لئے پہاڑ جیسی طاقت در شخصیت درکار ہے۔ میرے جیسا عاجز اور کمزور آدمی ایک دن کے لئے بھی اس امتحان

کوبر داشت نہیں کر سکتا ۔ تاہم یہ صرف بھائی صاحب مرحوم کی مسلسل سرپرستی تھی جس کی بنا پر میں اس انتہائی مشکل اور خطرناک وادی کو پار کرنے میں کامیاب ہو سکا۔

۱۹۷۶ میں ماہنا مہ الرسالہ جاری ہوا تو اس کا تمام ضروری سرمایہ بھائی صاحب مرحوم نے اس کے علاوہ مختلف مواقع پر وہ برابر میری مدد کرتے رہتے تھے۔ الرسالہ اور اسلامی مرکز کی صورت میں جو ڈھانچہ آج موجود ہے، وہ حقیقت کے اعتبار سے بلاشبہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے۔ مگر ظاہری اسباب کے اعتبار سے وہ سب کا سب ، براہ راست یا بالواسطہ طور پر ، بھائی صاحب مرحوم کی ذات سے تعلق رکھتا ہے۔ اپنی معلومات کے مطابق ، ماضی یا حال میں مجھے کوئی بھی دوسرا بھائی نہیں معلوم جس نے اپنے بھائی کی اتنی زیادہ مدد کی ہو جتنی عبد العزیز خاں صاحب نے میری کی۔ ان کی وفات ایک طرف میرے بھائی کی وفات تھی ، دوسری طرف میں نے عالم اسباب میں اپنے قیمتی سرپرست کو کھو دیا۔ اللہ تعالیٰ بھائی صاحب مرحوم پر رحمتیں نازل فرمائے ، اور میرا مددگار ہو۔ ہر ایک کی مدد کرنے والا ہے۔

۷جون کی صبح کو اچانک بھائی صاحب مرحوم کے دل کی حرکت بند ہوگئی۔ تاہم بجلی کا شاک دینے سے چند منٹ بعد دل کی حرکت دوبارہ جاری ہوگئی۔ اس دور ان نلکی کے ذریعہ ان کے اندر آکسیجن پہنچایا جاتا رہا ۔ یہ حالت تقریباً 12 گھنٹے رہی ۔ اس کے بعد ۷ جون کی شام کو ساڑھے نو بجے ڈاکٹروں نے اعلان کیا کہ مریض کی وفات ہو چکی ہے۔ آخری ہچکی کے وقت ان کے صاحبزادہ جمیل احمد خاں انجینئر ان کے پاس موجود تھے۔

موجودہ زمانہ میں ایک نئی سائنس وجود میں آئی ہے جس کو کرائیو جینکس (Cryogenics) یعنی زندگی سے تعلق رکھنے والی چیزوں کو کم ٹمپریچر پر رکھ کر انھیں محفوظ کرنا۔ کی ابتدا ۱۹۷۸ میں ہوئی۔ اس کے ذریعہ پودے، غذائیں، اجزائے بدن مثلاً گردہ وغیرہ کو محفوظ کرنے میں کامیابی حاصل کی جا چکی ہے۔ مگر پورے انسانی جسم کو موت کے بعد ایک لمبی مدت تک محفوظ رکھنا ابھی تک ایک ناممکن چیز سمجھا جاتا ہے :

The prolonged viable preservation of whole animals, especially man, is now considered impossible, due to the complex and varied nature of the

تاہم امریکہ میں ایسے ادارے کھل گئے ہیں جو بڑی بڑی فیس لے کر مردہ جسموں کو خاص طرح کے "کولڈ اسٹوریج" میں محفوظ رکھتے ہیں۔ جو دولت مند لوگ ایسی بیماریوں میں مرتے ہیں جن کا علاج ابھی تک دریافت نہ ہو سکا (مثلاً کینسر)، ان کی وصیت کے تحت ان کے جسموں کو مذکورہ قسم کے سرد خانوں میں محفوظ کر دیا جاتا ہے، اس امید میں کہ شاید کبھی ان بیماریوں کا علاج دریافت ہو اور انہیں دوبارہ زندہ کیا جاسکے ۔ انسان ابدی زندگی چاہتا ہے، مگر آخرت کا تصور سامنے نہ ہونے کی وجہ سے وہ غلط طور پر موجودہ فانی دنیا میں غیر فانی زندگی کی تلاش کر رہا ہے۔ جون کی آٹھ تاریخ ہے اور صبح 9 بجے کا وقت ۔ کوننر اپارٹمنٹ (پالی ہل) کے نیچے بھائی صاحب کا جسم سفید کپڑوں میں لیٹا ہوا رکھا ہے۔ میں اس کو دیکھ رہا ہوں ۔ میرے ذہن میں یادوں کی ریل چل ایک زندگی جو 1919 میں شروع ہوئی اور 1988 میں ختم ہوگئی ۔ یہی ہر ایک کے ساتھ پیش آنے والا ہے اور یہی خود میرے ساتھ بھی پیش آئے گا۔ موجودہ جسم انسانی روح کا دنیوی مکان ہے۔ موت وہ لمحہ ہے جب کہ روح اپنے دنیوی مکان کو چھوڑ کر ایک اور جسم میں داخل ہو جاتی ہے جو اس کا اخروی مکان ہے۔

بھائی صاحب کے مردہ جسم کو دیکھ کر مجھے خود اپنی موت یاد آگئی ۔ ایک لمحہ کے لئے ایسا محسوس ہو گیا ہو گویا میرا جسم کفن میں لیٹا ہوا پڑا ہے۔ یہ سوچ کر دل بے قرار ہو گیا۔ میں نے کہا کہ خدایا، مجھے بلا حساب بخش دیجئے۔ کیوں کہ میرا عمل بھی اتنا ہی بے عمل ہے جتنا کہ میری بے عملی ۔ ڈاکٹر عبد الکریم نائک (پیدائش 1928) نفسیات کے ماہر ہیں۔ بمبئی کے سفر میں میرا قیام انہی کے یہاں تھا۔ ۷ جون 1988 کو ہم لوگ نمازِ فجر سے فراغت کے بعد قریب کی مہگاؤں ہل پر ٹہلنے کے لئے گئے ۔ یہ ایک پر فضا جگہ ہے۔ اس کے آس پاس زیادہ تر مسلمانوں کی آبادیاں ہیں۔ وہاں جو لوگ ورزش یا چہل قدمی کرتے ہوئے نظر آئے وہ سب غیر مسلم تھے۔ ہم تین آدمیوں کے سوا وہاں اس وقت غالباً کوئی مسلمان موجود نہ تھا۔

یہ ایک پہاڑی تفریح گاہ ہے۔ سامنے دور تک سمندر کا منظر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں ہم لوگ پارک میں کچھ دیر کے لئے بیٹھ گئے۔ ڈاکٹر نا ئک صاحب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا: میرے نزدیک انسانی مسائل کا حل انصاف میں نہیں صلح میں ہے۔ کیوں کہ موجودہ دنیا میں اکثر حالات میں انصاف ممکن

نہیں ہوتا، جب کہ صلح ہر وقت ممکن ہوتی ہے۔

انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے آبائی وطن (رست گیری) میں ایک زمین پر دو آدمیوں کا جھگڑا تھا۔ ایک شخص نے زمین پر قبضہ کر رکھا تھا۔ دوسرا شخص جو اپنے آپ کو اس زمین کا مالک بتاتا تھا، اس کا مطالبہ تھا کہ قابض شخص مجھ کو آٹھ ہزار روپے دے، تب میں اپنے حق سے دستبردار دوسرا شخص اس پر راضی نہ تھا۔ پہلے شخص کا کہنا تھا کہ میں آٹھ ہزار روپے سے ایک پیسہ کم نہیں دوسرے کا کہنا تھا کہ میں چھ ہزار سے ایک پیسہ زیادہ نہیں دوں گا۔

ڈاکٹر نا ئک صاحب کو معلوم ہوا تو انھوں نے کہا کہ میں چند منٹ میں اس مسئلہ کو حل کر تا انھوں نے دونوں کو بلایا اور دونوں سے بات کی۔ دونوں نے وہی بات کہی جو وہ پہلے کہہ چکے ڈاکٹر صاحب نے کہاکہ تمہارا مطالبہ آٹھ ہزار روپے کا ہے۔ اس نے کہا کہ ہاں۔ نے کہا کہ ٹھیک ہے ، تم کو آٹھ ہزار روپیہ مل جائے گا۔ اس کے بعد انھوں نے دوسرے شخص سے کہا کہ تم اپنے قول کے مطابق چھ ہزار روپے لے آؤ۔ وہ لے آیا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی طرف سے دو ہزار روپیہ شامل کرتے ہوئے کہا کہ یہ آٹھ ہزار روپیہ لو اور جھگڑا ختم کرو۔ ڈاکٹر صاحب نے جب ایسا کیا تو مالک زمین کو شرم آگئی۔ وہ اپنا مطالبہ واپس لیتے ہوئے چھ ہزار روپیہ پر راضی ہوگیا۔ ہر مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ یہ طرلی کہ مسئلہ کو حل کرنے کے لئے وہ طریقہ اختیار کیا جائے جو دل کو نرم کرنے والا ہے ۔ وہ طریقہ اختیار کیا جائے جو دل کے اندر سوئے ہوئے منفی جذبات کو بھڑکا دیتا ہے اور عداوت کا طوفان برپا کر دیتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے الفاظ میں اس دنیا میں مسئلہ کا یقینی حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے انصاف کا مطالبہ کرنے کے بجائے صلح پر راضی ہو جانا۔ مسٹر شکیل احمد خاں انجینئر سے بمبئی میں ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۷۸ء میں وہ الہ آباد میں تھے ۔ ایک روز صبح کو اچانک انھیں معلوم ہوا کہ ان کے مکان کے پچھلے حصہ میں خنزیر کاٹ کر ڈالا یہ خبر تیزی سے پھیل گئی اور بستی میں اشتعال پیدا ہونے لگا۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت اگر میں ذرا بھی ہوش مندی کے خلاف کرتا تو الہ آباد میں فساد ہو جاتا۔ مگر میں نے فوراً پولیس افسر کو ٹیلی فون کیا۔ اس کے بعد پانچ منٹ میں پولیس اپنی گاڑی لے کر آگئی۔ وہ خنزیر کو اٹھا لے گئی اور جگہ کو پوری طرح صاف کرا دیا پولیس نے مجھ سے نام پوچھا۔ مگر میں نے کسی کا نام نہیں بتایا۔

میں نے کہا کہ ہر فساد ہمیشہ جوابی غلطی سے ہوتا ہے۔ اگر ایک غلطی کے بعد دوسری غلطی نہ کی جائے تو ہمیشہ کے لئے فساد کی جڑ کٹ جائے گی۔ خنزیر، بر کاٹ کر ڈالنا پہلی غلطی تھی۔ اب اگر منسٹر شکیل احمد شور و غل کرتے تو یہ دوسری غلطی ہوتی مگر انھوں نے چوں کہ دوسری غلطی نہیں کی، اس لئے فساد کی صورت پیدا ہونے کے باوجود فساد نہیں ہوا۔

اخبار کی اطلاع سے پونہ کے احباب کو میری بمبئی آمد کی خبر ہو گئی تھی۔ چنانچہ وہاں سے کچھ لوگ بمبئی آ گئے۔ ان سے ملاقات اور گفتگو رہی۔ یہ لوگ جون کی تقریر میں شریک رہے۔ بمبئی کے بعض اخباروں کے نمائندے انٹرویو لینا چاہتے تھے۔ ایک ہندی اخبار کے نمائندے کو وقت بھی دیا جا چکا تھا۔ مگر بھائی صاحب کے انتقال کی وجہ سے پروگرام کی ترتیب باقی نہ رہ سکی۔ انٹرویو اور بعض دوسرے پروگرام منسوخ کر دینے پڑے۔

بمبئی میں عام ملاقاتوں کے علاوہ تین اجتماعی خطاب ہوئے۔ دو خطاب حسین اپارٹمنٹ کی مسجد میں، اور ایک ڈاکٹر عبد الکریم نائک صاحب کی رہائش گاہ پر۔ مسجد کے دونوں خطابات کا موضوع آخرت تھا، تیسرا خطاب دعوت کے موضوع پر تھا۔ تینوں تقریروں کا ٹیپ بمبئی کے احباب کے پاس موجود ہے۔

بمبئی کے آخری خطاب میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ اس اعتراض کا جواب دیا گیا کہ "الرسالہ مسلمانوں کو اقدام سے روکتا ہے اور پس پائی کا سبق دیتا ہے۔ " میں نے بتایا کہ یہ ایک خود ساختہ حقیقت یہ ہے کہ ہم میں اور دوسروں میں جو فرق ہے وہ یہ نہیں ہے کہ دوسرے لوگ اقدام کا راستہ دکھارہے ہیں ۔ اور ہم انہیں پس پائی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ اصل فرق اقدام کے میدان کے بارے میں ہے نہ کہ نفس اقدام کے بارے میں۔ دوسرے لوگ ٹکراؤ کے میدان میں اقدام کا سبق دے رہے ہیں ، اور ہم مسلمانوں کو دعوت کے میدان میں اقدام کی طرف بلاتے ہیں۔ وحدیث سے، نیز تاریخی واقعات سے اس کی وضاحت کی گئی۔

۸ جون ۱۹۸۸ کی شام کو انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر 183 کے ذریعہ بمبئی سے دہلی کے لئے واپسی ہوئی ۔ بھائی صاحب مرحوم تین ہفتے سے بمبئی میں تھے۔ میرے وہاں پہنچنے کے بعد اگلے ہی دن ان کی وفات ہو گئی تو ایسا معلوم ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے دونوں تاریخیں ایک ساتھ مقرر کر دی ہوں ۔

ایک طرف بھائی صاحب اپنی آخرت کی منزل کی طرف روانہ ہوئے ، دوسری طرف میں ان کا آخری دیدار کر کے اپنی دنیوی منزل (دہلی) کے لئے روانہ ہوا۔ کیسی عجیب ہے یہ جدائی ، اور کیسی عجیب ہوگی وہ ملاقات جو دوبارہ آخرت کی دنیا میں تمام لوگوں کی ایک دوسرے کے ساتھ ہوگی۔ دہلی پہنچنے کے بعد الرساله اکیڈمی حیدر آباد کا خط ملا کہ اجتماعات کے موقع پر حیدر آباد میں جو اسٹال لگائے گئے تھے وہاں سے لوگوں نے بڑی تعداد میں کتابیں حاصل کیں۔ نیز الرسالہ کے خریداروں کی تعداد میں کافی اضافہ ہوا۔ چنانچہ انہوں نے کتابوں کے مزید آرڈر کے ساتھ لکھا تھا کہ تازہ الرساله (جون ۱۹۸۸ کے مزید ۲۵ نسخے فوراً روانہ کئے جائیں تاکہ نئے شائقین کو فراہم کیا جو لوگ الرسالہ کے مشن کو بدنام کرنے کی مہم چلا رہے ہیں، انہیں جاننا چاہئے کہ الرسالہ ایک فکری سیلاب ہے ، اور جو چیز فکری سیلاب ہو اس کو چھوٹے الفاظ کے تنکوں سے روکا نہیں

اسلامی شریعت میں عورت کا مقام اسلام اور جدید تہذیب کا تقابل از: مولانا وحیدالدین خاں ( صفحات ۲۹۲ ، قیمت ۳۵ روپیہ )

Printed page