خبرنامه اسلامی مرکز ۴۲
Al-Risala, August 1988, pp. 45–47
By Maulana Wahiduddin Khan
نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا کی طرف سے ہمیں ایک کتابچہ موصول ہوا ہے جس کا نام ہے (Books from India) اس میں بتایا گیا ہے کہ صوفیا بلغاریہ) کی ۴۸ ویں انٹر نیشنل بک فیئر ۲ جون سے ۷ جون ۱۹۸۸ تک ہوئی۔ اس موقع پر نیشنل بک ٹرسٹ کی طرف سے مختلف موضوعات پر تین سو انگلش کتابیں نمائش اور تعارف کے لیے رکھی گئیں۔ ان کتابوں میں مرکز کی حسب ذیل چار کتابیں بھی شامل تھیں :
God Arises, Muhammad: The Prophet of Revolution, Religion and Science, Tabligh Movement. وائس آف القرآن (حیدر آباد) نے اپنے خط (۱۲ مئی ۱۹۸۸) میں اطلاع دی ہے کہ انھوں نے الرساله اپریل ۱۹۸۸ کے صفحہ اول کے مضمون کی جلی کتابت کروا کر اس کا اسٹیکر تیار کرایا اور اس کو شہر کے مختلف مقامات پر لگوایا۔ یہ طریقہ دوسرے لوگ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔
خدا کے فضل سے الرساله کا فکر مختلف شکلوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ مثلاً بمبئی کا ماہنامہ نقش کو کن ہر ماہ الرساله کے بعض مضامین کو اہتمام کے ساتھ شائع کرتا ہے۔ بمبئی کے روزنامہ انقلاب نے ایک مستقل سلسلہ شروع کیا ہے۔ وہ اپنے تبصرے" کے کالم میں الرساله کے ہر شمارہ کا تذکرہ اور تعارف شائع کرتا ہے۔ الرساله کے ہر شمارہ کی بعض باتوں کو لے کر لوگوں کو اس کی خصوصیات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔ بے حد مفید سلسلہ ہے۔ انشاء اللہ اس سے الرساله کی توسیع اشاعت میں مزید مدد ملے گی۔ سورت سے ایک گجراتی ماہنامہ "حیات" کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ یہ ماہنامہ الرساله کے مضامین کا گجراتی ترجمہ اپنے صفحات میں شائع کر رہا ہے۔ اسی طرح دوسرے بہت سے جرائد الرساله کے مضامین کو بلا حوالہ اپنے کالموں میں نقل کرتے ہیں۔ یہ لوگ بھی کم از کم فکری طور پر الرساله کے پیغام کی اہمیت کا اعتراف کر رہے ہیں۔ ایک صاحب لکھتے ہیں : ایک قاری الرساله کو جون کا الرساله دینے کے لیے گیا۔
کے دو دوست بھی تھے وہ میرے لیے بالکل اجنبی تھے اور الرسالہ کے لیے بھی اجنبی۔ کو دیکھ کر بولے یہ کون سا پرچہ ہے۔ میں نے اس کا مختصر تعارف کروایا اور یہ کہا کہ یہ عام نوعیت کا پرچہ نہیں ہے بلکہ اس پرچہ میں ایک خصوصیت ہے وہ یہ کہ اس میں تقریباً ایک ایک صفحہ کے مضامین ہوتے ہیں جس کو ہر شخص شوق سے اور جلدی پڑھ لیتا ہے۔ ہوئے، ان کو صفحہ نمبر 4 کا مضمون "حد کو پار نہ کیجئے" نکال کر دیا کہ اس کو پڑھ لیجئے مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی محسوس ہوتی ہے کہ انھوں نے پڑھا اور الرسالہ کے مستقل قاریوں میں اپنا نام لکھوا دیا (محمد وحید الدین، حیدر آباد)
۷- الرسالہ ۱۹۷۶ء سے یہ مہم چلا رہا ہے کہ مسلمان احتجاج اور مطالبہ کا طریقہ چھوڑیں اور مثبت انداز اختیار کریں ۔ خدا کے فضل سے اب اس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ ہجوم (۲۹ اپریل۔ ۵ مئی ۱۹۸۸ء) نے ایک مشہور جماعت کے اجلاس کی رپورٹ شائع کی ہے جس کا عنوان ہے "مطالباتی سیاست کے گھروندے سے نکلنے کی کوشش" رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صدر صاحب نے "واضح طور پر کہا کہ ہماری جماعت اب تک مطالباتی سیاست پر عمل کر رہی تھی۔ انھوں نے تالیوں کی گونج میں کہا کہ اب ہم پٹری بدل رہے ہیں اور مطالباتی سیاست کے گھروندے سے نکل رہے ہیں۔ اب ہم مانگنے کے بجائے یہ تلاش و جستجو کر رہے ہیں کہ اسلام اپنے دامن میں ملک کے انسانوں کو دینے کے لیے کیا رکھتا ہے" الرسالہ کی مہم اللہ کے فضل سے اس حد تک مؤثر ہوئی ہے کہ اب کچھ لوگ اعلان کے ساتھ اپنی پٹری بدل رہے ہیں اور کچھ لوگ اعلان کے بغیر۔
جون ۱۹۸۸ کے پہلے ہفتہ میں صدر اسلامی مرکز نے حیدر آباد، محبوب نگر اور بمبئی کا دورہ کیا تینوں مقامات پر ملاقاتوں اور خطابات کے پروگرام ہوئے۔ تفصیلی روداد ان شاء اللہ سفر نامہ کے ساتھ شائع ہوگی۔
ڈاکٹر تھیو ڈور رائٹ (Dr. Theodore P. Wright Jr) امریکہ کی اسٹیٹ یونیورسٹی آف نیو یارک میں پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر ہیں۔ انھوں نے مسلم اقلیت کے موضوعات پر کئی مقالے لکھے ہیں۔ صدر اسلامی مرکز کا مقالہ جو ہندوستانی مسلمانوں کے بارہ میں ٹائمس آف
انڈیا میں چھپا تھا، اس کی نقل مساچوسٹس کی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی لائبریری کی طرف سے ڈاکٹر رائٹ کو بھیجی گئی تھی۔ اس کو دیکھنے کے بعد ڈاکٹر رائٹ نے ایک خط (۳ مئی ۱۹۸۸) صدر اسلامی مرکز کو بھیجا ہے اور الرسالہ انگریزی اور دوسری انگریزی کتابوں کو پڑھنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خدا کے فضل سے الرسالہ کی آواز کس طرح مختلف ذرائع سے پھیل کر دور دور تک پہنچ رہی ہے۔
۱۰- ایک مقام کے بارہ میں معلوم ہوا کہ وہاں فرقہ وارانہ فساد کی صورت پیدا ہوگئی۔ جلوس کی صورت میں سڑک سے گزرتا ہوا دوسرے فرقہ کے محلہ میں پہنچا اور نامناسب نعرے لگانے لگا۔ اب دوسرے فرقہ کے لوگ مشتعل ہو کر چھتوں پر چڑھ گئے اور سنگباری کی صورت میں جواب دینا چاہتے تھے۔ اس موقع پر الرسالہ کے چند قاری سامنے آگئے ۔ انھوں نے اپنے فرقہ کے لوگوں کو سمجھا بجھا کر ٹھنڈا کیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر تم پتھر مارو گے تو مسئلہ تمہارا اور پولیس کا بن جائے گا۔ لیکن اگر تم خاموش ہو جاؤ تو مسئلہ پولیس کا اور جلوس والوں کا رہے گا۔ ان کی کوشش کامیاب ہوگئی اور لوگ چھتوں سے اتر گئے۔ اس کے بعد مسئلہ واقعہ پولیس کا اور جلوس کا بن گیا۔ پولیس نے جلوس سے آگے بڑھنے کے لیے کہا، جب وہ آگے نمیں بڑھے تو پولیس نے لاٹھی چارج کرکے جلوس والوں کو منتشر کیا۔ قارئین کو اسی طرح نازک مواقع پر سامنے آنا چاہیے اور الرسالہ کے اسلامی فکر کے مطابق لوگوں کی رہنمائی کرنا چاہیے ۔
۱۱- ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ کی ایک بہت انوکھی صفت ہے جو موجودہ زمانہ میں شاید ہی کسی پرچہ کو حاصل ہو۔ وہ یہ کہ الرسالہ جس کے ہاتھ میں پہنچ جاتا ہے وہ اس کو شروع سے آخر تک پڑھتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج کل انگریزی پرچہ India Today ٹاپ کا پرچہ سمجھا جاتا ہے۔ مگر سروے سے پتہ چلا ہے کہ انڈیا ٹوڈے کے خریدار بمشکل اس کا ۱۵ فی صد حصہ پڑھتے ہیں۔ جب کہ الرسالہ کے جتنے قاری ہیں نے دیکھے سب کا یہ حال ہے کہ وہ اس کو پورا کا پورا پڑھتے ہیں۔ بلکہ بہت سے تو ایک رسالہ کو ایک سے زیادہ بار پڑھتے یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے الرسالہ کو یہ مقبولیت عطا فرمائی۔