کامیابی کا راز
Al-Risala, September 1988, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مغربی مفکر کا قول ہے کہ جو چیز مجھ کو نہیں مارتی وہ مجھ کو پہلے سے زیادہ طاقتور بنا دیتی ہے: That which does not kill me makes me stronger. جب آدمی کسی سخت مشکل سے دوچار ہو اور اس سے دل شکستہ نہ ہو بلکہ غور وفکر کے ذریعہ اس کا حل تلاش کرے تو اس نے اپنے اندر ایک نئی طاقت پیدا کی۔ اس نے اپنے اندر اس صلاحیت کو جگایا کہ وہ ناموافق حالات کا مقابلہ کرسکے۔ وہ رکاوٹوں کے باوجود آگے بڑھتا رہے۔ مشکل نادان آدمی کو برباد کرتی ہے مگر مشکل دانش مند آدمی کے لیے ترقی کا زینہ بن جاتی ہے۔
زندگی میں کامیاب ہونے کے لیے سب سے اہم چیز بلند فکری ہے۔ ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم ان سوالات سے اوپر اٹھ جائیں جو ماضی پر یا پیش آنے والے دکھ پر مبنی ہوتے ہیں۔ کیوں میرے ساتھ پیش آیا۔ اس سوال کے بجائے آدمی کو ایسی باتوں پر سوچنا چاہیے جو مستقبل کے دروازے کھولنے والے ہوں_ اب جب کہ یہ پیش آچکا ہے مجھے اس کے لیے کیا کرنا چاہیے "We need to get over the questions that focus on the past and on the pain-'Why did this happen to me?'-and ask instead the question which opens doors to the future. 'Now that this has happened, what shall I do about it?'"
Rabbi Harold Kushner, When Bad Things Happen to Good People موجودہ دنیا اس ڈھنگ پر بنی ہے کہ یہاں لازمی طور پر ناخوش گوار واقعات پیش آتے آدمی بار بار مشکلات میں مبتلا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی حاصل کرنے کا راز صرف ایک ہے۔ وہ ماضی کو بھول کر مستقبل کے بارے میں سوچے ۔ وہ کھوئے ہوئے امکانات پر غم نہ کرے بلکہ اپنی ساری تو جہ ان امکانات پر لگا دے جو اب بھی اسے حاصل ہیں، جو ابھی تک برباد نہیں ہوئے ۔
حال کو ماننا آدمی کے لیے مستقبل کے دروازے کھولتا ہے ۔ اور حال کو نہ ماننا آدمی کو حال سے بھی محروم کر دیتا ہے اور آنے والے مستقبل سے بھی۔