Al-Risala · September 1988

میدانِ عمل

Al-Risala, September 1988, pp. 15–17

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں الرسالہ کا پرانا قاری ہوں اور اس کو پابندی کے ساتھ شروع سے آخر تک پڑھتا ہوں۔ مگر مجھے ایک معاملہ میں آپ سے اختلاف وہ یہ کہ آپ مسلمانوں کو پس پائی کا سبق دیتے ہیں۔ انھوں نے چند "مفکرینِ اسلام" کا نام لے کر کہا کہ ان کو دیکھئے، وہ ہمیشہ اقدام کی باتیں کرتے ہیں۔ مسلمان پیغمبر اعظم کی امت ہیں، وہ پس پائی کے پیغام کو کبھی قبول نہیں کر سکتے۔ اس کے بعد انھوں نے فخر کے ساتھ فارسی کا مشہور مقولہ دہرایا : کیش مرداں نه که مذہب گوسفنداں میں نے کہا کہ میرے اور مذکورہ مفکرین کے درمیان یہ فرق نہیں ہے کہ میں پس پائی کی بات کرتا ہوں، اور وہ لوگ اقدام کی بات کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ہی اقدام کی بات کرتے جو فرق ہے وہ اس معاملہ میں ہے کہ اس اقدام کا میدان کیا ہو۔ وہ لوگ جنگ اور ٹکراؤ کے میدان میں اقدام کا نعرہ لگاتے ہیں اور میں دعوت اور تبلیغ کے میدان میں اقدام کی تجویز پیش کرتا ہوں ۔ بالفاظِ دیگر ، دوسرے لوگ شمشیری اقدام کے مبلغ ہیں اور میں نظریاتی اقدام کا مبلغ میرا اور ان کا فرق میدانِ اقدام کے بارہ میں ہے نہ کہ نفسِ اقدام کے بارہ میں۔ اقدام کسی اندھا دھند کارروائی کا نام نہیں ، نہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خواہ مخواہ کسی چٹان پر سر پٹک کر اپنی جان دے دے۔ اقدام ایک منصوبہ بند عمل کا نام ہے۔ ایک حقیقی اقدام کے لئے وسیع علم اور زبر دست ذہانت درکار ہے۔ اقدام ہمیشہ کسی فریق کے مقابلہ میں ہوتا ہے۔ اس کا اہم ترین اصول یہ ہے کہ پیشگی جائزہ لے کر معلوم کیا جائے کہ حالات کی موافقت کس کے ایک صورت یہ ہے آپ فریق ثانی کے موافق میدان میں اس سے مقابلہ کریں : To contest on another man's ground. میدانِ مقابلہ اگر فریقِ ثانی کے حق میں ہو تو ایسی حالت میں فریقِ ثانی سے ٹکرا ؤچھیڑنا اپنے آپ کو جان بوجھ کر شکست کی طرف لے جانا ہے۔ جب ایسا ہو تو فریقِ اول کو چاہئے کہ وہ حکیمانہ تدبیر سے مقابلہ کو اس میدان میں لے آئے، جہاں وہ فریقِ ثانی کے مقابلہ میں زیادہ بہتر پوزیشن رکھتا ہو۔

موجودہ زمانہ میں سید احمد شہید بریلوی سے لے کر اب تک، مسلمانوں نے بے شمار چھوٹی بڑی لڑائیاں لڑی ہیں اور تقریباً ہر بار انہیں یک طرفہ ناکامی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اقدام برائے اقدام کے اصول پر عمل کرتے ہیں۔ وہ فریق ثانی کے اپنے موافق میدان میں اس سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ حالاں کہ عقل اور اسلام دونوں کا تقاضا ہے کہ حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ اس کو خود اپنے موافق میدان میں لایا جائے اور پھر اس سے مقابلہ کیا جائے۔

اس بات کی وضاحت کے لئے یہاں میں ایک مثال دوں گا۔

ہندوستان کے مسلم لیڈر عام طور پر اس بات کی شکایت کرتے ہیں کہ ہندوستان کی آزادی کے لئے انھوں نے برابر کی قربانیاں دیں۔ مگر جب ہندوستان آزاد ہوا تو انہیں اس میں برابر کا حصہ نہیں ان سے ہر جگہ ”امتیاز“ کا سلوک کیا جاتا ہے۔

میرے نزدیک یہ شکایت بے معنی ہے۔ یہ مسلم لیڈروں کے فکری افلاس کو بتاتا ہے۔ نے اصل معاملہ کو نہ ماضی میں جانا، اور نہ آج وہ اس کو جانتے ہیں۔

مسلم رہنما اس بات کو نہیں جانتے کہ اصل مسئلہ آزادی کے لئے قربانی دینے کا نہیں تھا ۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ جب آزادی آئے گی تو اس کی شکل کیا ہوگی۔ دورِ جدید میں یہی ہونا تھا کہ آزادی جمہوریت کے روپ میں آئے۔ مگر مسلم رہنماؤں کا ذہن ماضی میں اتنا زیادہ اٹکا ہو ا تھا کہ وہ سمجھتے تھے کہ آزادی جب آئے گی تو وہ ”مغل دور“ کی واپسی کے ہم معنی ہوگی۔

اس بات کو ایک مثال سے اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک لطیفہ ہے کہ ایک سارس اور ایک لومڑی آپس میں دوست تھے۔ ایک بار دونوں نے طے کیا کہ وہ آپس میں مل کر کھیر پکائیں ۔ سامان سارس لایا اور کچھ سامان لومڑی اور دونوں نے مل کر کھیر پکائی۔ جب کھیر تیار ہوگئی اور وہ وقت آیا کہ اس کو کھایا جائے تو لومڑی نے ایک ہوشیاری کی۔ کھیر کو رکھنے کے لئے وہ ایک تشت کھیر جب تشت میں رکھی گئی تو وہ زیادہ تر لومڑی کے حصہ میں آگئی۔ لومڑی نے خوب سیر ہو کر دوسری طرف سارس اپنی لمبی چونچ ادھر ادھر مارتا رہا مگر کھیر کی بہت کم مقدار اس کے حصہ میں آسکی۔ وہ کھیر پکانے میں شریک تھا، مگر وہ کھیر کھانے میں شریک نہ ہوسکا۔

اب سارس نے سوچا کہ لومڑی نے تو مجھ کو بیوقوف بنا دیا۔ اس نے سوچ کر ایک نیا منصوبہ اس نے لومڑی سے کہا کہ آؤ ہم لوگ پھر ایک مرتبہ مل کر کھیر پکائیں۔ لومڑی راضی ہوگئی۔ دونوں سامان لائے اور کھیر پک کر تیار کی گئی۔ اب جب کھیر کو برتن میں رکھنے کا مرحلہ آیا تو سارس نے فوراً ایک صراحی پیش کر دی۔ چنانچہ کھیر سب کی سب صراحی کے اندر رکھ دی گئی۔ نے اپنی لمبی چونچ صراحی کے اندر ڈال کر کھیر کو کھانا شروع کر دیا اور لومڑی سے کہا کہ تم بھی کھاؤ۔ اس بار معاملہ الٹا ہوا۔ سارس نے خوب سیر ہو کر کھیر کھالی، لومڑی کے حصہ میں کچھ نہ آیا۔ یہ لطیفہ بتاتا ہے کہ اصل مسئلہ مشترکہ کھیر پکانے کا نہیں ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ کھیر تیار ہو کر کس قسم کے برتن میں رکھی جائے گی۔ اگر وہ تشت میں رکھی جانے والی ہو تو وہ لومڑی کے حصہ میں چلی جائے گی اور اگر وہ صراحی میں رکھی جائے تو وہ سارس کو ملے گی، آدمی کی عقل مندی یہ ہے کہ کھیر کو اپنے موافق برتن میں رکھنے کی کوشش کرے۔

Printed page