Al-Risala · September 1988

یہ فرق کیوں

Al-Risala, September 1988, pp. 17–26

By Maulana Wahiduddin Khan

انیسویں صدی کے نصف اول میں انگریز ایک طرف سیاسی اعتبار سے ہندوستان میں غلبہ حاصل کر رہے تھے۔ دوسری طرف عیسائی مشنریاں مسلمانوں کو عیسائی بنانے کے لئے اپنی ساری طاقت صرف کر رہی تھیں۔ ہمارے علماء ان دونوں خطرات کے مقابلہ کے لئے اٹھے اور اس کے لئے غیر معمولی قربانیاں مگر دونوں محاذوں کا انجام ایک دوسرے سے مختلف رہا۔ سیاسی محاذ پر بے پناہ قربانیوں کے باوجود انہیں مکمل ناکامی ہوئی۔ دوسری طرف مشنری محاذ پر نسبتاً کم قربانی کے باوجود انھیں مکمل کامیابی حاصل ہوئی۔

دونوں محاذوں کے اس فرق کی علامت مولانا رحمت اللہ کیرانوی (۱۳۰۸ - ۱۲۳۲ھ ) مولانا رحمت اللہ کیرانوی کے زمانہ میں یورپ سے پادری فنڈر (Funder) آیا اور اس نے ہندوستان کے مسلمانوں میں نہایت طاقت کے ساتھ مسیحیت کی تبلیغ شروع کر دی۔ اس کے مقابلہ کے لئے جو لوگ اٹھے، ان میں ایک ممتاز نام مولانا رحمت اللہ کیرانوی کا تھا۔ انھوں نے ” اظہار الحق “ اور دوسری کتابیں لکھیں۔ اسی کے ساتھ انھوں نے ڈاکٹر وزیر خاں کی مدد سے فنڈر سے مناظرہ کیا۔ کے مشہور مناظرہ (۱۰-۱۱ اپریل ۱۸۵۴ء) میں انھوں نے پادری فنڈر کو ایسی شکست دی کہ اس

کے بعد وہ ہندوستان سے بھاگ کھڑا ہوا اور قسطنطنیہ (ترکی) میں جاکر پناہ لی۔ اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے۔ ۱۸۵۷ء میں شاملی کے میدان میں علماءءءءءء نے انگریزی فوج کا مسلح مقابلہ کیا۔ اس مقابلہ میں مولانا رحمت اللہ کیرانوی بھی شریک تھے۔ اس وقت ہمارے علما کے پاس روایتی قسم کے دستی ہتھیار تھے، اور انگریزی فوج کے پاس جدید قسم کے دور مار ہتھیار۔ میں علما کی جماعت کو، زبردست قربانی کے باوجود، مکمل شکست ہوئی۔ اس کے بعد علما کی گرفتاریاں شروع ہوئیں اور ان کو پھانسی پر چڑھایا جانے لگا۔ مولانا رحمت اللہ کیرانوی نے ہندوستان سے مکہ چلے جانے کا فیصلہ کیا۔ وہ ہیبب جنگلوں اور خطرناک راستوں پر پیدل چلتے ہوئے اور ناقابل بیان تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کرتے ہوئے سورت کی بندرگاہ پر پہنچے۔ وہاں سے سمندری جہاز پر سوار ہو کر جدہ چلے گئے اور بقیہ زندگی وہیں مقیم رہے (معارف مئی ۱۹۸۸)

ان دونوں واقعات کو تقابلی طور پر دیکھئے۔ ایک جگہ مولانا رحمت اللہ کیرانوی کے مقابلہ میں پادری فنڈر میدان چھوڑ کر بھاگا تھا، دوسری جگہ ”پادری فنڈر“ کے مقابلہ میں خود مولانا رحمت اللہ کیرانوی کو میدان چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔

اس فرق کی وجہ میدانِ مقابلہ کا فرق ہے۔ آگرہ میں دونوں کے درمیان مقابلہ مناظرہ فکری اور نظریاتی میدان میں) ہوا تھا۔ فکری اور نظریاتی میدان میں اسلام ممتاز طور پر ہر ایک کے مقابلہ میں فوقیت رکھتا ہے۔ اس لئے فریق ثانی کو مکمل ناکامی ہوئی ۔ اس کے برعکس شاملی میں جو مقابلہ ہوا وہ فوج اور ہتھیار کے میدان میں تھا۔ اس میدان میں ہمارے علماء فریق ثانی کے مقابلہ میں فیصلہ کن طور پر ہمارے علما کے پاس زیادہ تر دستی ہتھیار تھے، جب کہ فریق ثانی دور مار ہتھیاروں سے مسلح تھا، یہی فرق تھا جس کی بنا پر یہاں علما کو مکمل ناکامی ہوئی ۔

میں کہوں گا کہ آپ معاملہ پر زیادہ گہرائی کے ساتھ غور کیجئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ ہم میدانِ مقابلہ کو بدلنا چاہتے ہیں۔ ہم فریق ثانی کو اس میدان میں لانا چاہتے ہیں، جہاں وہ ناموافق پوزیشن میں ہو اور ہم موافق پوزیشن میں ۔ ہمارے اور دوسرے لوگوں میں جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کو اس میدان میں متحرک کرنا چاہتے ہیں جہاں ان کا حریف بھاگے۔ اور دوسرے لوگ مسلمانوں کو وہاں ٹکرانا چاہتے ہیں، جہاں بالاخر خود ان کو بھاگنا پڑے۔

مولانا رحمت اللہ کیرانوی کا واقعہ، علامتی طور پر، ہماری پوری جدید تاریخ کی تصویر ہے۔ موجودہ زمانہ میں بار بار یہی ہوا ہے۔ اور اب بھی یہی ہو رہا ہے کہ مسلمان فریق ثانی سے اس کے موافق میدان میں ٹکر اؤکرتے ہیں اور ہر بار شدید ترین شکست سے دوچار ہو رہے ہیں۔ دین کا استحکام قرآن میں اعلان کیا گیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو کامل کر دیا۔ اور اپنی نعمت کی تکمیل کر دی اور قیامت تک کے لئے اسلام کو مقبول دین کی حیثیت سے پسند کر لیا (المائدہ ۳) اس اعلان کے ساتھ مزید ارشاد ہوا ہے :

اليوم يئس الذين كفروا من دينكم آج انکار کرنے والے تمہارے دین کی طرف سے فلا تخشوه و اخشُون (المائدہ ۳) مایوس ہو گئے، پس تم ان سے نہ ڈرو اور صرف مجھ سے ڈرو۔ قرآن کی یہ آیت ذی الحجہ ۹ھ میں اتری۔ اس کے اترنے کے تقریباً ڈھائی مہینے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی۔ اس آیت میں اليوم (آج) کا لفظ بہت با معنی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن دو منذ ہی دوروں کے درمیان حد فاصل ہے۔ قرآن کے بعد مذہب کی دنیا میں ایک نیا دور شروع ہوا ہے۔ پہلے اگر "تخشو هم" کا دور تھا، تو اب "اخشوني" کا دور ہے۔ پہلے اگر غلبہ کفر کا دور تھا ، تو اب غلبہ دین کا دور ہے۔ قرآن کی تکمیل نے اب خدا کے دین کو آخری طور پر مستحکم کر دیا ہے۔ اس آیت سے صراحتہ یہ ثابت ہو رہا ہے کہ اب تشویش اور اندیشہ کی چیز یہ ہے کہ اہل ایمان کے اندر خشیت الہی (خدا کا خوف) باقی نہ رہے۔ کی طاقت خواہ وہ کتنی ہی زیادہ ہو، اہل ایمان کے لئے کوئی خطرہ پیدا نہیں کرتی۔ دین کے غلبہ واستحکام سے مراد اس کا سیاسی غلبہ واستحکام نہیں۔ سیاسی غلبہ اس دنیا میں کبھی ہوتا ہے اور کبھی نہیں ہوتا۔ مزید یہ کہ وہ اگر ایک مقام پر پایا جاتا ہے تو دوسرے مقام پر نہیں پایا اس لئے یہاں غلبہ سے وہ غلبہ مراد لینا ہو گا جو ہر وقت اور ہر جگہ پوری طرح حاصل رہے۔ جس میں کبھی انقطاع ممکن نہ ہو۔ اس قسم کا جاری اور مستمر غلبہ صرف فکر اور نظریہ سے متعلق ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں غلبہ سے مراد فکری غلبہ ہے۔ یہ قرآن اور دین کا دل کی وہ خصوصیت ہے جو اس کو ہر حال میں حاصل رہے گی۔ حتی کہ کسی مقام پر کوئی ایک شخص :- قرآن ہو تو وہ بھی اس سے

خالی نہیں ہوسکتا۔

قرآن کی تکمیل کا مطلب یہ ہے کہ اس کے حق میں ایسے حالات پیدا کر دیئے گئے کہ وہ قیامت تک اپنی اصل حالت میں محفوظ رہے۔ قرآن کے ذریعہ دنیا میں ایسا انقلاب لایا گیا جس کے نتیجہ میں ہمیشہ کے لئے مذہب کی جبر کا ماحول ختم ہوگیا اور آدمی کو آزادانہ طور پر اظہار خیال کا حق حاصل ہوگیا۔ اسی طرح اس انقلاب کے نتیجہ میں علمی ترقیوں کا دروازہ کھلا جس نے دین خدا اور ندیمی کی صداقت کو خود انسانی علم کے معیار پر مبرہن اور مدلل کر دیا۔ سب ہو جائے تو اس کے بعد دین الہی کی طاقت بے پناہ ہو جاتی ہے۔ اب خدا کا دین ایک محفوظ اور قائم شدہ دین کی حیثیت حاصل کر لیتا ہے ۔ اور جب خدا کا دین محفوظ اور قائم شدہ دین کی حیثیت حاصل کرلے تو اس کی طاقت اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ کوئی بھی اس کو زیر نہ کرسکے۔ سید احمد شہید بریلوی اس سلسلہ میں ایک مثال سید احمد شہید بریلوی اور ان کے ساتھیوں کی ہے۔ انیسویں صدی کے ربع ثانی میں پنجاب کے سکھ حکمراں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف جہاد کیا۔ میں انھیں مکمل شکست ہوئی۔ ۶ مئی ۱۹۳۱ کو بالا کوٹ میں سید صاحب اور ان کے اکثر ساتھیوں کو سکھ فوج نے ہلاک کر دیا۔ زبردست جانی اور مالی نقصان کے باوجود اس جنگ کا مطلق کوئی فائدہ مسلمانوں کو نہیں ملا۔ البتہ یہ نقصان ہوا کہ مغل دور میں گردوگو وند سنگھ ، گرو ارجن سنگھ اور گرو تیغ بہادر سنگھ کے قتل سے سکھوں میں مسلمانوں کے خلاف جو نفرت پیدا ہوئی تھی اس میں کچھ اور اضافہ ہوگیا۔ سید احمد شہید بریلوی کا اقدام مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف ناقابل فہم حد تک غیر دانشمندانہ اس کی سلطنت تبت سے لے کر درہ خیبر تک پھیلی ہوئی تھی ۔ دونوں کی فوجی طاقت میں ناقابل عبور حد تک فرق پایا جار ہا تھا۔ سید صاحب کے پاس غیر تربیت یافتہ مریدین کی ایک بھیڑ تھی جو کہ صرف روایتی ہتھیاروں سے مسلح تھی۔ دوسری طرف مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج نہ صرف تعداد میں بہت زیادہ تھی ، بلکہ وہ زیادہ جدید ہتھیاروں سے مسلح تھی۔ حتی کہ اس کے پاس توپیں بھی موجود تھیں ۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سید صاحب اس واقعہ سے بے خبر تھے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ نہایت مدبر حکمراں ہے۔ فرانس کے ایک سیاح وکٹر جا کو ماں (Victor Jacquemont) نے اس کو چھوٹا

نپولین (Bonaparte in miniature) لکھا ہے۔ اسی طرح دوسرے مورخوں اور سیاحوں نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے تدبر اور حکمرانی کی صلاحیت کا غیر معمولی الفاظ میں اعتراف کیا ہے۔ اس کے اسی تدبر کا نتیجہ تھا کہ اس نے فوج کی تنظیمِ جدید کی اہمیت کو محسوس کیا۔ ۱۸۲۰ء میں اس نے اپنی فوج کو یورپ کے معیار پر منظم کرنا شروع کیا۔ اس نے یورپ کے ۵۰ فوجی افسروں کو اپنی فوج کی تربیت پر مقرر کیا، ان میں اکثریت ان فوجی افسروں کی تھی جو نپولین بونا پارٹ کی فوج میں کام کر چکے تھے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) کے مقالہ نگار نے اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ رنجیت سنگھ کی اس فوج نے ۱۸۳۱ء میں سرحدی قبائل کی ایک شورش کو کامیابی کے ساتھ کچل دیا جو ایک جنونی مسلمان سید احمد بریلوی، کے نعرہ جہاد کے تحت ابھری تھی :

In 1831 it successfully quelled a rising of the Frontier tribesmen roused to a holy war (Jihad) by the Muslim fanatic Sayyed Ahmad (15/507). سید احمد شہید بریلوی نے سکھوں کے اوپر شمشیری قوت کو استعمال کیا۔ مگر وہ مکمل طور پر نہ بر دست نقصان اور قربانی کے باوجود وہ ایک فی صد کے درجہ میں بھی کوئی فائدہ حاصل نہ کر سکے۔ دوسری طرف انھیں سکھوں کو اسلام کی دعوتی طاقت مسلسل مسخّر کرتی رہی ہے۔ گرو نانک اسلام کی تعلیمات سے اتنا زیادہ متاثر ہوئے کہ انھوں نے توحید اور رسالت محمدی کے عقیدہ کو اپنی مذہبی کتاب (گر و گرنتھ صاحب) میں شامل کیا۔ امرتسر کے سنورن متدر کی بنیاد مسلمان بزرگ میاں میر سے رکھوائی گئی۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دربار میں کچھ علماء گئے تو اس نے تخت سے اتر کر اپنی لمبی داڑھی سے ان کے جوتے صاف کئے۔ اس کے علاوہ بہت سے سکھ ہیں جنھوں نے باقاعدہ کلمہ توحید کا اقرار کر کے اسلام قبول کر لیا۔ انھیں میں سے ایک مولانا عبید اللہ سندھی (۱۹۴۴ء ۔ وہ سندھ کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ بعد کو انھوں نے اسلامی کتا بیں پڑھیں اور اسلام سے متاثر ہو کر اسلام کے دائرہ میں داخل ہوگئے ۔ حدیبیہ کی مثال روایات میں آتا ہے کہ ایک صحابی نے بعد کے دور میں تابعین سے کہا کہ تم لوگ فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو، مگر ہم لوگ واقعہ حدیبیہ کو فتح قرار دیتے تھے (عن البراء قال: تعدّون الفتح

ونحن نعدّ الفتح يومَ الحديبية ، سيرة ابن کثیر ، المجلد الثالث ، صفحہ ۳۲۴) فتح مکہ (۸ھ) کھلا ہوا فتح کا واقعہ تھا۔ جب کہ حدیبیہ بظا شکست اور پسپائی کا واقعہ تھا۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے تقریباً ڈیڑھ ہزار اصحاب عمرہ کے ارادہ سے مدینہ سے مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ مگر قریش نے آپ کو مکہ میں داخل ہونے نہیں دیا۔ آپ کو اپنے تمام ساتھیوں سمیت عمرہ ادا کئے بغیر راستہ ہی سے واپس آجا پڑا ۔ اس کے باوجود صحابہ کرام کے نزدیک فتح کا اصل واقعہ تھا جو حدیبیہ میں پیش آیا نہ کہ وہ جب کہ مکہ میں فاتحانہ داخلہ ہوا۔ اصحاب رسول کا یہ نقطہ نظر بتاتا ہے کہ پسپائی بھی بہت بڑا اقدام ہے ۔ بظاہر ہر ایک شکست کے واقعہ میں فتح کار از چھپا ہوتا ہے۔ واقعہ کا یہ پہلو بے حد اہم ہے، اور اس بنا پر حدیبیہ کے واقعہ کا نہایت گہرائی کے ساتھ مطالعہ کیا جانا چاہئے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تقریباً ڈیڑھ ہزار اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لئے یہ یکم ذی قعدہ ۶ھ کی تاریخ تھی اور آپ کا مقصد یہ تھا کہ مکہ پہنچ کر بیت اللہ کا عمرہ قریش پچھلے 6 سال سے ممسلمانوں کے لئے زیارت کعبہ کا راستہ بند کئے ہوئے تھے۔ مدت میں کوئی سلمان نہ حج کر سکتا تھا اور نہ عمرہ۔ اس لئے جب انھوں نے سنا کہ ڈیڑھ ہزار مسلمانوں کا قافلہ آرہا ہے کہ وہ مکہ میں داخل ہو کر عمرہ کرے تو وہ سخت غضبناک ہو گئے ۔ ذی قعدہ کا مہینہ اگر چہ حرام مہینوں میں سے تھا۔ یہ مہینہ سیکڑوں سال سے کعبہ کی زیارت اور حج کے لئے محترم سمجھا جاتا تھا۔ کسی کو یہ حق نہ تھا کہ باہر سے آنے والے کسی شخص کو زیارت کعبہ سے روکے۔ مگر قریش نے جاہلی عصبیت کے تحت یہ فیصلہ کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب کو مکہ میں داخل ہونے نہیں دیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو دن کی مسافت طے کر کے عُسفان کے مقام پر پہنچے۔ آپ کی ملاقات بُسر بن سفیان الکعبی سے ہوئی جو کہ مکہ کی طرف سے آرہا تھا۔ اس نے بتایا کہ قریش کو آپ کے اس سفر کی خبر ہو گئی ہے۔ وہ مکہ سے نکل کر ذی طوی میں جمع ہو گئے ہیں۔ انھوں نے چیتے کی کھالیں پہن رکھی ہیں (یعنی سخت غضب ناک ہیں)، انھوں نے عہد کر رکھا ہے کہ وہ ہرگز آپ کو مکہ میں داخل ہونے نہیں دیں گے۔ اور انھوں نے خالد بن ولید کو ۲۰۰ گھوڑے سواروں کے ساتھ کراع الغمیم کی طرف روانہ کیا ہے تاکہ آپ سے مڈبھیڑ کریں (سیرت ابن ہشام، الجز والثالث

اب ایک صورت یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے مقابلہ کے لئے تیار ہو جاتے اور اپنے لوگوں کو جہاد و قتال کی راہ میں لگا دیتے۔ مگر آپ نے اس کے بالکل برعکس عمل فرمایا۔ نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم میں کون شخص ہے جو ہم کو خالد کے راستہ کو چھوڑ کر دوسرے راستہ سے چلا کر آگے لے جائے (مَنْ رَّجُلٌ یَّخْرُجُ بِنَا عَلٰی طَرِیْقٍ غَیْرِ طريقهم الَّتِیْ هم بها صفحہ ۳۵۷)

عبد اللہ بن ابی بکر کہتے ہیں کہ قبیلہ اسلم کے ایک شخص نے کہا کہ اے خدا کے رسول، یہ کام میں اس کے بعد وہ مسلمانوں کے قافلہ کو لے کر روانہ ہوا۔ اس نے اس معروف راستہ کو چھوڑ دیا جس پر خالد بن ولید بڑھے ہوئے آ رہے تھے۔ اس کے بجائے وہ ایک اور سمت سے روانہ ہوئے، باقاعدہ راستہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ سفر سخت دشواریوں کے ساتھ طے ہوا۔ حتی کہ اس پر مشقت سفر پر بعض مسلمانوں کی زبان سے کلمہ شکایت نکل گیا۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: کہو کہ ہم اللہ سے مغفرت چاہتے ہیں اور اس کی طرف تو بہ کرتے ہیں (قولوا نستغفر اللہ و نتوب الیہ، ۳۵۷)

جس موقع پر یہ استغفار اور تو بہ کرائی گئی اس کے لحاظ سے دیکھیے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جب تم کو اپنے آپ پر مصیبت اٹھا کر ٹھکر اؤ سے بچنے کا حکم دیا گیا تو تم نے شکایت کا لفظ کیوں اپنی زبان سے نکالا۔ تم کو کامل رضامندی کے ساتھ اس خدائی منصوبہ پر چلنا چاہئے تھا۔ اب جب کہ اس معاملہ میں تم سے بے صبری کا اظہار ہوا ہے تو استغفار اور تو بہ کے ذریعہ اس کی

اصل یہ ہے کہ قریش کوئی نہ کوئی بہانہ نکال کر جنگ چھیڑ نا چاہتے تھے مگر آپ نے ہر قیمت پر جنگ سے اعراض کیا۔ خالد بن ولید سواروں کا دستہ لے کر آپ کی طرف بڑھے تو آپ نے راستہ خراش بن امیہ کو آپ نے سفیر بنا کر کہ بھیجا۔ وہاں قریش نے ان کے اونٹ کو مار ڈالا۔ خراش کو بھی قتل کر دینا چاہتے تھے تاہم وہ کسی نہ کسی طرح بھاگ کر واپس آگئے۔ قیام حدیبیہ کے زمانہ میں ایک بار مکہ کے پچاس آدمی رات کے وقت آئے اور صحابہ کے پڑاؤ پر پتھر مارنا اور تیر برسانا

انھوں نے آپ کو عمرہ کے لئے مکہ میں داخل ہونے سے روکا۔ یہ بذات خود یہ معنی رکھتا تھا کہ آپ مشتعل ہو کر آمادہ جنگ ہو جائیں۔ آخری مرحلہ میں جب معاہدۂ حدیبیہ کی شرطیں مقرر کی جانے لگیں تو انھوں نے یک طرفہ شرائط پر اصرار کیا جو تمام مسلمانوں کے لئے سخت اشتعال انگیز اور ناقابل برداشت تھا وغیرہ۔ مگر آپ ہر ابر ٹکر اڈے اعراض کرتے رہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ پہنچ کر رک گئے۔ اس مقام کا موجودہ نام شمیسی ہے اور مکہ سے تقریباً دس میل کے فاصلہ پر ہے۔ یہیں پر قریش کے نمائندوں سے گفتگو ہوئی اور وہ صلح طے پائی جو صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔

حدیبیہ کے پورے واقعہ پر غور کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان ایک بلا اعلان مقابلہ جاری تھا۔ قریش کی ساری کوشش یہ تھی کہ آپ کو میدان جنگ میں لے آئیں ۔ اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے ہر ظلم کو سہتے ہوئے اور ان کی ہر اشتعال انگیزی کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کوشش میں لگے ہوئے تھے کہ قریش کو صلح کے میدان میں لے آئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر رد عمل اور جوابی کارروائی کا انداز اختیار فرماتے تو قریش کا منصوبہ کامیاب ہو جاتا اور مسلمان اور قریش ایک دوسرے سے ٹکرا جاتے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک طرفہ صبر اور اعراض اس بات کی ضمانت بن گیا کہ قریش کا خونی منصوبہ کامیاب نہ ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مصالحانہ منصوبہ کامیاب ہو جائے۔

یہ دراصل وہی تدبیر تھی جس کو جنگ کی اصطلاح میں (Ground of one's own choice) کہا جاتا ہے۔ یعنی حریف کو مقابلہ کے لئے اپنے موافق میدان میں لے آنا۔ اس وقت قریش کے لئے مقابلہ کا موافق میدان جنگ تھا کیوں کہ قریش جنگی طاقت میں واضح طور پر مسلمانوں پر برتری رکھتے تھے۔ طرف فکری اور نظریاتی میدان میں مسلمانوں کو برتری حاصل تھی۔ قریش کی بت پرستی کے مقابلہ میں اسلام کی توحید ہر اعتبار سے فائق حیثیت رکھتی تھی۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ساری کوشش یہ تھی کہ آپ کے اور قریش کے درمیان مقابلہ کا میدان جنگ نہ بنے بلکہ آپ کا اور قریش کا مقابلہ فکری اور نظریاتی میدان میں منتقل ہو جائے۔

تا ہم اس مقصد کو حاصل کرنا آسان کام نہ تھا۔ ایک طرف اس کے لئے ضروری تھا کہ آپ

اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہوں، حتیٰ کہ قریش کی جارحیت کو بھی خاموشی کے ساتھ برداشت کریں۔ اور دوسری چیز یہ کہ قریش کی ہر شرط کو یک طرفہ طور پر منظور کرتے چلے جائیں۔ چنانچہ آپ نے یہی کیا۔ حدیبیہ میں آپ کے اور قریش کے درمیان جو معاہدہ طے پایا اس میں تمام شرطیں یک طرفہ طور پر قریش کے حق میں تھیں ۔ اس کے باوجود آپ نے ان تمام شرطوں کو اس لئے منظور کر لیا کہ اس کی رو سے قریش اگلے دس سال کے لئے اس بات کے پابند ہوجاتے تھے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف براہ راست یا بالواسطہ جنگ نہیں کریں گے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حدیبیہ کا معاہدہ صلح کر کے مدینہ کے لئے واپس ہوئے تو راستہ میں سورہ فتح نازل ہوئی جس کی پہلی آیت یہ تھی: <إنا فتحنا لك فتحا مبینا (ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی) یعنی فریق ثانی مقابلہ کو اپنے موافق میدان جنگ، کی طرف لے جانا چاہتا تھا۔ مگر اس معاہدہ کے بعد فریق ثانی کے ساتھ تمہارا مقابلہ اس میدان (دعوت) میں آگیا جو واضح طور پر تمہارے موافق ہے۔

بعد کے حالات نے کامل طور پر اس اندازہ کی تصدیق کر دی۔ حدیبیہ کے نا جنگ معاہدہ کے بعد مسلمانوں اور دیگر قبائل کے درمیان آزادانہ اختلاط شروع ہو گیا۔ توحید کی دعوت ہلاروک ٹوک ہر طرف پھیلنے لگی۔ توحید کا پیغام جہاں بھی پہنچا اس نے شرک اور بت پرستی کے ذہن کو ہارنے پر مجبور تاریخ بتاتی ہے کہ صلح حدیبیہ سے پہلے تقریبا بیس سال میں جتنے لوگ مسلمان ہوئے تھے اس سے بہت زیادہ لوگ صلح حدیبیہ کے بعد صرف دو سال میں مسلمان ہو گئے! اب اسلام کی عددی طاقت اتنی زیادہ ہو چکی تھی کہ قریش کے اندر مقابلہ کا حوصلہ باقی نہ رہا۔ وہی قریش جنہوں نے سٹھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو مکہ میں صرف عمرہ کی غرض سے داخل ہونے پر پابندی لگادی تھی، اٹھ مہرمیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دس ہزار اصحاب کے ساتھ مکہ کی طرف فاتحانہ کوچ کیا تو قریش کے سردار نے مکہ میں اعلان کر دیا کہ اپنے گھروں میں داخل ہو جاؤ، کیوں کہ آج ہمارے اندر محمد سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔

صلح حدیبیہ، ایک لفظ میں، فریق ثانی سے مقابلہ کو جنگ کے میدان سے نکال کر دعوت کے میدان میں لانا ہے۔ یہ اسلام کی حکمت بالغہ کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ اور اس مثال کا سب سے اعلیٰ نمونہ وہ ہے جو خود پیغمبر اسلام صلی اللہ

علیہ وسلم نے اپنے عمل سے قائم فرمایا۔

Printed page