Al-Risala · September 1988

وسیع تر میدان

Al-Risala, September 1988, pp. 26–28

By Maulana Wahiduddin Khan

ظاہری طور پر دیکھنے میں حدیبیہ کا واقعہ میدانِ مقابلہ سے واپسی کا واقعہ معلوم ہوتا ہے لیکن گہرائی کے ساتھ دیکھئے تو وہ چھوٹے مقابلہ سے ہٹ کر بڑے مقابلہ کی طرف جانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ’’ حدیبیہ ‘‘ محدود میدانِ مقابلہ کو چھوڑ کر زیادہ وسیع میدانِ مقابلہ کی طرف اقدام تھا۔ اعتبار سے وہ بلاشبہ تدبیری حکمت (Strategy) کی ایک شاہکار مثال ہے۔

محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوئی بے مشن آدمی نہ تھے۔ بلکہ آپ کا ایک عظیم الشان مشن تھا۔ مشن آدمی کے لئے پس پائی کا کوئی سوال نہیں۔ آپ کا معاملہ یہ تھا کہ آپ لوگوں کو یہ پیغام دیتے تھے کہ وہ شرک کے بجائے توحید کا طریقہ اختیار کریں۔ آپ مخلوق پرستی کے بجائے خالق پرستی ، بے اصول زندگی کے بجائے با اصول زندگی ، دنیا پسندی کے بجائے آخرت پسندی ، مصنوعی طریقوں کے بجائے فطری طریقوں کو اختیار کرنے کے علم بردار تھے۔ آپ کے یہ افکار دنیا کے تمام افکار سے زیادہ طاقتور تھے۔ مگر مسلسل جنگی حالات نے آپ کے افکار کی اس طاقت کو ظاہر ہونے سے روک رکھا تھا۔ اس معاملہ کو ایک عام مثال کے ذریعہ یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ ایک سائنسداں اور ایک نیگرو باکسر کا مقابلہ اگر باکسنگ کے اکھاڑے میں ہو رہا ہو تو وہاں یقینی طور پر باکسر کا پلہ بھاری رہے گا لیکن اگر سائنس داں کسی حکمت سے مقابلہ کے میدان کو بدل دے اور باکسر کو باکسنگ کے اکھاڑے سے نکال کر سائنٹفک بحث کی میز پر لے آئے تو یقینی طور پر صورت حال بدل جائے گی۔ پہلے اگر باکسر کا پلہ بھاری تھا تو اب سائنس داں کی جیت یقینی ہو جائے گی۔

قدیم عرب میں، ہجرت کے بعد یہ صورت حال تھی کہ قریش کی ہٹ دھرمی نے ’’ جنگ ‘‘ کو مقابلہ کا میدان بنا دیا تھا۔ صلح حدیبیہ کی صورت میں جب دونوں فریقوں کے درمیان دس سال کا نا جنگ معاہدہ (No-war pact) ہوا تو اس کے بعد مقابلہ کا میدان بدل گیا۔ اب میدانِ جنگ کے بجائے میدانِ افکار مقابلہ کا مقام قرار پایا۔ اس دوسرے میدان میں اہل اسلام واضح طور پر اپنے فریق کے مقابلہ میں فائق حیثیت رکھتے تھے۔ اس لئے نئے میدان میں آتے ہی اسلام کی فکری اور نظریاتی فتح کا سیلاب پھٹ پڑا۔ لوگ جوق در جوق مذہبِ توحید کے دائرے میں داخل ہو گئے۔

میز کی سطح پر آتے ہی "باکسر" کے مقابلہ میں "سائنس داں" کی جیت یقینی ہواگئی۔ حدیبیہ کے وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ممکہ کی طرف جا رہے تھے تو آپ کے ساتھ ڈیڑھ ہزار سے بھی کم اس کے دو برس بعد آپ نے دوبارہ مکہ کی طرف سفر کیا تو آپ کے ہمراہ دس ہزار آدمی چنانچہ جب آپ مکہ کے قریب پہنچے اور لوگوں نے آپ کے ساتھ انسانوں کا سیلاب دیکھا تو مکہ کے سرداروں نے مکہ میں اعلان کر دیا کہ گھروں میں بیٹھ جاؤ، کیوں کہ آج ہمارے اندر محمد سے لڑنے کی طاقت نہیں ۔ کہ خون بہائے بغیر فتح ہو گیا اور اسی کے ساتھ ساری عرب قوم بھی۔ یہ مکمل طور پر ایک غیر خونی انقلاب تھا۔ مگر اس غیر خونی انقلاب کو وجود میں لانے کے لئے اس کے قائد کو خود خون ہونا پڑا ۔ اس کے لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایسی شرائط پر راضی ہوئے جو بظاہر انتہائی طور پر ایک طرفہ شرائط تھیں۔ آپ کو آگے جانے کے لئے پیچھے ہٹنا پڑا۔ آپ کو فتح حاصل کرنے کے لئے شکست پر راضی ہونا پڑا۔ حتی کہ آپ کو اپنی حیثیت اصلی (رسول اللہ) کا لفظ کا غنہ سے حذف کرنا پڑا تاکہ وہ دوبارہ زیادہ کامل طور پر عالمی نقشہ پر لکھا جائے۔ حریف سے اپنے موافق میدان میں مقابلہ کرنا، اس کے اوپر فتح حاصل کرنے کی سب سے زیادہ کامیاب تدبیر ہے۔ یہ تدبیر حریف کے مقابلہ میں کامیابی کو یقینی بنا دیتی ہے۔ مگر اس تدبیر کو استعمال کرنے کی ایک ضروری شرط ہے۔ لوگ چونکہ اس شرط کو پور انہیں کر پاتے، اس لئے وہ اس کے فائدے سے بھی محروم رہتے ہیں۔

یہ شرط، ایک لفظ میں، اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچانا ہے۔ جب بھی کسی سے مقابلہ پیش آتا ہے تو اس کی طرف سے طرح طرح کی مخالفانہ کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ اشتعال انگیز الفاظ سے لے کر عملی نقصانات تک، ہر قسم کے تلخ تجربات سامنے آتے ہیں۔ اس وقت اگر آدمی بھڑک اٹھے تو وہ وقتی جوش کے ساتھ حریف سے وہاں ٹکر اجائے گا جہاں وہ کھڑا ہوا ہے۔ لیکن اگر وہ اشتعال انگیزی کے باوجود مشتعل نہ ہو اور ٹھنڈے ذہن نے سوچ کر مقابلہ کا منصوبہ بنائے تو وہ کوشش کرے گا کہ حریف کو اپنے موافق میدان میں لائے۔ اور جب ایسا ہو گا تو اس کی کامیابی یقینی ہو جائے گی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان جان و مال کی بے پناہ قربانی کے باوجود ہر بار اپنے حریف سے

شکست کھارہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب حریف کی طرف سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو وہ فوراً بھڑک کر اس سے لڑجاتے ہیں۔ اور یہ تاریخ کا فیصلہ ہے کہ ردعمل کے تحت کی جانے والی لڑائی کا انجام ہمیشہ شکست ہو ، اور رد عمل سے اوپر اٹھ کر کئے جانے والے مقابلہ کا انجام ہمیشہ فتح کی صورت میں نکلے۔

Printed page