Al-Risala · September 1988

جامد گروہ ، تتوسیعیی گروہ

Al-Risala, September 1988, pp. 28–30

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذو القعدہ 6 ھ میں حدیبیہ کا معاہدہ کر کے مدینہ کے لئے واپس ہوئے ۔ ابھی آپ راستہ ہی میں تھے کہ یہ آیت اتری : انا فتحنا لك فتحا مبینا (الفتح، ۱) یعنی ہم نے تم کو تمہارے مخالفوں کے اوپر کھلی فتح دے دی۔ حدیبیہ کی صلح بظا ہر فریق ثانی کی شرطوں پر کی گئی تھی ، اس لئے جب یہ آیت اتری تو آپ کے اصحاب نے طرح طرح کے سوالات کئے۔ سے ایک یہ تھا :

قال رجل من اصحاب رسول الله صلى الله الله اصحاب رسول میں سے ایک شخص نے کہا کہ اے خدا عليه وسلم ای رسول الله او فتح هو کے رسول ، کیا وہ فتح ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ قال صلى الله عليه وسلم ای والذی وسلم نے فرمایا ، ہاں ، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ نفس محمد بیدہ انه لفتح میں محمد کی جان ہے ، بے شک وہ فتح ہے۔

(تفسیر ابن کثیر، الجز الرابع ، ۱۸۳)

متعدد صحابہ سے مروی ہے کہ انھوں نے بعد کے لوگوں سے کہا کہ تم لوگ فتح مکہ کو فتح سمجھتے ہو مگر ہم لوگ حدیبیہ کو فتح سمجھتے تھے (صفحہ ۱۸۳) اس کی وجہ کیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیبیہ کے معاہدہ نے اہل اسلام کو وسیع گروہ کی حیثیت دے دی ۔ اور اہل شرک محض جامد گروہ بن کر رہ گئے ۔ حدیبیہ کے معاہدہ سے پہلے دونوں گروہوں کے درمیان ٹکر اؤ اور ٹڈبھیڑ کی فضا تھی ۔ اب تک دونوں کی ملاقات صرف میدانِ مقابلہ میں ہوتی تھی ، صلح کے بعد میدان دعوت میں دونوں کی ملاقات کے مواقع پیدا ہو گئے ۔ شرک جہاں تھا وہیں رہا ۔ مگر اسلام ایسی پوزیشن میں آگیا جہاں سے وہ لوگوں کے دلوں میں نفوذ کر سکے۔

جب ایسا ہو کہ ایک گروہ جامد گروہ ہو اور دوسرا گروہ وہ وسیع گروہ کی حیثیت حاصل کرلے

تو اس کے فورا بعد جو واقعہ ہو گا وہ یہ کہ جامد گر وہ گھٹنا شروع ہو جائے گا۔ اور تو سیعی گروہ مسلسل بڑھنے اور جہاں اس قسم کا عمل شروع ہو جائے وہاں بالا آخر جو نتیجہ نکلے گا وہ وہی ہو گا جو عرب میں ہوا شرک کو ماننے والے دھیرے دھیرے اسلام میں داخل ہو گئے ۔ چند سال بعد ہی دیکھنے والوں نے دیکھا کہ جہاں دو متقابل گروہ تھے وہاں اب صرف ایک گردہ باقی رہ گیا ہے ۔ اور وہ اہل اسلام کا گردہ ہے پہاڑ کے اوپر سے پانی کا ایک چشمہ جاری ہوا۔ وہ آگے کی طرف بڑھتا رہا ، یہاں تک کہ اس کے راستہ میں ایک چٹان آگئی۔ اب چشمہ کیا کرے گا۔ وہ فورا ً دائیں یا بائیں مڑ کر اپنا راستہ بنالے گا۔ چٹان ایک جامد چیز ہے، وہ جہاں ہے وہیں کھڑی رہتی ہے ۔ اب اگر چشمہ صرف اس سے ٹکرا تار ہے تو اس کا سفر رک جائے گا ، اس کے بعد چشمہ کا معاملہ بھی جمود کا معاملہ بن جائے گا۔ جس طرح چٹان کا معاملہ جمود کا معاملہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ چشمہ ٹکراؤ پر قائم رہنے کے بجائے اعراض کی پالیسی اختیار کرتا ہے۔ وہ چٹان کو جمود کی دنیا میں چھوڑ کر اپنے لئے تو سیع کی دنیا حاصل کر لیتا ہے۔ یہ قدرت کا سبق ہے ۔ اسلام ایک دعوت ہے ، وہ ایک پھیلنے والی اور بڑھنے والی حقیقت وہ ایک تو سیعی پروگرام ہے۔ اس کے مقابلہ میں غیر اسلام ایک جامد چیز ہے۔ وہ پھیلنے اور آگے بڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اب اسلام اور غیر اسلام کے ٹکراؤ کے وقت اگر اسلام یہ کرے کہ وہ وہیں ٹھہر کر مقابلہ شروع کر دے تو وہ بھی اسی طرح جامد بن جائے گا جس طرح غیر اسلام جامد ہے۔ اپنی تو سیعی حیثیت کو کھو دے گا جو اس کی اصل حیثیت اور اس کی اصل طاقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی دعوت میں اعراض (Avoidance) کے اصول کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ۲۳ سالہ پیغمبرانہ زندگی میں مسلسل اسی اصول اعراض پر عمل فرمایا ہے ۔ مکہ کے ابتدائی ۱۳ سال میں مشرکین کے مسلسل ظلم کے باوجود آپ نے ان سے ٹکراؤنہیں کیا، یہ یہی اعراض تھا۔ حالات زیادہ سخت ہو گئے تو آپ مکہ کو چھوڑ کر مدینہ چلے گئے ، یہ بھی اعراض تھا۔ حدیبیہ کے موقع پر زیارت کعبہ میں رکاوٹ ڈالی گئی تو آپ اصرار کے بغیر درمیان سے واپس آگئے، یہ بھی اعراض تھا۔ اسی طرح ٹکرائو کے موقع پر آپ نے آخری امکان کی حد تک اعراض کیا ہے کیوں کہ اعراض نہ کرنا گویا اپنے آپ کو فریق ثانی کی طرح جامد کر دینا بنانے کے ہم معنی تھا ، جب کہ اعراض کرکے آپ

نے اپنے کو توسیعی گروہ کی حیثیت دے دی۔ اور توسیعی گروہ کی حیثیت حاصل کرنے ہی کا دوسرا نام غلبہ اور کامیابی ہے۔

Printed page