ایک انتباہ
Al-Risala, September 1988, pp. 44–45
By Maulana Wahiduddin Khan
بیسویں صدی میں مسلمانوں نے بار بار ایسا کیا ہے کہ وہ سیاسی لیڈروں کو اپنے ملی معاملات میں رہنما بنا لیتے ہیں۔ یہ مزاج اب اتنا زیادہ بڑھ چکا ہے کہ مسجد اور نماز جیسے امور میں بھی سیاسی لیڈر ہی ان کے رہنما اور نمائندے بنے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کا یہ فعل ان کے تمام جرموں میں سب سے زیادہ سنگین جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنے اس مزاج کو لازمی طور پر انھیں بدلنا ہوگا ورنہ شدید اندیشہ ہے کہ وہ خدا کی نصرت سے محروم ہو جائیں ، اور پھر اس دنیا میں کوئی ان کا حامی و مددگار نہ رہے۔ ایک تاجر کو اپنی دکان کے لیے سیل مین کا انتخاب کرنا ہو تو وہ کبھی کسی دادا کو اپنی دکان کا سیل مین نہیں بنائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کامیاب سیل مین میں جو سب سے ضروری صفت درکار ہے وہ میٹھا بول ہے ، جب کہ دادا گیری کے پیشہ میں ، اس کے برعکس ، کڑوا بول سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے ۔ دادا اکڑڑے بولی کا ماہر ہوتا ہے ، اس لیے وہ ایسے منصب کے لیے قطعاً موزوں نہیں جہاں میٹھا بول سب سے زیادہ مطلوب خصوصیت کی حیثیت رکھتا ہو۔
مسلمان کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ ایک داعی گروہ ہیں۔ ان پر لازم ہے کہ ان کی تمام سرگرمیاں دعوت رخی (Dawah oriented) ہوں۔ وہ ہر دوسری مصلحت پر دعوت کی مصلحت کو غالب رکھیں۔ سیاسی لیڈر کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس کا پورا فکر سیاست رخی (Politics oriented) وہ سیاسی مصلحت کو ہر دوسری مصلحت پر غالب رکھنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان جیسے گروہ کی نمائندگی کے لیے سیاسی لیڈر کسی طرح بھی موزوں اور مناسب نہیں ۔
داعی اور لیڈر دونوں ایک دوسرے سے بالکل مختلف شخصیتیں ہیں۔ داعی ایجابی نفسیات کی پیدا وار ہے اور لیڈر رد عمل کی نفسیات کی پیداوار ۔ داعی محبت کی زمین پر کھڑا ہوتا ہے اور لیڈر نفرت کی زمین پر۔ داعی دوسروں کو اپنے مطلوب کی نظر سے دیکھتا ہے اور لیڈر دوسروں کو اپنے حریف کی نظر سے ۔ داعی کا مفاد دوسروں کے ساتھ مصالحت میں ہوتا ہے اور لیڈر کا مفاد دوسروں کے ساتھ ٹکراؤ میں ۔ داعی حقائق کو مرکز توجہ بناتا ہے اور لیڈر رشوستوں کے پیچھے دوڑتا ہے۔ داعی خدا کی مرضی پر چلتا ہے اور لیڈر عوامی خواہشات پر ۔ داعی کا مقصد لوگوں کا دل جیتنا ہے اور لیڈر کا مقصد لوگوں کا استحصال کرنا ۔ داعی کی نظر اصل کام پر ہوتی ہے اور لیڈر کی نظر شہرت اور مقبولیت پر۔
کہ داعی اصلاح کا نقیب ہوتا ہے اور لیڈر تخریب کا علم بردار ۔
داعی اور لیڈر کا یہ فرق لیڈر کو امت مسلمہ جیسے گروہ کی نمائندگی کے لیے اسی طرح غیر موزوں بنا دیتا ہے جس طرح کسی دادا گیری اس کو دکان کی سیلیں مین شپ کے لیے غیر موزوں بنا دیتی ہے۔ مسلمان اگر چاہتے ہیں کہ اس ملک میں ان کے لیے مواقع کار کھلیں اور وہ خدا کی رحمت میں اپنا حصہ پائیں تو سب سے پہلا کام اٹھیں یہ کرنا ہے کہ وہ سیاسی لیڈروں کو اپنے ملی معاملات سے نکال پھینکیں ۔ کے بغیر ان کے معاملات کبھی درست ہونے والے نہیں ۔
اگر مسلمانوں کو آج یہ حقیقت دکھائی نہیں دیتی تو وہ دن دور نہیں جب پردہ پھٹے اور تمام حقیقتیں اپنے برہنہ روپ میں سامنے آجائیں۔ اس وقت ہر آدمی سچائی کو ماننے پر مجبور ہوگا ، اگر چہ اس وقت کا ماننا کسی کے کچھ کام نہیں آئے گا ۔