Al-Risala · September 1988

American Asian's: A Model

Al-Risala, September 1988, pp. 46–50

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مضمون میں مشن کے تعمیری نقطۂ نظر کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ ذریعہ ان شاء اللہ اسلامی مرکز کا تعمیری پیغام وسیع تر حلقہ تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔ پروفیسر موتی لال جوتوانی (نئی دہلی) نے گاڈ آرائرز کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد انھوں نے اس کتاب کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے ایک خط (۲۰ مئی ۱۹۸۸) اس کی چند سطریں یہ ہیں :

After reading the book, I wasn't the same as before: it made a thought- provoking perusal. No doubt, it is a good addition to Islamics. (Dr. Motilal حسین امام انجینئر نے جاپان سے اپنے خط (۲۳ مئی ۱۹۸۸) میں لکھا ہے کہ ان کو اسلامی مرکز کی کتاب 'اللہ اکبر' ملی۔ انھوں نے اس کا مطالعہ کیا اور اس سے غیر معمولی طور پر متاثر ہوئے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس کتاب کو بہت جلد انگریزی زبان میں شائع کیا جدید انسان کو اسلام کا ربانی پیغام پہنچانے کےلیے یہ کتاب بے حد موزوں ہے۔ صدر اسلامی مرکز کے سفر نامے مرتب کیے جا رہے ہیں ۔ ان شاء اللہ وہ حسب ذیل ترتیب سے شائع ہوں گے :

میوات کا سفر غیر ملکی اسفار ملکی اسفار ( مطبوعہ الرسالہ )

بقیہ اسفار (مطبوعه الجمعیة ويكلي)

عرب ملکوں سے اکثر خطوط آتے رہتے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ نہایت دل چسپی کے ساتھ مرکز کی عربی اور انگریزی مطبوعات کو پڑھ رہے ہیں اور اس سے گہرا

تاثر قبول کر رہے ہیں۔ الجزائر سے استاذ محبوب میلود اپنے خط (۲۳ شعبان ۱۴۰۸) میں اپنے مطالعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے لکھتے ہیں : وقد قرأت في رسائلكم وكتبكم عن اهداف المركز فانها والحق تعالى اعجبني واثلجت صدري۔

ایک صاحب اپنے خط (۲۶ مئی ۱۹۸۸) میں لکھتے ہیں : ایک مقام پر کچھ خواتین نے مجھ سے یہ سوال کیا کہ اسلام نے ہم کو بہت پیچھے کر دیا ہے ۔ بیرونی کاموں سے ہم کو معطل رکھا جاتا ہے۔ جب کہ دوسری عورتیں آگے بڑھ رہی ہیں۔ میں نے ان کو الرساله اکتوبر ۱۹۸۷ کا مضمون ’’تہذیب جدید کے مسائل‘‘ پیش کیا۔ واقعہ یہ ہے کہ اس نے جادو کا اثر کیا۔ پھر میرے پاس جتنے رسالے تھے سب لے جا کر دیا تو ایک ہی دن میں سب پڑھ ڈالا ۔ اب ان لوگوں کو الرسالہ سے بے حد دلچسپی ہو گئی ہے (جنید احمد، سیوان) ۷- غالب اکیڈمی کی تقریر (17 اپریل) کی رپورٹ دہلی کے مختلف اخبارات میں شائع ہوئی۔ ہندی روز نامہ نو بھارت ٹائمس (۱۸ اپریل ۱۹۸۸) نے تقریر کا خلاصہ دیتے ہوئے اس کا عنوان ان الفاظ میں قائم کیا : اسلام و د تر مان یک کا نر ما تا ۔ اخبار ہجوم نے اپنی تفصیلی رپورٹ اس عنوان کے ساتھ شائع کی ’’اسلام دور جدید کا خالق‘‘ وغیرہ ۸- بعض مقامات سے اطلاع ملی ہے کہ وہاں الرسالہ کے قارئین اور اس کے ہمدرد ہفتہ میں ایک بار کسی مقام پر جمع ہوتے ہیں ۔ ہر ایک اپنا کھانا اپنے ساتھ لاتا ہے ، اور سب مل کر ایک ساتھ کھاتے ہیں اور پھر الرسالہ کی توسیع و ترقی کے لیے مشورہ کرتے ہیں۔ ’’اجتماعی کھانا‘‘ کا یہ طریقہ بہت مناسب ہے ۔ دوسرے مقامات کے احباب کو بھی اس پر عمل کرنا چاہیے ۔

۹- مرکز کی اشاعتی اسکیم کے تحت حسب ذیل نئی کتابیں زیر طبع ہیں : میوات کا سفر، تعمیر کی طرف ، کاروانِ اسلام ، نشری تقریریں ، پیغامِ عمل ، عقلیات اسلام ۔ ۱۰- ریاض سے ایک صاحب اپنے خط ۲۵ اپریل ۱۹۸۸ میں لکھتے ہیں : کئی سالوں سے الرسالہ پڑھ رہا ہوں۔ یہ رسالہ ہمارے لیے بہترین نسخہ ہے۔ الرسالہ ہمارے ایک انڈین مسلمان کی معرفت ملتا ہے۔ اس سے مجھے بہت فائدہ پہنچا۔ اس سے پہلے میں حق کی پگڈنڈی پر

چل رہا تھا، اب میں حق کی شاہراہ پر چلتے ہوئے مومن کی کیفیت اپنے اندر محسوس کرتا اس رسالہ کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب ہم اسلام میں صحیح طور پر داخل ہوئے ہیں اور اب ایمان لائے ہیں۔ مجھے اسلامی لٹریچر میں اس سے معیاری اور کوئی رسالہ اب تک نظر نہ آیا۔ الرسالہ کے مختصر مضامین نے مجھے سوچ سمجھ عطا کی اور میری زندگی کو پورے طور پر تعمیر ی کاموں کے لیے بنا دیا ۔ (محمد منیر فیض) 11 - ایک صاحب اپنے خط (2 جون ۱۹۸۸) میں لکھتے ہیں : ہمارے آفس میں ایک انجینئر ہیں ان کا نام جینت بابو راؤ شمتی ہے ۔ وہ خدا پر یقین نہیں کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کچھ ہے انسان ہے ۔ اس سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ ان سے بات ہوئی تو میں نے ان کو گاڈ آرٹارئز پڑھنے کے لیے دی ۔ تیسرے دن انھوں نے آفس آتے ہی مجھ سے ملاقات کی اور کہا۔ نے کتاب کا مطالعہ کیا ۔ یقیناً تم نے ایک بہت ہی قیمتی کتاب مجھے پڑھنے کے لیے دی ہے۔ انسان کچھ نہیں۔ اس کتاب میں بہت ہی مدلل مقالے ہیں۔ اب مجھے اپنے نظریہ پر نظر ثانی کرنی ہوگی ۔ انھوں نے بتایا کہ وہ آپ سے خط کتابت کرنا چاہتے ہیں اور ساتھ ہی گاڈ آرٹارئز کا ترجمہ مراٹھی زبان میں کرنا چاہتے ہیں۔

۱۲ - ایک صاحب کراچی سے اپنے خط (۱۵ مئی ۱۹۸۸ ) میں لکھتے ہیں : آپ کی کتابوں کی افادیت محسوس کر کے ہم نے انھیں سندھی زبان میں شائع کرنا شروع کر دیا ہے۔ اب تک آٹھ دس کتابوں کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور سندھی نوجوانوں کے یہ تاثرات آئے ہیں کہ خدا کے فضل سے ان کتابوں کے مطالعہ نے ہمیں الحاد و دہریت کے سیلاب میں بہہ جانے سے بچالیا ۔ ( محمد موسی بھٹو، حیدر آباد ، سندھ) ۱۳ - ایک صاحب اپنے خط اار جون ۱۹۸۸ میں لکھتے ہیں : میں ایک مصروف دکاندار ہوں ۔ اس وجہ سے کتابوں کا مطالعہ نہیں کر پاتا ۔ مگر اس کے باوجود الرسالہ کا مطالعہ باقاعدگی کے ساتھ کرتا ہوں ۔ دکان پر جب بھی کچھ موقع ملتا ہے، الرسالہ کھول کر بیٹھ جاتا ہوں۔ ہر روز رات کو سونے سے پہلے گھر کے تمام افراد کو الرسالہ کے مضامین سناتا ہوں ۔ الحمد للہ آپ کے مضامین کو سن کر ہمارے بچوں کا مزاج اتنا بدل گیا ہے کہ وہ دینداری کی طرف مائل ہو گیے ہیں (انور کمال ، کلکتہ)

جلد اول : سورۃ فاتحہ ۔ سورۃ بنی اسرائیل جلد دوم : سورۃ الکہف ۔ قرآن کی بے شمار تفسیریں ہر زبان میں لکھی گئی ہیں۔ مگر تذکیر القرآن اپنی نوعیت کی پہلی تفسیر ہے۔ تذکیر القرآن میں قرآن کے اساسی مضمون اور اس کے بنیادی مقصد کو مرکزِ توجہ بنایا گیا ہے۔ جزئی مسائل اور معلوماتی تفصیلات کو چھوڑتے ہوئے اس میں قرآن کے اصل پیغام کو کھولا گیا ہے اور عصری اسلوب میں اس کے دعوتی اور تذکیری پہلو کو نمایاں کیا گیا ہے۔ تذکیر القرآن عوام و خواص دونوں کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔ وہ طالبین قرآن کے لیے فہم قرآن کی کنجی ہے۔ ہدیہ جلد اول ۱۰۰ روپیہ جلد دوم ۱۰۰ روپیہ مکتبہ الرساله ، نئی دہلی

100/- تذکیر القرآن جلداول 100/- " " جلد دوم 40/- اللہ اکبر 30/- پیغمبر انقلاب 35/- مذہب اور جدید چیلنج 25/- عظمت قرآن 25/- ظہورِ اسلام 20/- اسلامی زندگی 20/- احیاءِ اسلام 45/- رازِ حیات (مجلد) دین کیا ہے قرآن کا مطلوب انسان اسلام دینِ فطرت تاریخ کا سبق مذہب اور سائنس فسادات کا مسئلہ انسان اپنے آپ کو پہچان -/3 اسلامی دعوت -/4 -/6 خدا اور انسان -/4 -/4 حل یہاں ہے -/6 -/4 سچا راستہ -/2 -/4 دینی تعلیم -/4 -/4 حیاتِ طیّبہ -/4 -/8 باغِ جنّت -/4 -/4 نارِ جہنّم -/4 -/3 میوات کا سفر -/25 25/- | اسلام پندرھویں صدی میں -/4 | Rs. 45/- | God Arises | صراط مستقیم 35/- خاتونِ اسلام 25/- سوشلزم اور اسلام 20/- اسلام اور عصرِ حاضر 25/- حقیقتِ حج 20/- اسلامی تعلیمات 15/- تبلیغی تحریک 35/- تعبیر کی غلطی 10/- دین کی سیاسی تعبیر

Printed page