Al-Risala · October 1988

نبوت اور ختم نبوت

Al-Risala, October 1988, pp. 4–6

By Maulana Wahiduddin Khan

کچھ لوگوں سے ختم نبوت کے عقیدہ پر گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا ۔ اب قیامت تک کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس کی دلیل کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کی نقلی اور عقلی دلیلیں علماء نے بیان کی ہیں، میں خود بھی اس پر اپنی کتابوں میں کافی لکھ چکا ہوں ، اگر آپ اس موضوع کا علمی اور تفصیلی مطالعہ کرنا چاہیں تو ان کتابوں کا مطالعہ فرمائیں۔ تا ہم دوسری باتوں کے علاوہ ، یہ واقعہ بذات خود اس کی دلیل ہے کہ پیغمبر اسلام کے بعد دنیا میں کوئی اور پیغمبر ظاہر نہ ہو سکا۔ یہ ایک واقعاتی ثبوت ہے جو بتاتا ہے کہ پیغمبر اسلام کے بعد یہ سلسلہ عملی طور پر منقطع ہے۔

میں نے کہا کہ پیغمبر ہونا اس قسم کی کوئی سادہ سی بات نہیں جیسے ایک شخص خطیب یا شاعر بن جاتا کسی انسان کا پیغمبر ہونا انتہائی غیر معمولی بات ہے۔ جس طرح ساری تاریخ میں کبھی کوئی شخص یہ نہ کہہ سکا کہ میں کائنات کا خالق ہوں ۔ اسی طرح کوئی غیر پیغمبر یہ کہنے کی ہمت بھی نہیں کر سکتا کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں۔ پیغمبری کا دعوی یا تو کوئی پاگل شخص کرے گا ، یا وہ شخص کرے گا جو واقعی

اس سلسلہ میں میں نے اپنا ایک ذاتی تجربہ بتایا۔ میں نے کہا کہ ایک بابا جی تھے جن کے پیروؤں کی تعداد لاکھوں تک پہنچتی ہے۔ ۱۹۸۰ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کے کچھ پیروؤں سے ایک بار میری ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے بابا جی (Prophet of the time) (وقت کے پیغمبر) ہیں۔ میں نے بلا بحث ان سے کہا کہ آپ مجھے اپنے بابا جی کے پاس لے چلئے اور ان سے کہئے کہ میرے سامنے وہ اپنی زبان سے یہ جملہ دہرائیں کہ ” میں وقت کا پیغمبر ہوں “۔ اپائنٹمنٹ کے ذریعہ وقت طے ہوا۔ وہ لوگ مجھے بابا جی کے ہیڈ کوارٹر پر لے گئے۔ کئی لوگوں کی موجودگی میں بابا جی سے ملاقات ہوئی۔ میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک ان کی مجلس میں مگر بابا جی اپنی زبان سے یہ الفاظ دہرانے کی ہمت نہ کر سکے کہ ” میں وقت کا پیغمبر ہوں “ وہ صرف دوسری دوسری باتیں کرتے رہے۔ میں نے بابا جی سے کہا کہ آپ کے پیروؤں نے مجھے ال رسالہ اکتوبر ۱۹۸۸

بتایا ہے کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ میں وقت کا پیغمبر ہوں، مگر بابا جی نے اس کا کوئی براہ راست جواب نہیں دیا۔ یہاں تک کہ میں وہاں سے واپس چلا آیا۔

جن لوگوں سے یہ گفتگو ہو رہی تھی، انھوں نے دوبارہ کہا کہ مگر مرزا غلام احمد قادیانی (۱۹۰۸ - ۱۸۳۹) نے تو اپنے بارہ میں پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے حالات بتاتے ہیں کہ وہ خلل ذہنی کا شکار تھے، وہ کوئی صحیح الدماغ آدمی نہ تھے۔ ایسا شخص کوئی بھی لغو بات کہہ سکتا ہے۔ حتیٰ کہ ان کا غیر فصیح کلام خود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کسی پیغمبر کا کلام نہیں۔

تاہم اس سے قطع نظر، ان کے اصل دعوٰی پر غور کیجئے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ ظلی یا بروزی پیغمبر ہیں۔ یعنی وہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا بروز (Reappearance) ہیں۔ ان کا یہ قول اپنی تردید آپ ہے۔ جب وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بروز ہیں تو قدرتی طور پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں جانچ کر ان کے دعوٰی کی صحت یا عدم صحت کا فیصلہ کیا جانا یہ کہہ کر مرزا غلام احمد قادیانی نے خود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اوپر حج مان لیا۔ ان کی نبوت کو جانچنے کا معیار خود وہ ذات قرار پائی جو اپنے بعد کسی اور نبی کا پیشگی انکار کر چکی ہے۔ کیسی عجیب تردید ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی نے خود ہی اپنے خلاف فراہم کر دی ہے۔ اب مرز اغلام احمد قادیانی کو پیغمبر ماننے کی شرط اول یہ ہوگی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی تعلیمات سے یہ ثابت کیا جائے کہ آپ کے بعد ظلی یا بروزی پیغمبر آئیں گے۔ مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام کے پورے ذخیرہ (نیز قرآن) میں اس کے حق میں کوئی دلیل موجود نہیں۔ قرآن میں آپ کو خاتم النبیین بتایا گیا ہے (الاحزاب ۴۰)۔ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحتہً یہ فرما دیا ہے کہ میرے بعد کوئی اور نبی آنے والا نہیں۔ میرے بعد نبوت کے ایسے دعویدار تو اٹھ سکتے ہیں جن کا جھوٹا ہونا عیاشاً ثابت ہو، مگر میرے بعد کسی سچے نبی کی آمد ممکن نہیں:

عن ثوبان ، قال رسول اللہ صلی اللہ حضرت ثوبان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم .... وانہ سیکون فی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا .... اور یہ کہ میری امت امتی کذابون ثلاثون، كلهم میں تیس جھوٹے ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک

یزعم انہ نبی، وان خاتم النبین لا نبی گمان کرے گا کہ وہ نبی ہے۔ حالانکہ میں آخری بعدی (ابو داؤد، کتاب الفتن) بنی ہوں۔ میرے بعد کوئی اور نبی نہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی کا اپنے آپ کو محمد عربی کا بروز ی پیغمبر کہنا ایک خود تردیدی دعویٰ یہ اپنی تردید آپ کر رہا ہے۔ جب پیغمبر اسلام نے خود یہ نہ کہا ہو کہ میرے بعد میرا بروز ہوگا، یا آئندہ میرا بروز ی پیغمبر آئے گا تو کیسے یہ مانا جاسکتا ہے کہ آپ کا بروز ہوا۔ ایسی حالت میں تو یہ دعویٰ اپنے آپ کٹ جاتا ہے۔

اسی داخلی تضاد کا یہ نتیجہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی موت کے بعد ان کی جماعت میں تو جیہہ و تعبیر کا اختلاف پیدا ہوا اور ان کا فرقہ دو حصوں میں بٹ گیا۔ ایک فرقہ (احمدی فرقہ) نے ان کو مذکورہ معنوں میں نبی کہا۔ اور دوسرے فرقہ (لاہوری فرقہ) نے کہا کہ وہ صرف مجدد تھے۔

Printed page