Al-Risala · October 1988

تاریخ کی تصدیق

Al-Risala, October 1988, pp. 6–8

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور پر جلد ہی ڈیڑھ ہزار سال پورے ہونے والے ہیں۔ مگر اب تک ساری دنیا میں کوئی ایک بھی قابل ذکر شخص پیدا نہیں ہوا جو مستقل نبوت کا دعویٰ کرے، اور اس کا دعویٰ تاریخ میں برقرار رہے۔

آپ کے زمانہ میں عرب کے مسیلمہ حنفی (م ۶۳۳ نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ مگر اس کا دعویٰ صرف یہ تھا کہ میں محمد کے ساتھ کارِ نبوت میں شریک کیا گیا ہوں (إِنِّي قَدْ أَشْرِكْتُ فِي الْأَمْرِ مَعَهُ) آپ نے اس کے شریک نبوت ہونے کا انکار کیا ، اس لیے اس کا دعویٰ بے بنیاد ہو کر رہ گیا۔ عراق کے المتنبی (۹۶۵ - ۹۱۵ ء) نے جزئی نبوت کا دعویٰ کیا۔ مگر اپنی زندگی ہی میں وہ اپنے دعویٰ سے دست بردار پنجاب کے گرو نانک (۳۹ - ۱۵۴۹ء) کو ان کے کچھ معتقدین اپنے طور پر پیغمبر کہہ دیتے ہیں۔ مگر خود انھوں نے کبھی اپنے آپ کو پیغمبر کی حیثیت سے پیش نہیں کیا۔ ان کے اپنے کلام کے مطابق، انھیں صرف ایک مذہبی یا روحانی پیشوا کہا جا سکتا ہے۔ ایران کے بہاء اللہ (۱۸۹۲ - ۱۸۱۷ء) کا معاملہ بھی یہی انھوں نے پیغمبر خدا ہونے کا دعویٰ نہیں کیا ، بلکہ مہدی ہونے کا دعویٰ کیا۔ یعنی شیعہ عقیدہ کے مطابق، بارہواں امام جو رسول کی جگہ آئے گا۔ گویا ان کا دعویٰ جانشین رسول ہونے کا تھا نہ کہ رسول ہونے کا۔ اسی طرح ہندوستان کے غلام احمد قادیانی (۱۹۰۸ - ۱۸۳۹ء) نے اپنے آپ کو ذیلی پیغمبر کی حیثیت سے پیش کیا۔

مستقل پیغمبر کی حیثیت سے وہ اپنے آپ کو پیش کرنے کی ہمت نہ کر سکے ۔

پیغمبر اسلامؐ نے فرمایا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ۔ اب ایک مورخ مزید آگے بڑھ کر یہ کہنے پر مجبور ہے کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آیا ۔ آپ کے زمانہ میں جو چیز پیشین گوئی کی حیثیت رکھتی تھی ، آج وہ ایک تاریخی واقعہ بن چکی ہے ۔ کیا اس کے بعد بھی یہ گنجائش ہے کہ آپ کے خاتم الرسل ہونے پر شبہ کیا جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اہل ایمان کے لیے آپ عقیدہ کے اعتبار سے خاتم الرسل ہیں ، اور دوسرے لوگوں کے لیے تاریخی واقعہ کے اعتبار سے خاتم الرسول ۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن میں خاتم النبیین (Seal of the prophets) کہا گیا ہے ۔ یعنی نبیوں کی مہر ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے نبوت کے سلسلہ پر آخری مہر لگا دی ۔ اب اس فہرست میں کسی نئے نام کا اضافہ ہونے والا نہیں ۔ اسی بات کو آپ نے ان لفظوں میں بیان فرمایا کہ انتی آخر الانبیاء (میں آخری نبی ہوں)

نزول قرآن سے لے کر اب تک کے زمانہ کو دیکھیے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قرآن اور پیغمبر اسلام کے یہ الفاظ تاریخ کا فیصلہ بن گئے ۔ اس طویل مدت میں کوئی ایک شخص بھی نہیں جو بحیثیت نبی کے اٹھا ہو یا واقعی معنوں میں اس نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا ہو ۔ آپ کے بعد کی تاریخ کا پورا ذخیرہ ایسے کسی شخص کے تذکرے سے خالی ہے ۔

اصل یہ ہے کہ ہر مذہب میں بعض مصلح قسم کے افراد کے اٹھنے کی خبر دی گئی ہے ۔ اسی امکان کو کچھ افراد نے اپنی شخصی حوصلہ مندی کے لیے استعمال کیا ۔ مثلاً حدیث میں ایک " مہدی " کا ذکر ہے جس کو سنی مسلمان سادہ معنوں میں اور شیعہ حضرات مبالغہ آمیز معنی میں لیتے ہیں ۔ اس کے حوالے سے کچھ لوگ مہدی ہونے کے دعویدار بن گئے ۔ مسیحیت میں نیز اسلام میں حضرت مسیح کی آمد ثانی کا ذکر ہے ۔ اس بنا پر کچھ لوگ کہنے لگے کہ میں مسیح موعود ہوں ۔ اسی طرح ہندو دھرم میں بھگوان کے اوتار لینے کا تصور پایا جاتا ہے ۔ چنانچہ کچھ لوگوں نے اپنے آپ کو اوتار کے روپ میں پیش کرنا شروع کر دیا ۔ کے بعد اٹھنے والے تمام مدعیوں کا معاملہ ایک یا دوسری صورت میں یہی ہے ۔

پیغمبر اسلامؐ کے بعد جن مدعیان نبوت کا نام لیا جاتا ہے ، وہ غلط طور پر لیا جاتا ہے ۔ یہ ہے کہ یہ لوگ نبوت کی زمین پر نہیں اٹھے بلکہ دوسری زمینوں پر اٹھے ۔ نبوت کی زمین آپ کے بعد

ایک ممنوعہ زمین بن گئی ، اور عملاً وہ آج تک ممنوعہ زمین بنی ہوئی ہے ۔

Printed page