Al-Risala · October 1988

زندگی کا راز

Al-Risala, October 1988, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۹۴۷ میں برصغیر ہند کو آزادی ملی تو ایک طرف اہل پاکستان تھے جن کی نمائندگی کرتے ہوئے مسٹر محمد جناح نے کہا کہ ہم کو کٹا پھٹا اور کرم خوردہ پاکستان (Truncated and moth-eaten Pakistan) ان کے خوابوں کے پاکستان میں پنجاب اور بنگال کا پورا صوبہ شامل تھا۔ وہ پورے کشمیر کو اپنے ملک کا حصہ دیکھنا چاہتے تھے۔ اس لیے موجودہ پاکستان انھیں اپنی امیدوں سے کم نظر آیا۔ دوسری طرف اہل ہند کا حال بھی یہی ہوا۔ یہاں کے لوگوں کے ذہن میں آزاد ہندوستان یا سوتنتر بھارت کا جو تصور تھا، موجودہ ملک اس سے کم تھا۔ چنانچہ آزادی کے بعد بھی کروڑوں لوگ اسی احساس کا شکار رہے کہ ان کا محبوب بھارت انھیں ٹکڑے ہو کر ملا ہے ۔ انھوں نے جو کچھ چاہا تھا، اس سے بہت کم ہے وہ جو عملاً انھیں حاصل ہوا ہے ۔

آزادی بظاہر پانے کے انجام پر ختم ہوئی تھی۔ مگر مذکورہ اسباب کی بنا پر اس نے نہ پانے کے احساس کی صورت اختیار کر لی۔ سرحد کے دونوں طرف سیاسی محرومی کا جذبہ بھڑک اٹھا۔ دوسرے کو اپنا دشمن سمجھ کر ایک دوسرے کی کاٹ میں لگ گیے ۔ دونوں اس کوشش میں مصروف ہو گیے کہ یا تو ماضی کی سیاسی امنگوں کو دوبارہ واقع بنا ئیں یا کم از کم ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں کرکے اپنے سینہ میں جلتی ہوئی احساس محرومی کی آگ کو ٹھنڈا کریں۔

اس سے مختلف مثال جاپان کی ہے۔ دوسری جنگ عظیم نے اس کا جغرافی رقبہ بھی گھٹا دیا اور اس کی سیاسی اور فوجی آزادی بھی اس سے چھین لی ۔ مگر اہل جاپان نے کھوئی ہوئی چیز کو بھلا دیا ۔ اور جو چیز اب بھی انھیں حاصل تھی، اس پر قناعت کرتے ہوئے عملی جد و جہد شروع کر دی ـــــــــ چالیس سال بعد آج جاپان ترقی کی چوٹی پر پہنچ گیا ہے، اور ہندوستان اور پاکستان کے حصہ میں صرف یہ آیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کو اپنی بربادی کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے الفاظ کا جھوٹا طوفان برپا کرتے رہیں ۔

زندگی کم تر پر راضی ہونے کا نام ہے۔ اس دنیا میں جو کم پر راضی ہو جائے وہ زیادہ پا تا ہے۔ اور جو کم پر راضی نہ ہو، وہ کم سے بھی محروم رہتا ہے اور زیادہ سے بھی۔

Printed page