Al-Risala · October 1988

I thought it was a tremendous job.

Al-Risala, October 1988, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

چنانچہ یونیورسٹی نے فیصلہ کیا کہ جون ۱۹۸۸ میں ایک خصوصی تقریب کی جائے اور اس میں فرینک بورگن کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری دے دی جائے ۔ مزید یہ کہ شکاگو یونیورسٹی نے مسٹر بورگن کے پورے خاندان کے لیے ہوائی سفر کا انتظام اپنے ذمہ لیا تا کہ مسٹر بورگن کے ساتھ ان کی بیوی، بچے اور پوتے پوتیاں بھی شکاگو آئیں اور جون کے کا نوکیکیشن میں شرکت کر سکیں (ٹائمز آف انڈیا ۲۷ اپریل ۱۹۸۸)

جو واقعہ مسٹر فرینک بورگن کے ساتھ پیش آیا ، وہی زیادہ بڑے پیمانہ پر اس دنیا میں ان افراد کے ساتھ پیش آتا ہے جو خالص حق پر قائم ہونے کی کوشش کریں اور لوگوں کے سامنے بے آمیز سچائی کو پیش کرنا چاہتے ہوں ۔ دنیا کے وہ لوگ جن کا دین ذاتی مفاد ہے ، جو مصلحتوں میں ڈوبے ہوئے ہیں ، وہ انھیں رد کر دیتے ہیں۔ وہ ان کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے ۔ یہی پچھلے پیغمبروں کے ساتھ پیش آیا اور یہی موجودہ زمانہ کے علمبرداران حق کے ساتھ پیش آئے گا۔ مگر ناقدری اور بے اعترافی کا یہ ماحول ” ۴۵ سال “ سے زیادہ باقی رہنے والا نہیں۔ صورت حالی عارضی ہے نہ کہ مستقل ۔ وہ وقت لازماً آنے والا ہے جب کہ حالات مکمل طور پر بدل جب مالک کائنات براہ راست ظاہر ہو کر یہ اعلان کرے کہ میرے جس بندے کو انسانوں

نے رد کر دیا تھا ، اس کو میں قبولیت کا شرف عطا کرتا ہوں ۔ میرا یہی بندہ میرا مطلوب بندہ تھا۔ دوسرے لوگ اگر پھلکا ہیں تو یہ مغز تھا۔ دوسرے لوگ اگر کوڑا ہیں تو یہ اثاثہ تھا۔ لوگوں کے اس مردود بندے کو آج میں اپنے مقبول بندے کے طور پر سرفراز کرتا ہوں ۔ آج میں اس کے لیے ابدی انعامات کے تمام دروازے کھولتا ہوں ، وہ جس دروازے سے چاہے میری رحمتوں کی دنیا میں داخل ہو جائے ______________ اس آنے والے دن کا آنا یقینی ہے۔ دن مایوسی اور ناکامی رد کرنے والوں کے لیے ہوگی ، اور عزت اور کامیابی ان کے لیے جنہیں رد کر دیا گیا تھا ۔

یہی بات حضرت مسیح نے ان لفظوں میں کہی ہے کہ " بہت سے اول آخر ہو جائیں گے اور آخر اول " (مرقس ۱۰ : ۳۱) دوسری جگہ حضرت مسیح کا ارشاد اس طرح نقل کیا گیا ہے : پھر اس نے اپنے شاگردوں کی طرف نظر کر کے کہا مبارک ہو تم جو غریب ہو ، کیوں کہ خدا کی بادشاہی تمہاری ہے ۔ مبارک ہو تم جو اب بھوکے ہو ، کیوں کہ آسودہ ہو گے ۔ مبارک ہو تم جو اب روتے ہو ، کیوں کہ ہنسو گے ۔ جب ابن آدم کے سبب سے لوگ تم سے عداوت رکھیں گے اور تمہیں خارج کر دیں گے اور لعن طعن کریں گے اور تمہارا نام برا جان کر کاٹ دیں گے تو تم مبارک ہو گے ۔ دن خوش ہونا اور خوشی کے مارے اچھلنا ۔ اس لیے کہ دیکھو ، آسمان پر تمہارا اجر بڑا ہے ۔ ان کے باپ دادا نبیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔ مگر افسوس تم پر جو دولت مند ہو ، کیونکہ تم اپنی تسلی پا چکے ۔ افسوس تم پر جو اب سیر ہو ، کیوں کہ بھوکے ہو گے ۔ افسوس تم پر جو اب ہنستے ہو کیوں کہ ماتم کرو گے اور روؤ گے ۔ افسوس تم پر جب سب لوگ تمہیں بھلا کہیں ، کیوں کہ ان کے باپ دادا جھوٹے نبیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔ (لوقا ۶ : ۲۰ ۔

Printed page