نتیجہ بحث
Al-Risala, October 1988, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
روس اور امریکہ کے تعلقات میں یہ تبدیلی بلاشبہ ایک نہایت اہم واقعہ ہے۔ جدید تاریخ کے اس واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے۔ یہ واقعہ واضح طور پر بتاتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں ٹکراؤ کی پالیسی آخری حد تک اپنی اہمیت کھو چکی ہے۔ اپنے حریف پر الزام لگانا، اس کی کاٹ میں لگے رہنا، اس کے ساتھ مقابلہ آرائی کرنا، روس اور امریکہ جیسی طاقتوں کے لیے بھی سراسر بے فائدہ ہے، کہا کہ دوسری کمزور قومیں اس قسم کی منفی پالیسی اختیار کر کے کسی واقعی نتیجہ کی امید کر سکیں ۔ خواہ فرد کا معاملہ ہو یا قوم کا معاملہ، دونوں کے لیے مسئلہ کا حل اسی طریق کار میں ہے ۔ اس دنیا میں عقل مندی یہ ہے کہ آدمی دوسرے کی تخریب کرنے کے بجائے اپنی تعمیر میں لگ جائے۔ مسئلہ کو لے کر اس کے نام پر چیخ پکار کرنا یا حریف کے مقابلہ میں لڑائی چھیڑنا، صرف اپنے وقت اور قوت کو ضائع کرنا ہے۔ اس کے سوا اس کا اور کوئی انجام نہیں۔ ایک لفظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ترقی اور کامیابی کا راز حل رخی پالیسی میں ہے نہ کہ مذمت رخی (Blame-oriented) پالیسی میں۔ اسلامی شریعت میں عورت کا مقام اسلام اور جدید تہذیب کا تقابل از : مولانا وحید الدین خاں ( صفحات ۳۹۲ ، قیمت ۳۵ روپیہ )