Al-Risala · October 1988

میوات کا سفر

Al-Risala, October 1988, pp. 31–44

By Maulana Wahiduddin Khan

1964 میں جب میں دہلی آیا تو ”میوات“ کا ایک افسانوی تصور میرے ذہن میں تھا۔ یہ خواہش تھی کہ وہاں چل کر خود اپنی آنکھ سے دیکھا جائے کہ میوات کیا ہے۔ پہلی بار میں 1969 میں میوات گیا اور وہاں 24 گھنٹے گزارے۔ اس کے بعد اگلے دس سال کے عرصہ میں بار بار میوات کا سفر ہوتا رہا۔

اب کچھ لوگوں کا مشورہ ہوا کہ ان پچھلے سفر ناموں کو اکٹھا کر کے انھیں ایک کتاب کی صورت میں شائع کر دیا جائے۔ ان سفر ناموں کو دوبارہ مرتب کرتے ہوئے خیال آیا کہ یہ اسفار پندرہ سال پہلے کے زمانہ میں پیش آئے تھے ۔ ضرورت محسوس ہوئی کہ ایک بار اور میوات کے علاقہ کا سفر کر لیا جائے تاکہ میرا مشاہدہ مطابق حال ہو جائے ۔ اس کے مطابق میوات کا زیر تذکرہ یہ سفر میں نے بالقصد بذریعہ بس کیا تاکہ میں عام میواتیوں کو ان کے اپنے ماحول میں دیکھ سکوں اور زیادہ قریب سے میوات کا مشاہدہ کر سکوں۔

اس سفر میں مولانا عبد الرحیم بڑیڈوی میرے ساتھ تھے۔ ان سے میں نے مقصد سفر کا ذکر کیا تو انھوں نے مسکرا کر کہا: ”میوات میں ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ۔ پندرہ سال پہلے آپ نے میواتیوں کو جس حال میں دیکھا تھا ، وہیں آج بھی وہ پڑے ہوئے ہیں! “ سفر کے بعد میں نے محسوس کیا کہ واقعی ان کا بیان صحیح تھا۔ میوات کے دوسرے فرقوں کے لیے زمین حرکت میں ہے مگر میواتیوں کے لیے زمین بدستور رکی ہوئی ہے ، میواتیوں کے لیے وہ حرکت نہیں کرتی۔ ایک صاحب نے بس کا تازہ لطیفہ بتایا ۔ ایک عمر رسیدہ میوتی بس میں داخل ہوئی ۔ بس کے اندر ادھر اُدھر دیکھ رہی تھی کہ کہاں بیٹھے۔ ایک مسافر نے ازراہ تفریح ڈرائیور کی سیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دیکھو وہ سیٹ خالی ہے، اس پر بیٹھ جا۔ میوتی اپنی گٹھری لیے ہوئے وہاں پہنچی اور ”خالی سیٹ“ پر بیٹھ گئی ۔ کچھ دیر میں ڈرائیور اندر داخل ہوا۔ یہاں کہاں بیٹھ گئی۔ یہاں سے تو میں بیٹھ کر گاڑی چلاؤں گا! “ ڈرائیور نے کہا۔ میوتی نے نہایت اطمینان کے ساتھ اپنی گٹھری سنبھالتے ہوئے جواب دیا : میں تو چونکہ بھی بیٹھی ہوں، تو کہیں اور سے چلا لے ۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ میواتی مرد یا عورتیں خدا نخواستہ پیدائشی طور پر کم سمجھ ہوتے وہ بھی یقیناً وہی صلاحیتیں لے کر پیدا ہوتے ہیں جو دوسرے انسان لے کر پیدا ہوتے یہ دراصل تعلیم کی کمی ہے جس کی بنا پر میواتیوں کا شعور ارتقاء نہیں کر پاتا۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ قابل ذکر ہے۔ ایک بوڑھی میونی بازار گئی۔ اور پچاس روپے میں ایک زنانہ جوتا خرید کر لے آئی۔ گاؤں کی عورتوں نے دیکھ کر پوچھا کہ یہ جوتا تم نے کتنے میں خریدا۔ میونی نے کہا کہ ”آٹھ آنے میں“ عورتوں نے کہا کہ کیوں مذاق کر رہی ہو، صحیح دام بتاؤ۔ کہا کہ میں مذاق نہیں کر رہی ہوں۔ بات یہی ہے۔ عورتوں کو یقین نہیں آیا کہ ایسا جوتا آٹھ آنے میں مل سکتا ہے، چنانچہ وہ اصل قیمت جاننے کے لیے اصرار کرتی رہیں۔ آخر میونی نے کہا کہ بات یہ ہے کہ پہلے میں ایک سیر گھی بازار لے جاتی تھی اور آٹھ آنے میں بیچتی تھی۔ پھر آٹھ آنے کا جوتا خرید کر لاتی اب میں ایک سیر گھی لے کر بازار گئی تو میرا گھی پچاس روپے میں بکا اور جوتا بھی پچاس روپے تو میرے لیے تو جیسا پچاس روپیہ ویسا آٹھ آنے۔

مذکورہ میونی نے اقتصادیات کے ایک اصول کو نہایت کامیابی کے ساتھ سادہ لفظوں میں بیان کر دیا ہے۔ یعنی قیمت کے تعین کے اصول کو۔

۱۸ اکتوبر 1987 کی صبح کو ساڑھے چھ بجے دہلی سے بذریعہ بس روانگی ہوئی۔ آباد کی فصیلوں اور لال قلعہ کی دیواروں کو پیچھے چھوڑتے ہوتے ہماری بس آگے بڑھتی رہی۔ فرید آباد، بلب گڑھ، پلول، ہوڈل، کوسی ہوتے ہوئے ہم کامار (ضلع بھرت پور) پہنچے۔ ایک تاریخی قصبہ ہے۔ قدیم راجہ کے محل اب بھی یہاں ٹوٹی ہوئی حالت میں موجود ہیں۔ ۱۹۴۷ سے پہلے محلہ قاضی پاڑہ میں مسلمانوں کی آبادی تھی ۔ تقسیم کے بعد صاحب حیثیت لوگ زیادہ تر پاکستان چلے گئے۔ اس وقت یہاں ایک جامع مسجد زیر تعمیر تھی۔ عین اسی زمانہ میں تقسیم کا ہنگامہ پیش آیا اور مسجد اس حال میں پڑی رہ گئی کہ دیواریں کھڑی ہوئیں تھیں مگر چھت صحن اور فرش کی جگہ گڑھے تھے۔ ویران مسجد جانوروں کی آماج گاہ بن گئی۔ ۳۰ سال سے زیادہ عرصے کے بعد حاجی رحیم بخش کو خیال آیا کہ اس کی تعمیر کریں اور اس کو باقاعدہ آباد کریں۔ انھوں نے " آسمان کے سایہ کے نیچے " اور صرف اللہ کے بھروسہ پر کام شروع

انھوں نے مسجد کی تعمیر مکمل کی اور یہاں حفظ قرآن کا مدرسہ قائم کیا۔ اب ماشاء اللہ یہ ایک آباد یہاں تقریباً ۵۰ طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ حافظ کے علاوہ دوسرے علوم بھی بقدر ضرورت پڑھائے جا رہے ہیں۔ قاری عبد الرحمن ہزاروی اس کے روح رواں ہیں۔ میری فرمائش پر چند بچوں نے قرآن کے کچھ حصے پڑھ کر سنائے۔ بچے جب قرات کے ساتھ قرآن کی آیتیں پڑھ رہے تھے تو مجھے یاد آیا کہ نزول قرآن سے لے کر اب تک مسلسل ہر دور میں اور رات دن کے ہر لمحہ میں امت اسی طرح قرآن کو پڑھتی اور سناتی رہی ہے۔ اچانک ایسا محسوس ہوا جیسے حال کا رشتہ ماضی سے مل گیا ہے، جیسے آج کے قاری قرآن کے الفاظ دور اول کے قاری قرآن سے ہم آہنگ ہو گئے ہیں۔ جیسے کہ یہ وہی پیغمبر عربی کی بلند کی ہوئی قدیم آواز ہے جو مجھ کو جدید نسل کی زبان سے سنائی دے رہی ہے۔

یہ وہ علاقہ ہے جہاں 1947 میں کافی مارکاٹ ہوئی تھی ۔ یہاں کے مسلمان سب ادھر اُدھر چلے گیے تھے۔ مسجد کو آباد کرنے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مسلمان دوبارہ آ کر بنا شروع ہو گیے چنانچہ اب کافی مسلمان دوبارہ واپس آ کر یہاں آباد ہو گئے ہیں۔ اسی طرح دوسری قوموں کے لوگوں کی آبادی میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔

س کہا کی اس مسجد کے قریب ایک گور دوارہ ہے اور اس سے بالکل ملا ہوا مندر بھی ہے۔ یہاں جو بابا جی ہیں وہ روزانہ صبح کو فجر سے پہلے اپنی مذہبی ریکارڈنگ کرتے ہیں۔ مگر مسجد والوں نے بتایا کہ بابا جی ہماری عبادت کا اتنا احترام کرتے ہیں کہ جیسے ہی ہمارا موذن فجر کی اذان شروع کرتا ہے، وہ فوراً اپنی ریکارڈنگ بند کر دیتے ہیں۔

بابا جی ایسا کسی مطالبہ یا احتجاج کی بنا پر نہیں کرتے۔ بلکہ محض اپنے مذہبی جذبہ کے تحت حقیقت یہ ہے کہ ایک دوسرے کی اچھی بات کا احترام کرنا ایک فطری جذبہ ہے جو خود خدا نے ہر آدمی کے اندر پیدا کر رکھا ہے۔ اگر انسان کو چھیڑا نہ جائے تو یہ فطری جذبہ کام کرے گا اور اپنے آپ دوسروں کے اچھے کام کے احترام کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ مگر جب ایک فریق دوسرے فریق کی انا کو جگا دے تو یہ پیدائشی جذبہ دب جاتا ہے۔ اس کے بعد انسان کی بھڑکی ہوئی انا کام کرنے لگتی ہے نہ کہ خدا کا پیدا کیا ہوا فطری جذبہ ___ حقیقت یہ ہے کہ

ہر آدمی کے حصہ میں اس کے اپنے عمل کا انجام آتا ہے۔ اگر چہ وہ اس کو نادانی کی بنا پر فریق ثانی کی طرف منسوب کر دیتا ہے۔

اس مسجد اور مدرسہ کو خوش قسمتی سے ایسے کارکن ملے ہیں جو نہایت سیدھے ہیں۔ لڑائی تو درکنار ، وہ احتجاج کی زبانی مہم بھی چلانا نہیں جانتے۔ وہ ماحول کے ہر خوش گوار یا ناخوش گوار واقعہ سے بے خبر رہ کر بس " قرآن کی خدمت " میں مشغول رہتے ہیں۔ مزاجی کا انھیں زبر دست فائدہ ملا ہے۔

مجھے یہاں بیت الخلاء جانے کا اتفاق ہوا۔ خلاف توقع میں نے دیکھا کہ دو نہایت صاف ستھرے بیت الخلاء " فلش " کے اصول پر بنے ہوئے ہیں۔ یہ میوات میں میرے لیے نئی چیز تھی۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ دونوں حکومت کی مدد سے بنے ہیں۔ حکومت کی طرف سے دیہات کے سرکاری اسکولوں کے لیے اس قسم کی سہولت کا اعلان کیا گیا تھا۔ مدرسہ والوں نے بھی اپنے لیے دو بیت الخلاء کی درخواست دے دی۔ درخواست منظور ہوگئی ، اور یہ مسئلہ نہایت عمدہ طریقہ پر حل ہو گیا ۔ اسی طرح مدرسہ والوں کی درخواست پر حکومت کے محکمہ نے یہاں بجلی اور پانی بھی پہنچا دیا ہے ۔

مسجد اور مدرسہ کے کارکنوں کو دیکھیے تو وہ تقریباً بے زبان معلوم ہوں گے۔ بعض حالات میں بے زبانی اس سے بھی زیادہ بڑی طاقت بن جاتی ہے جتنی کہ زبان دانی۔ کاماسے دوبارہ بذریعہ بس روانہ ہوئے۔ اور پہاڑی، گوپال گڑھ، سیکری وغیرہ ہوتے ہوئے گلپاڑہ پہنچے ۔ راستہ میں بس چند منٹ کے لیے میل کھیڑلا کے مدرسہ پر رکی۔ میں نے دیکھا کہ سڑک کے کنارے ایک شاندار مسجد اور مدرسہ وسیع رقبہ میں بنایا گیا ہے اور اس پر اسلامی مدرسہ کا بورڈ لگا ہوا ہے۔ میں نے سوچا کہ جو لوگ " تعمیر " کے ان امکانات کو نہیں دیکھتے ، اور صرف " تخریب " کی خبریں سناتے رہتے ہیں وہ خود سب سے بڑے تخریب کار ہیں، خواہ بطور خود وہ اپنے آپ کو معمار قوم کیوں نہ سمجھ رہے ہوں ۔ گلپاڑہ میں بھی سڑک کے کنارے ایک بڑی جامع مسجد کھڑی ہوئی نظر آئی ۔ یہ مسجد بالکل نئی جگہ پر بنائی گئی ہے۔ اسی کے ساتھ یہاں ایک مدرسہ بھی زیر تعمیر ہے۔ اس مسجد میں ہم

نے ظہر کی نماز ادا کی۔ میں نے سوچا کہ اس ملک میں اگر مسلمانوں نے کچھ کھویا ہے تو اس سے بہت زیادہ اب بھی ان کے لیے یہاں موجود ہے۔ مگر اس ملک میں مسلمانوں کی قیادت ماضی کے قائدین سے لے کر حال کے قائدین تک ایک ہی غلطی کر رہی ہے۔ اور وہ ہے بعض ناموافق حالات کی ہماری قیادت کا حال یہ ہے کہ ۹۹ اچھی باتیں اس کو نظر نہیں آتیں۔ البتہ ایک خراب بات اس کو انتہائی باریک بینی کے ساتھ نظر آ جاتی ہے۔ اور اس کے نام پر دھوم مچا کر عام مسلمانوں کا ذہن اس طرح خراب کر دیتی ہے کہ اب مسلمانوں میں شاید وہ لوگ باقی ہی نہیں رہے جو مثبت اور حقیقت پسندانہ انداز پر سوچ سکیں۔

گلپاڑہ میں مفتی عبدالشکور مظاہری (پیدائش ، ۱۹۴۷ء) سے ملاقات ہوئی۔ بتایا کہ ۱۹۷۰ء میں وہ ایک جماعت کے ساتھ پٹن (گجرات) گئے ۔ یہاں مولانا محمد طاہر پٹنی مصنف مجمع بحار الانوار کے خاندان کے ایک صاحب ان کو اپنے گھر لے گئے۔ ان کے پاس مخطوطات (ہاتھ سے لکھی ہوئی کتابوں) کا ایک بڑا ذخیرہ تھا۔ وہ اس کو فروخت کرنا چاہتے انھوں نے اپنا یہ ذخیرہ مختلف لوگوں کو دکھایا ، مگر کوئی شخص اس کو خریدنے پر آمادہ نہ اس کی وجہ یہ تھی کہ اکثر کتابوں کے سرورق غائب تھے اور بظاہر یہ اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ یہ کون سی کتاب ہے۔

مفتی عبد الشکور صاحب نے ایک کتاب اٹھائی۔ یہ کتاب چار ضخیم جلدوں میں تھی ۔ جلد پر بھی سرورق موجود نہ تھا۔ میں نے دیکھا تو چاروں نہایت عمدہ خط میں اس طرح یکساں انداز میں لکھی ہوئی تھیں جیسے کہ وہ ٹائپ میں چھاپی گئی ہوں ۔

مفتی عبد الشکور صاحب نے ایک جلد اٹھائی اور کھول کر اس کا ابتدائی صفحہ پڑھتا اس میں چند سطروں کے بعد مصنف نے اپنے اس مجموعہ کتب کے بارے میں یہ الفاظ لکھے تھے :

وَسَمَّيْتُهَا فَتْحَ اللَّهِ الْمَعِينِ عَلَى شَرْحِ الْعَلَّامَةِ مُلَّا مِسْكِين وہ چوں کہ " ملا مسکین " سے واقف تھے، انھوں نے اس جملہ سے پوری بات پالی ــــــــ " كنز الدقائق کی شرح ملا مسکین ، اور ملا مسکین کی شرح فتح الله المعين " یہ کتاب اب

بھی نہایت عمدہ حالت میں ہے اور اس کے مصنف سید محمد ابو السعود ہیں۔ اسی طرح انھوں نے دوسری کتابوں کے بارہ میں پتہ کر لیا اور خریدنے کے لیے آمادگی ظاہر کر دی۔ نے اولاً سب کی قیمت تین ہزار روپے بتائی۔ مگر مفتی عبد الشکور صاحب کے الفاظ میں " اس وقت تین ہزار میرے لیے کالا پہاڑ کی طرح تھا " آخر کار مالک نے صرف ۳۵۰ روپے میں سارا قیمتی ذخیرہ انھیں دیدیا۔ یہ کل ۷۰ کتابیں ہیں۔ ان میں فتاویٰ تاتار خانیہ جیسی تاریخی کتابیں بھی شامل ہیں۔

کسی حقیقت کو پانے کے لیے پیشگی طور پر اس سے آشنا ہونا ضروری ہے۔ جو لوگ پیشگی طور پر آشنا نہ ہوں ، وہ حقیقت کو اپنے سامنے بے نقاب دیکھیں گے مگر وہ اس کو پہچان نہ

گلپاڑہ کی ملاقاتوں میں ایک یادگار ملاقات حاجی دراب خاں (عمر 80 سال) کی تھی۔ بالکل ان پڑھ ہیں۔ اپنا نام بھی نہیں لکھ سکتے۔ مگر ان کے اندر ایک ایسی خصوصیت ہے جو اپنی معلومات کے مطابق اب تک میں نے کسی عالم کے اندر بھی نہیں پائی، وہ ہے اختلاف کے باوجود قدر دانی۔

مولانا عبد الرحیم صاحب (بڈیڈ ضلع گورگاؤں) اس سے پہلے گلپاڑہ کے مدرسہ میں استاد وہ یہاں ساڑھے تین سال تک امام اور مدرس کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ میں وہ یہاں سے چھوڑ کر چلے گئے۔ دیہات کے لوگوں کو اکثر چھوٹی چھوٹی باتوں میں اماموں اور مدرسوں سے شکایت ہو جاتی ہے۔ چنانچہ گلپاڑہ کے لوگوں کو بھی ہوئی۔ انھیں میں سے ایک حاجی دراب خاں بھی تھے ۔ ان کے الفاظ میں ان کی " اس مولوی سے لڑائی رہنے لگی " لڑائی کس بات پر ہوتی تھی۔ معمولی معمولی باتوں پر ۔ مثلاً حاجی دراب خاں نے اپنا ایک درخت کٹوایا اور اس کی لکڑی مسجد کے صحن میں رکھوا دی۔ اس کی وجہ سے مسجد کا صحن تنگ ہو گیا۔ مولانا عبد الرحیم صاحب نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ اس لکڑی کو یہاں سے ہٹاؤ ۔ دراب خاں نے نہیں ہٹوایا۔ آخر مولانا عبد الرحیم صاحب نے ایک روز اپنے مدرسہ کے لڑکوں کے ذریعہ تمام لکڑی کو وہاں سے نکلوا کر باہر رکھوا دیا۔ اس پر حاجی دراب خاں کافی غصہ ہوئے۔

یہ مسجد حاجی دراب خاں کے خاندان نے بنوائی تھی ۔ مدرسہ بھی ان ہی لوگوں نے قائم کیا مولا نا عبدالرحیم صاحب وہاں گو یا ان کے ایک " ملازم " تھے۔ ایسی حالت میں ان کی یہ جسارت بالکل ناقابل برداشت تھی۔ اس قسم کی اور بہت سی باتیں تھیں جن کی وجہ سے حاجی دراب کی ، اس مولوی سے لڑائی رہتی تھی ، مگر مولا نا عبدالرحیم نے بتایا کہ اس کے باوجود کبھی ایسا نہیں ہواا کہ حاجی دراب ان کے بارہ میں مخالفانہ رول ادا کریں۔

مولا نا عبدالرحیم ایک با اصول آدمی ہیں اور اسی کے ساتھ صاف گو ہیں۔ کے لوگوں سے کسی نہ کسی بات پر ان کی تکرار ہو جاتی تھی۔ مثلاً وہ یہاں مسجد کے امام بھی تھے۔ مقرر وقت پر وہ ٹھیک گھڑی کے لحاظ سے جماعت شروع کر دیتے تھے، خواہ کوئی آیا ہو یا نہ بعض لوگوں کو یہ بات بہت ناگوار ہوتی تھی۔ اس طرح کی باتوں کا نتیجہ یہ ہو کہ کئی لوگ ان کے خلاف ہو گئے ۔ حتی کہ انھوں نے گاؤں کی اکثریت کو اپنے موافق بنالیا اور عام رائے یہ ہو گئی کہ ان کو مدرسہ سے نکال دیا جائے اور ان کی جگہ دوسرے آدمی کو لایا جائے ۔ مگر حاجی دراب اس تحریک کے سخت مخالف ہو گئے ۔ انھوں نے کہا کہ ۔ اگر چہ اس مولوی سے میری ذاتی لڑائی ہے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ مدرسہ کے کام کے لیے وہ نہایت موزوں ہے ، اس کو ہٹانے کے بعد ایسا لائق معلم ہم کو نہیں مل سکتا۔ اس لیے انھوں نے اختلاف کو نظر انداز کرتے ہوئے مولوی عبد الرحیم صاحب کی بھر پور حمایت کی ۔ کے باوجود اعتراف اور قدر دانی کی یہ صفت اتنی کم یاب ہے کہ کم از کم میں نے اپنے تجربہ میں اب تک کوئی دوسرا حاجی دراب نہیں دیکھا۔

" حاجی دراب خاں ، بظاہر ایک معمولی آدمی ہیں مگر میرے نزدیک وہ آنے والے عظیم میوات کی علامت ہیں ۔ وہ میوؤں کے تاریک حال میں اس کے روشن مستقبل کو بتا رہے ہیں۔ میو قوم اگر چہ اپنی جہالت اور اپنی بے شعوری کی وجہ سے ہندوستان کی ایک پچھڑی ہوئی قوم بنی ہوئی ہے ۔ مگر فطری امکانات کے اعتبار سے وہ ایک جاندار قوم ہے۔ باعتبار واقعہ اگرچہ یہ دوسروں سے پیچھے ہیں ۔ مگر باعتبار امکان آج بھی وہ دوسروں سے آگے ہیں۔ کو نظر انداز کر کے کسی کی خوبیوں کا اعتراف کرنا ، اعلیٰ ترین انسانی صفت ہے۔ حاجی دراب کی مثال

بتاتی ہے کر یہ اعلیٰ انسانی صفت میوؤں کے انر موجود ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں میوؤں کے لیے ایک عظیم مستقبل کا امکان چھپا ہوا ہے۔

حاجی دراب خاں نے بتایا کہ انھوں نے مولانا محمد الیاس صاحب کو کئی بار دیکھا ہے اور ان کی تقریریں اور گفتگوئیں سنی ہیں۔ میں نے کہا کہ مولانا الیاس صاحب کی کوئی بات جو آپ کو یاد ہو بتائیے ۔ انھوں نے کہا کہ مولانا جب یہاں آئے تو انھوں نے میوؤں سے کہا کہ ـــــــ سلوک سے رہو ، نماز پڑھو اور جماعتوں میں جاؤ۔

میں مسجد میں تھا کہ ایک میو نے دوسرے میو سے سوال کے انداز میں کہا: کہ لیے اُجو (کرلیا وضو) میواتی زبان دراصل بگڑی ہوئی اردو کا دوسرا نام ہے۔ دنیا کی تقریباً تمام زبانوں کا حال یہی ہے۔ ہر ایک کی ایک ادبی اور تحریری زبان ہوتی ہے اور دوسری وہ ہے جس کو عوامی بولی کہا جاتا ہے ۔ اسی فرق کی وجہ سے ایک زبان جانتے ہوئے بھی آدمی اس ملک کے باشندوں کی باہمی گفتگو کو سمجھ نہیں پاتا۔ کیوں کہ غیر شخص کتابی زبان جانتا ہے اور مقامی لوگ عوامی بولی میں باہم گفتگو کرتے ہیں۔ یہ ثنویت عربی اور انگریزی جیسی زبانوں میں بھی ہے اور اردو اور ہندی جیسی زبانوں میں بھی۔

ایک نوجوان میو سے ملاقات ہوئی ۔ اس کا ایک ہاتھ کہنی کے پاس سے کٹا ہوا تھا۔ ہوا کہ تھریشر (Thresher) میں کٹ گیا ہے۔ جب سے تھریشر د دانہ کو بھوسہ سے الگ کرنے والی مشین) کا رواج ہوا ہے ، اس طرح کے حادثے زرعی علاقوں میں بہت زیادہ پیش آرہے ہیں۔ بیل کا رواج کم ہو جانے کی وجہ سے لوگ تھر یشر کا استعمال کرنے پر مجبور ہیں ، اور موجودہ تھریشر کا حال یہ ہے کہ ذرا سی غفلت سے وہ ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور پھر اس کو کچلے بغیر نہیں رہتا۔ ترقی یافتہ ملکوں میں اب تھریشر کی جگہ کمبائن (Combine) مشین رائج ہو گئی ہے۔ مشین بہ یک وقت دو کام کرتی ہے۔ وہ فصل کاٹتے ہوئے عین اسی وقت اس کا دانہ بھی الگ کر دیتی ہے ۔

تاہم تھریشر بجائے خود کوئی مہلک چیز نہیں ، یہ ہندستانی صنعت ہے جس نے اس کو مہلک بنا دیا ہے ۔ ہندوستان میں جو تھریشر بنائے جاتے ہیں وہ ایسی وضع کے ہوتے ہیں کہ ان

میں ڈالنے والی چیز کنارے سے ڈالی جاتی ہے اور اس کو ہاتھ سے دھکیلنا پڑتا ہے۔ اس بنا پر یہ خطرہ رہتا ہے کہ ہاتھ اس کے اندر چلا جائے ۔ مگر یہ پرانا طریقہ ہے۔ باہر کے ملکوں میں اب ایسے تھریشر بنے گئے ہیں جن میں کٹی ہوئی فصل کے گھٹے بنا کر اوپر سے ڈال دیتے ہیں، ٹھیک ویسے ہی جیسے آٹا پیسنے والی مشین میں غلہ اوپر سے ڈال دیا جاتا ہے ۔ اس دوسری قسم کے تھریشر میں یہ امکان ہی نہیں کہ ہاتھ کو مشین پکڑلے ۔

ہر سال اخباروں میں تھریشر سے ہاتھ کٹنے کی خبریں چھپتی ہیں۔ مگر تعجب ہے کہ ہندوستانی مشینوں کا طرز ابھی تک بدلا نہیں گیا۔

ہم لوگ بستی میں چل رہے تھے کہ ایک عورت گود میں ایک بچہ لیے ہوئے سامنے آئی ۔ نے مولانا عبد الرحيم صاحب بڑیوی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : میری بہن کو خون کٹ رہا ہے ، اس کو ٹکس بنادے ( میری لڑکی کو خون کی پیچش ہورہی ہے، اس کے لیے تعویذ لکھ دو ) میوات کا سب سے بڑا مسئلہ اس کی جہالت ہے۔ یہاں کے بیشتر لوگ ناخوانده یا نیم خوانده اس کی وجہ سے یہاں کی زندگی میں رسوم اور توہمات کا اتنا غلبہ ہے کہ اس کے نیچے میوؤں کی پوری زندگی دب کر رہ گئی ہے۔ خاص طور پر عورتیں تو بالکل ہی ان پڑھ ہیں۔ شاذ و نادر ہی ایسی عورتیں ملیں گی جو ایک خط بھی لکھ سکتی ہوں ۔ علم کی اہمیت زندگی میں جتنی زیادہ ہے؛ میوؤں کے یہاں اس کی اہمیت اتنی ہی کم نظر آتی ہے۔

گپیاڑہ قصبہ کی تقریبا تمام دکانیں دوسری اقوام کی ہیں۔ مسلمانوں کی کوئی ایک بھی قابل ذکر دوکان نہیں۔ صبح کے وقت میں قصبہ کے اندر سے گزرا تو میں نے دیکھا کہ دکاندار اپنی دکان کے سامنے بیٹھے ہوئے ہندی اخبار پڑھ رہے ہیں۔ جب کہ میوؤں کے لیے اخبار پڑھنا ابھی تک ایسا ہی ہے جیسے چاند پر سفر کرنا ۔ اسی بے علمی کی وجہ سے میو تجار توں میں داخل نہ ہو سکے اور زراعت ( زمیندارہ ) جس میں ان کے تمام مرد و عورت اور چھوٹے بڑے لگے رہتے ہیں، ان میں بھی وہ زیادہ ترقی نہ کر سکے۔ تاہم پچھلے اسفار کے مقابلہ میں اس بار مجھے کئی میو زمیندار کے یہاں ٹریکٹر اور ٹیوب ویل نظر آیا جو کہ پہلے نایاب تھا۔ کر رہے ہیں۔ مگر اس کی رفتار اتنی کم ہے کہ خورد بینی مشاہدہ کے ذریعہ ہی اس کو

دیکھا جا سکتا ہے۔

پورے میوات میں سٹرک اور بجلی کی وجہ سے کام کی نئی صورتیں پیدا ہوئی ہیں۔ سے مقامات جہاں پہلے ویرانہ تھا۔ لوگ ان کو بھوت کی جگہ سمجھتے تھے، وہاں اب پر رونق بازار بن گئے ہیں۔ مگر ان میں میووں کا کوئی قابل مشاہدہ حصہ نہیں ۔

میوات کے دیہاتوں کا نقشہ اب بھی تقریباً وہی ہے جو ۷۰ سال پہلے تھا۔ راستے، مٹی کی دیواروں کے اوپر چھپر۔ ہم ایک میو کے گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک طرف سرسوں کے ڈنٹھل سے کھانا پک رہا ہے۔ دوسری طرف بیل بندھے ہوئے بول و براز کر رہے ایک کنارے دو عورتیں ”مشین“ چلا کر چارہ کاٹ رہی ہیں۔ غرض رہائش سے لے کر گھر ہستی تک جتنے لوازم ہیں، سب ایک غیر منصوبہ بند احاطہ کے اندر موجود تھے۔ اور اس کا نام آپ کو ایسے میو ملیں گے جن کے گھروں میں بجلی کے بلب لٹک رہے ہوں گے۔ بلب روشن ہو کر جب چاروں طرف کے ماحول کو دکھائے گا تو آپ سوچیں گے کہ وہ یہاں شاید اس لیے روشن ہوا ہے کہ آپ کو بتائے کہ میو لوگ دور جدید کے عین وسط میں بھی دور قدیم کی زندگی گزار رہے ہیں ۔

میوات میں آپ سنیں گے کہ فلاں مسلمان عورت کا نام ”بسکر“ ہے۔ اس کی حقیقت یہ ہے کہ کسی میو کے یہاں جب مسلسل کئی لڑکیاں پیدا ہوتی ہیں تو وہ اپنی آخری لڑکی کا نام بسکر رکھ دیتا ہے۔ یعنی اے خدا، اب بس کر، اور مزید لڑکی نہ پیدا کر۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر لڑکی کا نام ” بس کر “ رکھ دیا تو اس کے بعد یہ سلسلہ بس ہو جائے گا اور پھر جو اولاد پیدا ہوگی وہ نرینہ اولاد ہوگی ۔ یہ وہی ذہن ہے جس کے تحت مہذب قسم کے لوگ اپنی لڑکی کا نام بشریٰ رکھ دیتے ہیں ۔

قریبی مسجد سے اذان کی آواز آئی۔ ایک شخص نے پوچھا: کون صاحب اذان دے رہے جواب دینے والے نے کہا ”پلیٹو“۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہاں کثرت سے اس طرح کے عجیب و غریب نام ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ تسمیہ مجھے یہ بتائی گئی کہ میووں میں یہ رواج ہے کہ ایک لڑکا مر جائے، اس کے بعد ولادت ہو اور دوبارہ لڑکا پیدا ہو تو ایسے لڑکے کا نام

پٹیا یا پلیٹر رکھ دیتے ہیں ۔ یعنی بدلہ ۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ خدا نے دوسرا لڑکا کا بدلہ میں دیدیا ۔ اسی طرح اور بھی بہت سے عجیب عجیب نام سنائی دیتے ۔ مثلاً یہاں تین بھائی ہیں جن کے نام یہ ہیں : سکاری ، لنگاری ، پیکاری ۔ ایک مقام پر ہماری بس میں میواتی عورتوں کا ایک جھنڈ سوار ہوا ۔ بتانے والے نے بتایا کہ یہ لوگ ’’ فاتحہ خوانی ‘‘ میں شرکت کر کے آرہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ میوات میں رسموں کا رواج بہت ہے ، اور اب اس میں ایک مادی پہلو بھی شامل ہو گیا ہے ۔ اس نے پرانی رسموں میں نئی طاقت عطا کر دی ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ مثلاً موت کے بعد فاتحہ کرنا ۔ کچھ ’’ دیو بندی ‘‘ حضرات نے فاتحہ کو ختم کرنے کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے ۔ میو لوگ کہتے ہیں کہ ہم کیا ہم خود ان رسوم کو پسند نہیں کرتے ۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ جب ایک موت ہو جاتی ہے تو مہینوں تک رشتہ دار لوگ تعزیت کے لیے آتے رہتے ہیں اور مہمان داری اور خاطر تواضع کا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ فاتحہ کرنے میں یہ فائدہ ہے کہ ایک تاریخ کو سب لوگ جمع ہو جاتے ہیں اور ایک ہی دن دے کر یا کھلا پلا کر چھٹی ہو جاتی ہے ۔

تعزیت اور پر سہ کی موجودہ رسم خود قابلِ ترک ہے ۔ مگر ایک قابل ترک کو ترک نہ کرنے کے لیے ایک اور قابل ترک کو اختیار کرنا پڑا ۔

میوات میں کافی ذہین لوگ پیدا ہوئے ہیں ، اگر چہ بے علمی کی وجہ سے ان کی ذہانت اپنے لیے کوئی بڑا استعمال نہ پاسکی ۔ اس کا اندازہ یہاں کی کہاوتوں اور اشعاروں سے ہوتا ہے جو کسی نے کہے تھے اور اب وہ عوام میں رائج ہیں ۔ مثلاً کسی قدیم میو شاعر کا ایک شعر یہ ہے : دھنمت کے کانٹو لگے سبھی لگاواں ہات نر دھن کے کانٹو لگے کوئی نہ پوچھے بات یعنی دولت مند کو کانٹا چبھ جائے تو ہر ایک اس کا حال پوچھتا ہے ، غریب آدمی کو کانٹا چبھ جائے تو کوئی اس کا حال دریافت نہیں کرتا ۔ ایک صاحب نے یہ شعر بتاتے ہوئے کہا : آج یہ حال ہے کہ بڑا آدمی ہے تو اس کے کھلانے پلانے میں زبردست اہتمام ہوگا ، اور غریب آدمی کو صرف معمولی کھانا کھلایا جائے گا ۔ لڑکی امیر کے گھر جارہی ہے تو بہت زیادہ جہیز دیا جائے گا ۔ لڑکی غریب کے گھر جارہی ہے تو معمولی جہیز دے کر رخصت کر دیا جائے گا ۔ حتی کہ کسی مدرسہ میں شاندار

عمارتیں کھڑی ہوئی ہیں تو اس کو خوب چندہ ملے گا ، اور کوئی مدرسہ چھپروں میں ہو تو اس کو کوئی چندہ دینے والا نہیں ۔ یہی حال زندگی کے تمام معاملات کا ہے ۔

میوات میں ایک مثل ہے کہ دو آدمیوں نے طے کہ وہ مل کر گنا بو ئیں گے اور جب گنا تیار ہو جائے گا تو اس کو توڑیں گے ۔ اب ایک شخص نے کہا کہ " میں گنا توڑوں گا کڑاک سے "۔ شخص نے کہا : " میں بھی توڑوں گا کڑاک سے "۔ یہ سن کر پہلے شخص نے کہا کہ میں نے تو ایک گنا توڑا استھا ، تم نے دو توڑلیے ۔ اس پر تکرار ہوئی ، یہاں تک کہ دونوں آپس میں لڑگئے ۔ یہ مثل میووں کی کہانی بھی ہے اور عام مسلمانوں کی کہانی بھی ۔ اس وقت تمام مسلمانوں کا حال یہی ہے کہ کرنے کا کام تو کوئی نہیں کرتا ۔ البتہ کیا کیا کام کرنا ہے ، اس پر خوب بحثیں ہورہی گویا گنے کی فصل تو اگائی نہیں گئی ، اور گنے کی حصہ داری پر لڑائیاں جاری ہیں ۔ ہر آدمی آگے ہے ، مگر عمل میں ہر آدمی پیچھے ۔

گلپاڑہ میں ایک میو حاجی گل خاں نام کے تھے ۔ ۱۹۸۷ میں ان کا انتقال ہو گیا ۔ پہلے ان سے میری ملاقات ہو چکی ہے ۔ وہ نہایت سنجیدہ اور نیک آدمی تھے ۔ موجودہ سفر میں ان کے صاحبزادے فیروز خاں سے ملاقات ہوئی ۔ اسی کے ساتھ حاجی صاحب مرحوم کے بھتیجے (ملھو) کے لڑکے فجر الدین عرف فجر و بھی ملے ۔ یہ لوگ اپنی سادگی ، خاموش طبعی اور دینی مزاج کے معاملہ میں حاجی گل خاں مرحوم کی تصویر ہیں ۔

گلپاڑہ سے رسول پور تقریباً تین کلومیٹر کے فاصلہ پر اندر کی طرف ہے ۔ یہاں سڑک نہیں ۔ میں اندرون میوات کا نقشہ دیکھنے کے لیے یہاں جانا چاہتا تھا ۔ یہ فاصلہ ٹریکٹر کے ذریعہ طے کیا۔ چونکہ اس موسم میں بارشیں بہت کم ہوتی ہیں ۔ اس لیے سارا راستہ گرد کی دلدل بنا ہوا تھا۔ فیروز خاں اور فخرالدین چلا رہے تھے ۔ وہ ایک پر شور مشین کے خاموش ڈرائیور تھے ۔ یہ سفر اس طرح طے ہوا کہ کپڑے گرد میں اٹ رہے تھے ۔ گدی کے بجائے لوہے پر نشست تھی اور مسلسل ہچکولے اس کے علاوہ تھے ۔

میرا خیال ہے کہ ہر وہ شخص جس نے کار کی سواری کی ہے اس کو ٹریکٹر کی سواری بھی کرنا اسی طرح ہر شخص جو ٹریکٹر پر بیٹھا ہے اس کو کار پر بیٹھنا چاہیے ۔ ان دونوں سفروں کا ۴۲ الرسائل اکتوبر ۱۹۸۸

مقابل ایک عظیم دینی حقیقت کو سمجھنے کے لیے اتنا مؤثر ہے کہ اس سے زیادہ مؤثر میرے علم میں کوئی دوسری چیز نہیں۔

جس آدمی نے بھی دونوں چیزوں کی سواری کی ہے ، وہ جانتا ہے کہ ٹریکٹر کے ذریعہ اگر سفر کیا جائے تو منزل پر آدمی اس طرح پہنچتا ہے کہ وہ تھک چکا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس آدمی جب ایک اچھی کار پر سفر کرتا ہے تو وہ اپنی منزل پر بالکل تر و تازہ اترتا ہے۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ کار کے پہیوں کے ساتھ جھٹکے کو سہنے والا پرزہ (Shock absorber) لگا ہوا ہوتا ہے، جب کہ ٹریکٹر کے اندر ایسا پرزہ نہیں ہوتا۔ گویا ٹریکٹر وہ سواری ہے جو اپنے اوپر آنے والے جھٹکوں کو مسافر تک پہنچاتی رہتی ہے ، جب کہ کار وہ سواری ہے جو جھٹکوں کو خود اپنے آپ پر سہہ لیتی ہے ، وہ ان کو مسافر تک پہنچنے نہیں دیتی۔

لوگوں کے درمیان زندگی گزارتے ہوئے اکثر غصہ اور انتقام کے جذبات دل کے اندر پیدا ہو جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں مومن کو کیا کرنا چاہیے۔ مومن کو یہ کرنا چاہیے کہ وہ اس قسم کے تمام نفسیاتی جھٹکوں کو خود اپنے اوپر سہے ، وہ ان کو دوسرے شخص تک نہ جانے دے۔ لوگوں کے درمیان کار کی طرح رہے نہ کہ ٹریکٹر کی طرح۔

رسول پور میں مختلف لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ عبد الرشید عرف دھوتالی اور عبد الرحیم عرف خردل سیدھے سادے میواتیوں کا مکمل نمونہ نظر آئے۔ کار اور ٹریکٹر کے مذکورہ فرق کو شاید وہ شعوری طور پر نہ جانتے ہوں۔ مگر فطرت کے زور پر عملاً وہ اسی قسم کی زندگی گزار رہے حدیث کے الفاظ میں ، ان کے طریقِ زندگی کا خلاصہ یہ ہے کہ دوسروں کو نفع پہنچاؤ اور اگر نفع نہ پہنچا سکو تو ان کو اپنے نقصان سے بچاؤ۔

دہلی جیسے شہر میں مشکل ہی سے کبھی آسمان اپنے قدرتی نیلے رنگ میں دکھائی دیتا ہے۔ یہاں کی کھلی فضا میں آسمان اپنے اصل نیلے رنگ میں دکھائی دیا۔ آسمان کا یہ رنگ جو مختلف طبیعی اسباب سے پیدا ہوتا ہے ، اتنا زیادہ جاذب نظر ہے کہ آسمان کے لیے اس سے زیادہ جاذب نظر رنگ کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز اپنے آخری معیاری نمونہ پر ہے۔ خواہ ایک گھاس ہو یا ایک شیر یا اور کوئی چیز۔ کسی بھی چیز کا کوئی دوسرا اس

سے بہتر ماڈل تجویز نہیں کیا جاسکتا ۔ مخلوقات کا معیارِ کمال پر ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ اس کا خالق بھی آخری معیار کمال پر ہے ۔ کامل خالق کے بغیر کامل تخلیق کا وجود ممکن نہیں ۔ نیلے آسمان کے نیچے ابھری ہوئی پہاڑیاں ، ہرے بھرے درخت ، آکسیجن سے بھری ہوئی خالص ہوا فطرت کے اس حسین ماحول میں انسان اپنے آپ کو خدا کے بالمقابل محسوس کرنے لگتا ہے آج کل شہروں کے لوگ اپنے فرصت کے اوقات کو سینما اور ٹیلی ویژن کے ماحول میں گزارتے اس کے برعکس انھیں اپنے فرصت کے اوقات کو شہر سے باہر فطرت کے ماحول میں گزارنا چاہیے۔ "ٹیلی وژن" آدمی کو دوبارہ مصنوعاتِ انسانی کی اسی دنیا میں گم کر دیتا ہے جس میں وہ اس سے پہلے گم تھا ۔ اس کے برعکس کھلے ہوئے جغرافیہ کا ماحول آدمی کو مصنوعاتِ خداوندی کی دنیا میں پہنچا دیتا ہے ، وہ دنیا جہاں انسان اور خدا آمنے سامنے ہوجاتے ہیں ۔ جہاں آدمی اپنے رب سے ملاقات کرتا ہے ۔ جہاں آدمی اپنے رب سے سرگوشیاں کرتا ہے ۔ جہاں وہ ظواہر سے گزر کر حقیقتِ اعلیٰ کو پا لیتا ہے ۔

19 اکتوبر ، 1987 کی صبح کو واپسی ہوئی ۔ گلپاڑہ سے دوبارہ میں بذریعہ بس روانہ ہوا ۔ اور پہاڑی ، بیواں ، فیروز پور ، نوح ، سوہنا ، گڑگاؤں ہوتے ہوئے 12 بجے دن میں دہلی واپس پہنچا ۔

زیرِ طبع کتابیں

Printed page