الٹا کام
Al-Risala, November 1988, pp. 7–8
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک شخص اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بنانا چاہتا ہو اور اس سے کہے کہ تم پہلے بازار میں ایک دکان لے کر مطب کھول لو۔ اس کے بعد ڈاکٹری پڑھتے رہنا۔ اگر کوئی باپ اپنے بیٹے کو اس قسم کا مشورہ دے تو لوگ اس کو پاگل یا کم از کم غیر سنجیدہ انسان سمجھیں گے۔ کیوں کہ ڈاکٹری پہلے سیکھی جاتی ہے اور مطب اس کے بعد کھولا جاتا ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ یہی الٹا کام ہمارے تمام لیڈر کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود کوئی انھیں غیر سنجیدہ نہیں کہتا۔ بلکہ انھیں مفکر اور رہنما کا خطاب دیدیا جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں جو مسلم لیڈر اٹھے وہ تقریباً سب کے سب قوم کو اسی قسم کی لا حاصل رہنمائی دیتے رہے ـــــ پہلے سیاسی آزادی حاصل کر لو، اس کے بعد قومی تعمیر کا کام کرنا۔ ایک زمینی خطہ حاصل کر لو، اس کے بعد وہاں اسلامی نظام جاری کرانا۔ پہلے حکومت کا تختہ الٹ دو، اس کے بعد اصلاح معاشرہ کا کام انجام دینا، پہلے پارلیمنٹ سے قانون پاس کرالو اس کے بعد لوگوں کی ذہنی اصلاح کرنا۔
اس قسم کی تمام باتیں اتنی ہی بے معنی ہیں جتنا ڈاکٹری سیکھنے سے پہلے ڈاکٹری دکان کھولنا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سو سال سے بھی زیادہ لمبی مدت تک ہنگامہ آرائی کرنے کے باوجود مسلمانوں کے حصہ میں بربادی اور ناکامی کے سوا اور کچھ نہیں آیا۔
انسان کوئی لوہا یا لکڑی نہیں ہے جس کو مرحلہ وارگڑھا جا سکے انسان ایک ہی بار بنتا ہے اور پہلی بار جیسا بن جائے اسی پر وہ ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خارجی انداز کی تحریکیں اپنے دوسرے مرحلہ کے منصوبہ میں ہمیشہ ناکام رہتی ہیں۔ خارجی نشانہ پورا کرنے کے بعد ان کے لیڈر افراد کی داخلی اصلاح پر تقریریں شروع کرتے ہیں۔ مگر اس قسم کی تقریروں کا ایک فی صد بھی فائدہ نہیں اس قسم کا تجربہ انسانی نفسیات سے بے خبری ہے۔ اور بد قسمتی سے موجودہ زمانہ کے تمام مسلم لیڈر نفسیات انسانی سے اسی بے خبری کی مثال بنے ہوئے ہیں۔
تعمیر قوم حقیقۃً تعمیر شعور کا دوسرا نام ہے۔ شعور کی تعمیر کے بعد ہر چیز اپنے آپ حاصل ہوجاتی ہے، شعور کی تعمیر کے بغیر کوئی بھی چیز حاصل نہیں ہوتی۔
بالمّدق اذ جاءه اليس في جهنّمَ جھوٹ باندھا۔ اور سچائی کو جھٹلا دیا جب کہ وہ مثويً للكافرين - والذى جاء بالصدق اس کے پاس آئی۔ کیا ایسے منکروں کا ٹھکانا جہنم وصدّق به اولئك هم المتقون ۔ میں نہ ہوگا۔ اور جو شخص سچائی لے کر آیا اور لهم مايشاؤن عند ربهم ذلك جس نے اس کی تصدیق کی، یہی لوگ اللہ سے جزاء المحسنين - ڈرنے والے ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے (الزمر ۳۲-۳۳) پاس وہ سب ہے جو وہ چاہیں گے۔ یہ بدلہ ہے نیکی کرنے والوں کا۔
اس دنیا میں سب سے بڑی نیکی حق کا اعتراف ہے، اور سب سے بڑا جرم حق کا انکار کرنا ہے۔ آخرت میں جنت اور جہنم کا فیصلہ جس معیار پر ہوگا وہ یہی ہوگا کہ ایک شخص کے سامنے جب حق آیا تو اس نے اس کو مانا یا اس کو نظر انداز کر دیا۔ حق کو نظر انداز کرنا اتنا بڑا جرم ہے کہ اس کے بعد کوئی بھی دوسرا عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں قابلِ اعتبار نہیں۔
آدمی کا اصلی اور حقیقی امتحان جہاں ہو رہا ہے، وہ یہ ہے کہ اس نے اللہ کی خاطر اپنی انا کو توڑا یا نہیں۔ اس نے اللہ کے آگے اپنے عجز کا اقرار کیا یا نہیں۔ حق کا ظہور در اصل اسی امتحان کا لمحہ ہوتا ہے، اس دنیا میں حق کا ظہور چونکہ براہ راست خدا کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ کسی انسان کے ذریعہ ہوتا ہے ، اس لیے عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ سننے والا اس کو اپنے لیے ساکھ کا مسئلہ بنا لیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں حق کے آگے جھکا تو وہ ایک انسان کے سامنے جھکنے کے ہم معنی بن جائے گا۔ یہ احساس اس کے لیے رکاوٹ بن جاتا ہے۔
مگر ایسے مواقع پر جب آدمی جھکتا ہے تو وہ در حقیقت انسان کے آگے نہیں جھکتا۔ وہ خدا کے آگے جھکتا ہے۔ کیوں کہ وہ حق کی خاطر جھکا تھا نہ کہ کسی انسان کی خاطر۔ یہی وہ لوگ ہیں جو سب سے پہلے جنتوں میں داخل کیے جائیں گے۔