Al-Risala · November 1988

نیا مذہب

Al-Risala, November 1988, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

دہلی یونیورسٹی کے یونیسکو کلب کے تحت ایک میٹنگ ہوئی۔ ٹائمس آف انڈیا (۳ اگست ۱۹۸۸) کی رپورٹ کے مطابق ، اس موقع پر مسٹر خوشونت سنگھ نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت ہے کہ ملک میں ایک نیا مذہب بنایا جائے جو کہ عمل کی اخلاقیات، عدم تشدد اور قدرتی ماحول کی حفاظت کی تبلیغ کرے۔ یہ بہت ضروری ہو گیا ہے، کیوں کہ لوگوں کے رجحان اور اقدار میں کچھ غلطی ہے جو کہ موجودہ مذاہب کے ذریعہ ان کے اندر آئی ہے:

مسٹر خوشونت سنگھ نے موجودہ مذہبی لوگوں کی جو شکایت کی ہے، وہ بجائے خود درست حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مذہبی لوگ انسانی ترقی کا سبب بننے کے بجائے انسانی ترقی میں رکاوٹ بن گئے ہیں۔ وہ انسانی قافلہ کو آگے لے جانے کی خدمت انجام نہیں دے یہی حال آج ہر مذہب کے ماننے والوں کا ہے۔

مگر جہاں تک اصلاح کا تعلق ہے، اصل ضرورت نئے مذہب کی نہیں، بلکہ نئے مذہبی انقلاب کی ہے۔ مذہب کی تعلیم آج بھی صحیح ہے۔ مگر مذہب کی بنیاد پر لوگوں کے اندر ذہنی انقلاب نہیں لایا گیا ہے۔ آج جو لوگ مذہب کی نمائندگی کر رہے ہیں وہ جمود اور تقلید کی پیداوار ہیں نہ کہ حقیقتہ مذہبی انقلاب کی پیداوار۔

موجودہ زمانہ میں جو لوگ مذہب کا نعرہ لے کر اٹھے، انھوں نے صرف مذہب کو استعمال انھوں نے مذہب کے مطابق لوگوں کا ذہن بنانے کی کوشش نہیں کی۔ یہی خرابی کا اصل اب جن لوگوں کو اصلاح کا درد ہو۔ انھیں مذہبی تعلیمات کی روشنی میں لوگوں کا ذہن بدلنے کی کوشش کرنا چاہیے، نہ کہ نیا مذہب پیدا کرنے کی بے فائدہ کوشش میں اپنا وقت ضائع کریں۔

Printed page