قیمتی چیز
Al-Risala, February 1988, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
اخخرج البخاري في التاريخ الصغير عن زید بن اسلم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ زيد بن اسلم عن ابيه ان عمر بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب سے الخطاب قال لاصحابه تمنوا ۔ فقال کہا کہ تم لوگ اپنی تمنا بیان کرو۔ ان میں سے احدهم اتمنى ان يكون ملء هذا البيت ایک شخص نے کہا کہ میری تمنا ہے کہ یہ گھر درہم دراهم فانفقها فى سبيل الله - فقال سے بھرا ہوا ہوتا تو میں ان کو اللہ کے راستے میں تمنوا - فقال اخر اتمنى ان يكون ملء خرچ کرتا۔ حضرت عمر نے کہا کہ اور تمنا کرو۔ هذا البيت ذهباً فأنفقها في سبيل الله - دوسرے شخص نے کہا کہ میری تمنا ہے کہ اس قال اخر اتمنى ان يكون گھر کے برابر سونا ہوتا تو میں اس کو اللہ کے ملء هذا البيت جوهراً فأنفقته في راستے میں خرچ کرتا۔ حضرت عمر نے کہا کہ سبيل الله - فقال عمر تمنوا۔ فقالوا اور تمنا کرو۔ ایک اور شخص نے کہا کہ میری تمنا ما تمنينا بعد هذا ۔ قال عمر : لكني اتمنىٰ ہے کہ اس گھر کے برابر جواہرات ہوتے تو میں ان يكون ملء هذا البيت رجلاً الامثل ان کو اللہ کے راستے میں خرچ کرتا۔ ابي عبيدة بن الجراح ومعاذ بن جبل نے کہا کہ اور تمنا کرو۔ لوگوں نے کہا کہ اس کے وحذيفة بن اليمان فاستعملهم بعد ہماری کوئی تمنا نہیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا: في طاعة الله (۲۳۳) مگر میں یہ تمنا کرتا ہوں کہ یہ گھر ابو عبیدہ بن جراح اور معاذ بن جبل اور حذیفہ بن یمان جیسے آدمیوں سے بھرا ہوتا اور ان کو میں اللہ کی اطاعت میں استعمال کرتا۔
کام کا ایک آدمی اس دنیا کا سب سے زیادہ قیمتی سرمایہ ہے۔ وہ آدمی جس کی ایک رائے ہو مگر وہ اپنی رائے پر اصرار نہ کرے جو اپنے خلاف تنقید کو بھی اسی طرح سنے جس طرح وہ اپنی تعریف کو سنتا ہے جو اصول سے انحراف کا تحمل نہ کر سکے جو اختلاف کے باوجود متحد ہونا جانتا ہو۔