Cost of a riot
Al-Risala, November 1988, pp. 42–44
By Maulana Wahiduddin Khan
اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہلی میں ۲۲ مئی، ۱۹۸۷ کو جو فساد شروع ہوا، اس میں جو انسانی جانیں ضائع ہوئیں، ان کے نقصان کا تو کوئی اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اس سلسلہ میں ہونے والے مالی نقصان کا اندازہ ایک حد تک کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹر کا کہنا ہے کہ وہ پرانی دہلی کے بڑے بڑے تاجروں سے ملا اور یہ اندازہ کرنے کی کوشش کی کہ اس فساد کے نتیجہ میں جب کرفیو نافذ ہوا اور تقریباً تین ہفتے کے لئے ہول سیل مارکیٹ بند رہا تو اس سے انہیں کیا نقصان
دہلی ٹریڈ ایسوسی ایشن کے وائس پریذیڈنٹ مٹر موہر لال کمار نے رپورٹر کو بتایا کہ کرفیو کے دنوں میں پرانی دہلی کی ۳۰ ہزار سے زیادہ دکانیں بندر ہیں۔ اس کے نتیجہ میں بجلی کاغذ، سونا چاندی، لوہے کا سامان، رنگ، بساطہ، غلہ، کپڑا وغیرہ کے تھوک کاروبار پر اثر اور مجموعی طور پر تقریباً ۵۰ کروڑ روپیہ روزانہ کے کاروبار کا نقصان ہوا۔ مسٹر پی راج گوپال نے اس تجارتی نقصان کو ایک جزیرہ امید (Island of hope) قرار دیا ہے۔ انھوں نے ایک مضمون (انڈین ایکسپریس یکم جون، ۱۹۸۷) میں کہا ہے کہ بہت سے مقامات پر کاروبار میں ہندوؤں اور مسلمانوں کا ایک دوسرے پر انحصار (Interdependence) فساد کے خلاف ایک روک کا کام کرے گا۔ حالیہ فساد کے بعد ہندو صاحبان کے نقطہ نظر میں تبدیلی کا سبب غالبً یہی واقعہ ہے۔
مسٹر پی آر راج گوپال سنٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF) میں تھے۔ وہ اس سے ڈائرکٹر جنرل (D.G.) کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ انھوں نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ہے: Communal Violence in India (1987)
مسٹر راج گوپال نے اپنے طویل تجربات کی روشنی میں فرقہ وارانہ فسادات پر ایک مضمون شائع کیا ہے جو انڈین ایکسپریس (۲۳ مئی، ۱۹۸۷) میں چھپا ہے۔ اس مضمون میں وہ لکھتے ہیں کہ میں اس ملک کے فرقہ وارانہ فسادات کا براہ راست مشاہد ہوں ۔ میرا یقین ہے کہ ہر بار جب کوئی فرقہ وارانہ فساد ہوتا ہے تو وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو اتنا نقصان نہیں پہنچاتا جتنا ہمارے امیدوں اور خوابوں والے ہندوستان کو :
Every successive communal riot deals a body blow not so much to the Hindus or the Muslims but to the India of our hopes and dreams. مسٹر راج گوپال کی یہ بات صد فی صد درست ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات جو ۱۹۴۷ سے لے کر آج تک مسلسل جاری ہیں، ہندوستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ میرٹھ اور دہلی کے حالیہ فساد کے بارہ میں بیان دیتے ہوئے وزیر اعظم راجیو گاندھی
نے کہا :
Nothing-I repeat, nothing-is more damaging to our nationhood and our future than the cancer of communalism. India will survive as a secular India or not at all. کوئی چیز، میں بہت تکرار کہتا ہوں کہ کوئی چیز ہماری قومیت اور ہمارے مستقبل کے لئے اتنا نقصان دہ نہیں ہے جتنا کہ فرقہ واریت کا سرطانی - ہندوستان یا تو سیکولر ہندوستان کے طور پر زندہ رہے گا یا وہ سرے سے مٹ جائے گا (ٹائمز آف انڈیا ، ۲۳ مئی ۱۹۸۷ء)
یہ فسادات بتاتے ہیں کہ اس ملک کے ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں نے حقیقت پسندی کو کھو دیا ہے ، اور جو لوگ حقیقت پسندی کو کھو دیں ان کا انجام اس دنیا میں بربادی کے سوا اور کچھ نہیں۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ تمام کے تمام ہندو یا تمام کے تمام مسلمان فسادی ہو گئے ہیں۔ اس قسم کا فساد کرنے والے ہمیشہ کم تعداد میں ہوتے ہیں اور یقینی طور پر ہندوؤں اور مسلمانوں میں بھی وہ کم تعداد ہی میں ہیں۔ مگر اصل المیہ یہ ہے کہ فسادی لوگ جب فساد کرتے ہیں تو بقیہ لوگ ان کا ہاتھ نہیں بلکہ فوراً اس کو قومی مسئلہ بنا کر اپنی قوم کے فسادیوں کے ساتھ ہو جاتے ہیں۔ لوگوں نے وطن پرستی کا یہ کلمہ وضع کیا تھا کہ میرا ملک، خواہ وہ حق پر ہو یا نا حق پر ہو : My Country, right or wrong ہندوستان کے ہندوؤں اور مسلمانوں نے معمولی ترمیم کے ساتھ اس کو اس طرح اپنا لیا ہے کہ میرا فرقہ خواہ وہ صحیح ہو یا غلط :