Building bridges with the people of Pakistan
Al-Risala, November 1988, pp. 45–47
By Maulana Wahiduddin Khan
منتظمین کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس موقع پر شرکت کی اور مذکورہ موضوع پر اپنے خیالات پیش کیے ۔
2- کالی کٹ (کیرلا) سے ایک ہفتہ وار پر چہ ملیالم میں نکلتا ہے ۔ اس کا نام شباب ہے۔ میں ہر ہفتہ الرساله یا مطبوعات الرساله سے کسی مضمون کو ملیالم میں ترجمہ کر کے شائع کیا جاتا اسی طرح اور کئی پرچے ہیں جو مختلف زبانوں میں الرساله کے مضامین شائع کر رہے ہیں۔ 3- دہلی کے ایک جرنلسٹ مسٹر آر بی ایل نگم نے صدر اسلامی مرکز کا مفصل انٹرویو لیا تھا۔ گوالیار کے ہندی روز نامہ سو و دیش نے اپنے شمارہ ۲۷ جولائی ۱۹۸۸ء میں شائع کیا ہے۔ سوالات زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل سے متعلق ہیں ۔
4- ایک ہندی اسٹیٹ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے بتایا کہ وہ وہاں کے ہندو صاحبان کو الرساله پڑھارہے ہیں۔ ایک ہندو نوجوان نے دوسال الرساله پڑھنے کے بعد کہا کہ " میں کٹر آرایس ایس کا آدمی تھا ۔ مگر آپ کے رسالہ نے مجھ کو بالکل بدل دیا " اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ اس ملک میں جارحانہ فرقہ پرستی کا جو مسئلہ ہے ، اس کو حل کرنے کی تدبیر کیا ہے ۔ اس کا حل یہ نہیں ہے کہ ان کے خلاف شکایت اور احتجاج کی مہم چلائی جائے ۔ بلکہ ان کا حل یہ ہے کہ اسلام کا مثبت تعارف ان کے سامنے لایا جائے ۔ یہی کام الرسالہ کے ذریعہ کیا جارہا ہے ۔ 5- ایک صاحب اپنے خط ۲۵ اگست ۱۹۸۸ء میں لکھتے ہیں تقریباً ۵۰ عدد الرساله اطراف کے لوگوں تک فرداً فرداً پہنچاتا ہوں ۔ یہ کام تین دن میں ختم ہوتا ہے ۔ فرداً فرداً دینے میں عظیم فائدہ ہے ۔ کا ازالہ وغیرہ۔ مرکز کی تمام کتا بیں مع تذکیر القرآن مختلف حضرات تک برائے مطالعہ پہنچانا، پھر کتابوں کا واپس لانا تا کہ دوسروں تک پہنچائی جاسکیں ۔ اس طرح صبح و شام گزررہے ہیں ۔ مزید کوشش کی جائے تو ہمارے علاقہ میں الرساله ہزاروں کی تعداد میں نکل سکتا ہے ۔ (ڈاکٹر انوار الحق ، امباری)
گول مارکیٹ (نئی دہلی) میں ۲۰ اگست ۱۹۸۸ کو اعلیٰ تعلیم یافتہ اصحاب کا ایک اجتماع ہوا۔ اسلامی مرکز نے اس موقع پر ایک مفصل خطاب کیا جس کا عنوان تھا : عقیدہ آخرت کا عقلی قرآنی آیات کی روشنی میں مذکورہ موضوع کی تفصیل بیان کی گئی ۔ اس تقریر کا ٹیپ مرکز میں موجود ہے۔
ساہتیہ اکیڈمی کی طرف سے نئی دہلی میں ایک تین روزہ سمینار ہوا۔ یہ سمینار مولانا ابو الکلام آزاد کے بارہ میں تھا اور اس کا افتتاح ڈاکٹر شنکر دیال شرما (وائس پریزیڈنٹ) نے کیا۔ ۱۹۸۸ کی نشست کا چیرمین صدر اسلامی مرکز کو بنایا گیا تھا۔ اس موقع پر صدر اسلامی مرکز نے شرکت کی اور صدارتی تقریر کے تحت اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مذکورہ نشست کا موضوع بحث تھا : مولانا آزاد کی الہیاتی تخلیقیت (Theological creativity) یہ سیمنار رابندر بھون (نئی دہلی) میں ہوا۔
الرساله انگریزی خدا کے فضل سے مغربی ملکوں میں پھیل رہا ہے۔ کچھ لوگ انفرادی طور پر اور کچھ لوگ ایجنسی کے طور پر منگا رہے ہیں۔ حال میں روم (اٹلی) کے ایک ادارہ نے انگریزی الرسالہ کی کاپیاں بطور ایجنسی منگانا شروع کیا ہے۔ الرسالہ کے ہمدردوں کو چاہیے کہ اپنے اپنے حلقہ تعارف میں لوگوں کو اس طرف زیادہ سے زیادہ متوجہ کریں۔ یا تو ایجنسی لے کر اس کو پھیلائیں یا اپنی طرف سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کے نام اس کو جاری کروائیں۔
نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا کی طرف سے صوفیا (بلغاریہ) میں ایک کلچرل نمائش منعقد کی گئی۔ ۲۵ جون سے ۲ جولائی ۱۹۸۸ تک جاری رہی ۔ اس نمائش میں دوسری چیزوں کے علاوہ ہندوستان کی چھپی ہوئی منتخب کتابیں بھی رکھی گئیں۔ ان میں اسلامی مرکز کی چار انگریزی کتابیں بھی شامل تھیں۔ ان کے نام یہ ہیں :
God Arises, Mohammad: The Prophet of Revolution, Religion and Science, Tabligh Movement اس کے علاوہ بلغاریہ کی بین اقوامی نمائش میں بھی یہ کتابیں رکھی گئیں جس کی خبر پہلے آچکی ہے۔ صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر ۲۵ جولائی ۱۹۸۸ کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کی گئی
اس کا عنوان تھا : قربانی کا تصور اسلام میں ۔
۱۱- اردو اکادمی دہلی نے کچھ اردو کتابوں پر انعام دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ان میں صدر اسلامی مرکز کی کتاب "خاتونِ اسلام " بھی شامل ہے ۔ اردو اکادمی نے اس کتاب پر تین ہزار روپیہ انعام کا فیصلہ کیا ہے ۔ واضح ہو کہ اس کتاب کا پہلا ایڈیشن ختم ہو چکا ہے اور دوسرا ایڈیشن تقریباً سو صفحات کے اضافہ کے ساتھ شائع ہو گیا ہے ۔ مذکورہ کتاب پر یہ انعام ۱۳ستمبر ۱۹۸۸ کو ایک خصوصی تقریب میں اردو اکادمی کے چیرمین مسٹر رمیش بھنڈاری (لیفٹنٹ گورنر دہلی) نے پیش یہ تقریب کمانی آڈیٹوریم نئی دہلی) میں منعقد کی گئی ۔
۱۲- الرسالہ کا تعمیری اور حقیقت پسندانہ مشن خدا کے فضل سے عمومی مقبولیت حاصل کرتا جا رہا ہے ۔ سے ان لوگوں کی صفوں میں کھلبلی پیدا ہو گئی ہے جو خطابت اور لفاظی کے ذریعہ قوم کے اندر قیادت کا مقام حاصل کیے ہوئے تھے ۔ چنانچہ انھوں نے الرسالہ کے مشن کو نا کام کرنے کے لیے بے بنیاد پر وپیگنڈے شروع کر دیے ہیں ۔ اس کی ایک مثال ایک حلقہ قیادت کا پندرہ روزہ پرچہ ہے ۔ اس نے ہمارے بارہ میں ان بالفاظ کے ساتھ ایک جوابی مضمون شائع کیا ہے کہ " بعض اہل قلم ہندوستانی مسلمانوں کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ پہلی نشست پر بیٹھنے کے لیے راضی ہو جائیں ۔ دوسرے درجہ کا شہری ہونے پر قناعت کر لیں ۔ پارسیوں اور مارواڑیوں کی طرح زندگی گزاریں " (۱۰ اگست ۱۹۸۸) بو کھلا ہٹ میں مضمون نگار کو یاد نہ رہا کہ وہ اپنی تردید آپ کر رہے ہیں ۔ پارسی اور مارواڑی ، الفاظ دیگر ٹاٹا اور برلا ، کیا اس ملک میں دوسرے درجہ کے شہری ہیں اور وہ پہلی نشست پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ حتی کہ وزیر اعظم راجیو گاندھی باپ کی طرف سے پارسی ہیں ، کیا وہ اس ملک میں دوسرے درجہ کے شہری ہیں اور کیا ان کو بھی پہلی نشست پر جگہ ملی ہے ۔ اس قسم کی جھوٹی تنقیدیں خود نام نہاد قائدین کے علمی اور فکری افلاس کا پردہ کھول رہی ہیں ۔ وہ کسی بھی درجہ میں الرسالہ کے مشن کی صداقت کی تردید نہیں کرتیں ۔ "خاتونِ اسلام " کا نیا ایڈیشن ۲۸۰ صفحات پر چھپ کر آگیا ہے ۔ ڈیڑھ سو سال سے یہ کہا جا رہا تھا کہ اسلام عورت کا رتبہ گرا تا ہے ۔ اس کتاب میں پہلی بار جدید علمی اور استدلالی معیار پر اس کا جواب دیا گیا ہے ۔ جدید اسلامی لٹریچر میں یہ اپنے موضوع پر بالکل منفرد کتاب ہے ۔