Al-Risala · December 1988

ناکامی میں کامیابی

Al-Risala, December 1988, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

سموئیل بٹلر (Samuel Butler) انیسویں صدی کا مشہور انگریز مصنف ہے ۔ اس نے لکھا ہے کہ زندگی اس فن کا نام ہے کہ ناکافی مقدمات سے کافی نتائج اخذ کیے جائیں : Life is the art of drawing sufficient conclusions from insufficient سموئیل بٹلر نے یہ بات فطری تعقل کے تحت کہی ہے ۔ مگر زندگی کے بارےمیں شریعت نے جو تصور دیا ہے وہ بھی عین یہی ہے ۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس دنیا میں خدا نے جو نظام بنایا ہے ، اس میں آسانی کے ساتھ مشکل لگی ہوئی ہے (إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْراً) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار ایک پہاڑی راستہ کو دیکھا جس کا نام لوگوں نے الضّيّقة (دشوار) رکھ دیا تھا۔ فرمایا کہ نہیں ۔ اس کا نام تو الیسری (آسان) ہے۔ گویا اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ آدمی عسر میں یُسْر کو دریافت کرے ۔ وہ دشوار گزار راستہ کو آسان راستہ کے روپ میں دیکھ سکے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اس تعلیم کی اعلیٰ ترین مثال ہے۔ آپ کو سخت ترین مشکلات پیش آئیں، مگر آپ نے حکیمانہ تدبیر سے ان کو اپنے حق میں آسان بنالیا ۔ ڈس ایڈوانٹیج کو ایڈوانٹیج میں تبدیل کر لیا۔ ایک مستشرق مسٹر کیلٹ (E. E. Kellet) نے آپ کی اس صفت کمال کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انھوں نے مشکلات کا سامنا اس عزم کے ساتھ کیا کہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑیں :

He faced adversity with the determination to wring success out of دنیا میں ایک طرف انسان ہے جو دوسرے انسان کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ دوسری طرف خدا کا نظام ہے جس نے ہر مشکل کے ساتھ اس کا حل بھی رکھ دیا ہے۔ ایسی حالت میں انسانی مشکلات پر شور کرنا یہ معنی رکھتا ہے کہ آدمی نے انسان کے عمل کو دیکھا مگر وہ خدا کے عمل کو نہ دیکھ سکا۔ کیوں کہ اگر وہ خدا کے عمل کو دیکھتا تو شکایت کرنے کے بجائے وہ اس کو استتمال کرنے میں لگ جاتا۔

Printed page