Al-Risala · December 1988

ضمیر کی آواز

Al-Risala, December 1988, pp. 6–7

By Maulana Wahiduddin Khan

کوریا ۱۹۰۵ء سے جاپان کے تحت تھا۔ دوسری عالمی جنگ میں جاپان کی شکست کے بعد کوریا کی تقسیم عمل میں آئی۔ نارتھ کو ریا روس کے زیرِ اثر آگیا اور ساؤتھ کوریا امریکہ کے زیرِ اثر۔ اسی وقت سے ملک کے دونوں حصوں میں رقابت جاری ہے اور دونوں برابر ایک دوسرے کو گرانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ ۱۹۸۸ء میں ساؤتھ کوریا میں اولمپک تھا۔ اولمپک کی میزبانی موجودہ زمانہ میں ایک باعث عزت چیز سمجھی جاتی ہے۔ چنانچہ نارتھ کوریا نے اس کو ناکام کرنے کا ایک خفیہ اس منصوبہ کا مقصد یہ تھا کہ ساؤتھ کوریا کے سفر کو پر خطر بنا دیا جائے تاکہ اولمپک کے موقع پر باہر کے ملکوں سے ساؤتھ کوریا جانے والوں کی حوصلہ شکنی ہو :

to discourage foreign countries from participating in the Seoul اس مقصد کے لیے ایک ۲۲ سالہ کوریائی عورت کم ہیان ہی (Kim Hyon-Hee) اور ۶۹ سالہ مرد کم سنگ (Kim Sung II) کو تیار کیا گیا۔ منصوبہ کے مطابق دونوں بیٹی اور باپ کے روپ میں ۲۹ نومبر ۱۹۸۷ء کو ساؤتھ کوریا کی ایئر لائنز فلائٹ ۸۵۸ پر سوار ہوئے ۔ یہ جہاز بغداد سے سیول جا رہا تھا۔ عورت کے پاس ایک پرس تھا جس کو اس نے " اور ہیڈ لاکر" میں رکھ دیا۔ میں ابوظبی کے ہوائی اڈہ پر اترا تو وہ پرس کو جہاز کے خانہ میں چھوڑ کر اتر گئی ۔ مذکورہ پرس میں بظاہر ایک ٹرانسٹر تھا، مگر حقیقت وہ ظالم بم تھا۔ جہاز جب ابوظبی سے اڑکر دوبارہ فضا میں پہونچا تو بم پھٹ گیا۔ جہاز تباہ ہوگیا ۔ اس وقت جہاز میں ۱۱۵ مسافر تھے جو سب کے سب ہلاک ہوگئے ۔

ابوظبی میں اترنے والے مسافروں کا ریکارڈ دیکھ کر فوراً ان کی تلاش ہوئی ۔ وائر لیس کے ذریعہ مختلف مقامات پر پیغام بھیج دیا گیا ۔ آخر کار عورت اور مرد دونوں روم کے ہوائی اڈہ پر پکڑ لیے دونوں کے پاس سائنائیڈ کیپسول (Cyanide capsule) تھا جس کو انھوں نے گرفتار ہوتے ہی فوراً نگل لیا۔ مرد اسی وقت مر گیا تا ہم عورت بچ گئی ۔

کچھ روز اسپتال میں رہنے کے بعد اس کو سیول لے جایا گیا۔ وہاں ۱۵ جنوری ۱۹۸۸ کو ایک پریس کانفرنس ہوئی۔ اس میں مختلف ملکوں کے اخباری نمائندے بڑی تعداد میں جمع تھے۔ اس پریس کانفرنس میں پیش کیا گیا۔ اس کی تصویر انڈین ایکسپریس (۱۷ جنوری ۱۹۸۸) میں چھپی ہے جس میں وہ سخت حواس باختہ حالت میں دکھائی دے رہی ہے ۔

ٹائم (۲۵ جنوری ۱۹۸۸) کی رپورٹ کے مطابق، عورت نے روتے ہوئے اور سسکیاں بھرتے ہوئے اخباری نمائندوں کے سامنے کہا کہ جو گناہ میں نے کیا ہے وہ اتنا برا ہے کہ اس کے لیے مجھے سخت ترین سزا دی جائے اور مجھے ایک سو بار قتل کیا جائے :

I should be punished and killed a hundred times for my sin. یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ انسان کے اندر پیدائشی طور پر ایک نہایت طاقت ور استعداد موجود یہ وہی ہے جس کو عام طور پر ضمیر کہا جاتا ہے۔ کسی لالچ میں یا کسی وقتی اشتعال کے تحت کوئی شخص ایک برا فعل انجام دے سکتا ہے۔ مگر جیسے ہی وقتی جذبہ کا طوفان ہٹتا ہے ۔ اس کا اندرونی ضمیر اس کو ملامت کرنے لگتا ہے ۔ ضمیر کو چھوتے ہی اس کا ٹائر پنکچر ہو جاتا ہے ۔ وہ اس قابل نہیں رہتا کہ اپنے جرم کو مزید جاری رکھ سکے ۔

بعض سیاہ قلب یا پیشہ ور افراد کا اس میں استثناء ہو سکتا ہے۔ مگر عام انسانی فطرت یہی عام انسان اپنے ضمیر کی آواز کو دبا نہیں سکتا۔ کسی انسان کو اس کے جرم سے روکنے کی سب سے آسان تدبیر یہ ہے کہ اس کے اندر چھپے ہوئے ضمیر کو مخاطب بنایا جائے ۔ ضمیر گو یا خدا کی عدالت اور اگر مقدمہ ضمیر کے سامنے رکھ دیا جائے تو اس کے لیے ممکن نہیں کہ وہ سچائی کے سوا کسی اور بات کا فیصلہ کرے ۔

Printed page