تجر بہ کے بعد
Al-Risala, December 1988, pp. 8–9
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک امریکی خاتون لنڈا برٹن (Linda Burton) نے اپنے خاندانی تجربات پر ایک کتاب لکھ کر شائع کی ہے جس کا نام ہے ۔ تمہارے جیسی ایک تیز عورت گھر پر رہ کر کیا کام کرتی ہے : What's a Smart Women Like You Doing at Home? مذکورہ خاتون کی کہانی کا خلاصہ ، ان کے لفظوں میں یہ ہے کہ میرا گھر پر رہنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ میں ایک کمپنی میں پورے وقت کی ملازم تھی۔ ۳۳ سال کی عمر میں میرے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ سنبھالنے میں مجبورانہ طور پر مجھے اپنی ملازمت چھوڑنی پڑی۔ یہاں تک کہ میرے لیے معاشی مسائل پیدا ہو گئے۔ اور میں نے دوبارہ باہر کا کام کرنا شروع کر دیا۔
میں اپنے بچے کے لیے شام کا وقت اور ہفتہ کی چھٹی کا دن دے سکتی تھی۔ مگر وہ ناکافی تھا۔ نے اس کے لیے تحفظ اطفال کا ایک ادارہ تلاش کیا۔ مگر ایک مہینہ کے بعد ہی اس کو ناقص سمجھ کر مجھے چھوڑ دینا میں ملازمت ترک کرکے دوبارہ گھر پر رہنے لگی تاکہ بچے کی دیکھ بھال کر سکوں۔ میں دو سال تک کسی زیادہ بہتر ادارہ کی تلاش میں رہی۔ یہاں تک کہ میرے یہاں دوسرا بچہ پیدا ہو گیا۔ میں نے دوبارہ ایک ملازمت کر لی اور اپنے دونوں بچوں کو گھریلو قسم کے تحفظ اطفال کے ادارہ میں ڈال مگر اس کی کارکردگی پر مجھے اطمینان نہ ہو سکا۔ آخر کار میں نے خود اپنے گھر پر انفرادی خدمات حاصل کیں۔ میں نے پایا کہ آپ خواہ کتنا ہی قاعدہ قانون بنائیں۔ کتنا ہی زیادہ رقم خرچ کریں مگر یہ ناممکن ہے کہ ایک شخص کسی دوسرے کے لیے محبت کر سکے :
In time, my search for child care taught me a critical lesson: no matter how many licences we issue, how many guidelines we estab- lish or how much money we pay, it is impossible to have quality controls over the capacity of one human being to love and care for another (p. 94). میں ایک ایسا شخص چاہتی تھی جو نرم مزاج اور محبت کرنے والا ہو۔ جو مستعد اور کسی قدر پر مزاح ہو۔ ایک زندہ شخص جو میرے بچوں کی تخلیقیت کو بڑھائے ، وہ ان کو تفریح کے لیے باہر بھی لے جائے۔ وہ ان کے تمام چھوٹے چھوٹے سوالوں کا جواب دے ۔ وہ ان کو میٹھی نیند سلائے۔ آہستہ آہستہ اور تکلیف دہ
طور پر میں اس حیرت ناک واقفیت تک پہنچی کہ جس شخصیت کو میں برسوں سے تلاش کر رہی تھی وہ میری اپنی ناک کے نیچے موجود ہے، یعنی میں خود۔ یہ ہے وہ کام جو میرے جیسی تیز عورت اپنے گھر کے اندر کر رہی ہے :
مذہب کی تعلیم کے تحت معاشرت کا یہ اصول مقرر کیا گیا تھا کہ مرد کمائے اور عورت گھر کی دیکھ بھال کرے ۔ اس طرح تقسیم کار کے اصول پر دونوں زندگی کا کاروبار چلائیں۔ یہ ایک انتظامی بندوبست تھا نہ کہ کسی کو بڑا درجہ اور کسی کو چھوٹا درجہ دینا۔ مگر جدید دور میں " آزادی نسوں " کی تحریک اٹھی جس نے اس طریقہ کو عورت کی تصغیر کے ہم معنی قرار دیا۔ اور یہ نعرہ دیا کہ دونوں صنفوں کو کسی تقسیم یا حد بندی کے بغیر ہر کام کرنا چاہیے۔ یہ نظریہ اتنا پھیلا کہ عورتوں کی ایک پوری نسل گھر سے باہر نکل پڑی۔
نام نہاد مساوات کے اس تجر پر اب تقریباً سوا سال بیت چکا ہے۔ خاص طور پر مغربی دنیا میں اس کا تجربہ بہ آخری ممکن حد تک کیا گیا ہے۔ مگر ان تجربات نے اس کی افادیت ثابت کرنے کے بجائے صرف اس کا نقصان ثابت کیا ہے۔ موجودہ مغربی معاشرہ میں مختلف انداز سے مسلسل اس کی مثالیں سامنے آ رہی ہیں۔ انھیں میں سے ایک مثال وہ ہے جس کو اوپر نقل کیا گیا ۔ مذہب نے مرد اور عورت کے عمل کے درمیان یہ تقسیم رکھی تھی کہ مرد معاش فراہم کرے، اور عورت نئی نسل کی اخلاقی تعمیر کرے :