Al-Risala · December 1988

اسلام برحق ہے ، میں برحق ہوں

Al-Risala, December 1988, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

ان دو جملوں میں بظاہر صرف ایک لفظ کا فرق ہے۔ ایک فقرہ میں ” اسلام “ ہے ، اور دوسرے فقرہ میں ” میں “ مگر اسی معمولی فرق میں مسلمانوں کے عروج و زوال کی پوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔ جب ایک زندہ گروہ ہوں تو وہ اسلام کو برحق سمجھتے ہیں۔ اور جب وہ تنزل کا شکار ہوں تو اپنے آپ کو پہلے تصور سے خوف خدا کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور دوسرے تصور سے جھوٹے احساسِ برتری کا۔ اسلام بلاشبہ سب سے زیادہ سچا دین ہے ۔ جب کسی آدمی پر اس کی سچائی منکشف ہوتی ہے تو اس کے اندر زبردست انقلاب آ جاتا ہے۔ وہ اعلیٰ اخلاقیات کا پیکر بن جاتا ہے۔ وہ اسلام کو تمام انسانوں تک پہنچانے کے لیے بیتاب ہو جاتا ہے۔ ارشمیدس کو صرف پانی کا ایک قانون دریافت ہوا تھا۔ اس سے وہ اتنا بے خود ہوا کہ حوض سے ننگا نکل پڑا ، اور یوری کا ، یوری کا ( میں پاگیا ، میں پاگیا ) کہتا ہوا پھر کائنات کی سب سے بڑی سچائی جس کو مل جائے اس کا حال کیا ہو گا ۔ معرفت کے طور پر ملنے والا اسلام براہِ راست خدا کی طرف سے ملتا ہے ، اس لیے ایسے شخص کے اندر وہ صفات ابھرتی ہیں جو خدا کو دیکھنے اور اس کا تجربہ کرنے والے کسی شخص کے اندر پیدا ہونی چاہئیں۔ وہ عظمتِ خداوندی سے کانپ جاتا ہے۔ خدا کے کمالات کا احساس اس سے سرکشی کا مزاج چھین لیتا اس کے برعکس جس شخص کو دین خاندانی اثاثہ کے طور پر ملے ، اس کو وہ قومی فخر یا خاندانی اعزاز کے ہم معنی سمجھ لے گا۔ اس کے نتیجہ میں اس کے اندر وہی چیز پیدا ہوگی جس کو ہم نے جھوٹے فخر کا نام دیا ہے۔ سمندر کا پانی اڑ جائے تو اس میں صرف نمک ہی نمک رہ جائے گا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ مسلمانوں کا بھی ان کے دین سے جب خدا کا خوف نکل جائے تو اس کے بعد وہ صرف نمک بن کر رہ جاتا ہے جس کا ذائقہ لوگوں کو بد مزہ کر دے ۔

Printed page