بھونچال
Al-Risala, December 1988, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
زمین اچانک کانپنے لگی۔ مکانات ہلنے لگے ۔ چار پائیاں جھولے کی طرح جھولنے لگیں ۔ لوگ اپنے بستروں پر جاگ اٹھے۔ کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ زمین کی گڑ گڑاہٹ اور انسانوں کی چیخ پکار نے ماحول کو آخری حد تک خوفناک بنا دیا۔ موت بالکل آنکھوں کے سامنے دکھائی اس وقت کسی کو دوسرے کا ہوش نہ تھا۔ ہر آدمی اپنا گھر چھوڑ کر باہر کی طرف بھاگ رہا تھا۔ بڑی کوٹھیوں میں رہنے والے دولت مند افراد اور جھونپڑیوں میں زندگی گزارنے والے غریب مزدور، سب یکساں انداز میں ننگے پاؤں حیران و پریشان حالت میں کھلے میدان میں جمع ہو گئے۔ حواس باختہ اور دہشت زدہ چہرے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے مگر کچھ بول نہ سکتے تھے۔
یہ ۲۱ اگست ۱۹۸۸ء کا زلزلہ تھا جو صبح چار بج کر 40 منٹ پر آیا اور تقریباً ایک منٹ تک باقی رہا۔ اس کا مرکز در بھنگہ (بہار) تھا اور اس کے شدید جھٹکے نیپال اور آسام تک محسوس کیے گئے۔ بڑے رقبہ میں مکانات تاش کے پتوں کی طرح گر پڑے۔ شہر اجڑ گئے۔ دریا ابل پڑے اور بلندیاں زمین میں دھنس گئیں ۔ تقریباً ایک ہزار افراد ہلاک ہو گئے دس ہزار سے زیادہ آدمی زخمی ہوئے۔ مکانات کی تباہی کی کوئی گنتی نہیں۔ زلزلہ کے دو ہفتہ بعد بھی دہشت کا یہ عالم تھا کہ نیپال کی راجدھانی کٹھمنڈو کے لوگ دوبارہ شہر میں جانے کے لیے تیار نہ تھے ۔ ہزاروں افراد شدید بارش کے باوجود خیموں میں راتیں بسر کر رہے تھے مگر زلزلے سے
ٹوٹی ہوئی عمارتوں میں دوبارہ داخل ہونا انہیں منظور نہ تھا۔ لوگ اپنے گھروں کو خود ہی چھوڑ رہے تھے۔ جائیدادوں کو اس طرح دیکھ رہے تھے جیسے وہ ان کی محبوب جائدادیں نہ ہوں بلکہ ڈراؤنے بھوت ہوں جو انہیں کھایا چاہتی ہوں ۔
زلزلے عذاب نہیں، زلزلے تنبیہ ہیں۔ وہ قیامت کے اس آنے والے عذاب کو یاد دلاتے ہیں جس کے مقابلہ میں انسان مکمل طور پر بے بس ہوگا اور جب خدا کی پکڑ سے اپنے آپ کو بچانا کسی کے لیے ممکن نہ ہوگا۔ ایک عام آدمی جب زلزلہ میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ سوچتا ہے کہ زلزلے کیوں آتے ہیں۔ مگر سائنس داں اس کے برعکس یہ سوچتا ہے کہ زلزلے کیوں نہیں آتے۔ کیوں کہ ہماری زمین کی بناوٹ اس ڈھنگ کی ہے کہ اس کو ہر وقت ہلنا چاہیے یا کم از کم بار بار اس کو بھونچال سے دوچار ہونا چاہیے ۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اس کے آس پاس کے علاقہ میں اس سے پہلے ۱۹۳۴ میں سخت زلزلہ آیا تھا جس میں ۱۰۰ ، آدمی ہلاک اس کے بعد ۱۹۸۸ میں یہاں اس قسم کا زلزلہ آیا۔
ہمالیہ کا رقبہ ، خاص طور پر اس کا شمال مشرقی علاقہ متحرک چٹانوں کے اوپر قائم ہے۔ اس قسم کے حلقہ کو بھونچالی حلقہ (Seismic belt) کہا جاتا ہے۔ زلزلے عام طور پر اسی طرح کے مقامات پر آتے ہیں۔ میں اٹھارویں صدی کے آغاز سے زلزلوں کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جارہا ہے۔ اس کے مطابق ۱۸۱۹ سے اب تک پندرہ بڑے زلزلے آچکے ہیں، سب سے زیادہ سخت بھونچال ۱۱ اکتوبر 1737 ، کو کلکتہ میں آیا تھا جس میں تین لاکھ سے زیادہ آدمی ہلاک ہوگئے ۔
ہماری زمین ہر وقت زلزلہ کی زد میں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین پر ہر سال ایک ملین (۱۰ لاکھ) بار تھرتھراہٹ پیدا ہوتی ہے۔ ان میں سے ۹۵ فیصد وہ ہیں جن کو صرف سائنس داں اپنی ریکارڈنگ مشین کے ذریعہ معلوم کر سکتے ہیں۔ بیسویں صدی میں دنیا کے مختلف مقامات پر جو زلزلے آئے ہیں ، ان میں تقریباً دو ملین (۲۰ لاکھ) آدمی ہلاک ہو گئے اور ۱۰ ہزار کروڑ روپیہ کی املاک کو نقصان پہنچا۔ زمین کی تھرتھراہٹ جب غیر معمولی شدت اختیار کرلے تو اسی کا نام زلزلہ یا بھونچال ہے (ٹائمس آف انڈیا ، ۲۳ اگست ۱۹۸۸) زلزلے غیر محسوس حالت میں ہر روز آتے ہیں۔ خدا کبھی کبھی ان میں شدت پیدا کرکے ہمیں ان کی ہولنا کی کو محسوس کرادیتا ہے ۔ یہ گویا ایک چیتاونی ہے کہ آدمی آنے والے بڑے زلزلہ (قیامت) کو یاد کرے اور اپنی اصلاح کر کے اپنے آپ کو خدا کی پکڑ سے بچالے ۔