Al-Risala · December 1988

قربانی اسلام میں

Al-Risala, December 1988, pp. 20–33

By Maulana Wahiduddin Khan

حج ایک عالمی اور اجتماعی عبادت ہے۔ اس کی تاریخیں قمری مہینہ کے مطابق مقرر کی گئی ہیں۔ حج کے مراسم مکہ اور اس کے آس پاس کے مقامات پر پانچ دن کے اندر، ۸ ذی الحجہ سے ۱۲ ذی الحجہ تک ادا کئے جاتے ہیں۔ اس دوران دس ذی الحجہ کو منیٰ میں قربانی کی جاتی ہے۔ جانور کو ذبح کرتے ہوئے جو دعا پڑھی جاتی ہے وہ یہ ہے:

اِنِّيْ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَالسَّمَاوَاتِ میں نے یکسو ہوکر اپنا چہرہ اس ذات کی طرف پھیرلیا وَالْاَرْضَ حَنِيْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِيْنَ جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ہے۔ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُکِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ ە لَا شَرِيْکَ لَهُ میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ سب اللہ کے لئے ہے جو سارے جہان کا مالک ہے۔ اَللّٰهُمَّ مِنْکَ وَلَکَ۔ بِسْمِ اللّٰهِ اس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اسی کا حکم دیا گیاہے۔ اَللّٰهُ اَکْبَرُ اور میں فرماں برداروں میں سے ہوں۔

یہ تیرا ہی دیا ہوا ہے اور تیرے ہی لئے ہے۔ نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے۔

اس دعا میں وہ مقصد پوری طرح جھلک رہا ہے جس کے لئے قربانی کا طریقہ مقرر کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جانور کو ذبح کرنا محض ایک علامتی واقعہ ہے۔ اصل چیز جو حاجی سے یا صاحبِ استر بانی سے مطلوب ہے وہ اس کی اپنی قربانی ہے۔ اصل مقصود ذاتی ذبیحہ ہے ، جانور کا ذبیحہ تو صرف ایک ظاہری علامت کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔

ذاتی ذبیحہ یا ذاتی قربانی سے کیا مراد ہے۔ اس سے مراد وہ انسان بننا ہے جس کو مذکورہ دعا میں حنیف اور مسلم کہا گیا ہے۔ یعنی سرکشی کا طریقہ چھوڑ کر پوری طرح تابع دار اور فرماں بردار اپنی خواہش کو رہنما بنانے کے بجائے خدا کے حکم کو اپنا رہ نما بنانا۔ اپنی چیز کو اپنا کسب سمجھنے کے بجائے اس کو خدا کا عطیہ سمجھنا۔ یہی اسلام (حوالگی) قربانی کی اصل روح اور

اس کی اصل اسپرٹ ہے۔ کسی شخص کی قربانی اسی وقت قربانی ہے جب کہ قربانی سے اس کے اندر یہ روح پیدا ہو جائے۔ اسی لئے قرآن میں کہا گیا ہے کہ اللہ کو جانور کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا۔ اللہ کو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے (الحج ، 27)

خوراک ہر آدمی کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ آدمی اس دنیا میں کھائے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اسی خوراک کو قربانی کے ذریعہ ایک بہت بڑے سبق میں ڈھال دیا گیا ہے۔ ذی الحجہ میں خدا کے نام پر جو جانور ذبح کیا جاتا ہے ، وہ گویا وہی جانور ہے جس کو عام حالات میں بھی ذبح کر کے آدمی اپنی خوراک بناتا ہے۔ مگر حج کی مقدس عبادت کے ساتھ اس کو جوڑ کر اس بات کے سبق کا ذریعہ بنا دیا گیا کہ جس طرح تم جانور کو قربان کرتے ہو ، اسی طرح تمہیں اپنے آپ کو قربان کرنا ہے۔ قربانی کے جانور کے گوشت کو صاحبِ قربانی خود کھاتا ہے اور دوسروں کو کھلاتا ہے۔ اور اگر وہ مقدار میں زیادہ ہو تو اجازت ہے کہ اس کو آئندہ استعمال کے لئے محفوظ کر لیا جائے۔ قربانی کی ظاہری صورت تو جانور کو ذبح کرنا ہے مگر اس کی روح اور اس کی اسپرٹ یہ ہے کہ اعلیٰ انسانی تقاضوں کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا جائے۔ مقصد یا آدرش کی راہ میں اپنے آپ کو فنا کر دیا جائے۔ ہر چیز کی ایک ظاہری صورت ہوتی ہے اور ایک اس کی اندرونی اسپرٹ ہوتی یہی معاملہ قربانی کا ہے۔ اس کی ظاہری صورت ذبیحہ ہے ، اور اس کی اصل اسپرٹ قربانی ہے۔ غور کیجئے تو ایک صحت مند سماج کو بنانے کے لئے واحد سب سے بڑی چیز جو درکار ہے ، وہ یہ ہے کہ اس کے افراد کے اندر قربانی کی اسپرٹ زندہ ہو۔ افراد کی قربانی پر ہی سماج اور قوم کو زندگی یہی وہ سبق ہے جو قربانی کے ذریعہ صاحب قربانی کو دیا جاتا ہے۔ اس کی ایک مثال خود اس حکم کے اندر موجود ہے جو سفرِ حج کے دوران حاجی کو دیا گیا ہے۔ میں حکم ہوا ہے کہ جب حج کے لئے نکلو تو جدال نہ کرو ( البقرہ ، ۱۹۷ ) یعنی سفر کے دوران تمہارا سابقہ جن لوگوں سے پیش آتا ہے ان سے جھگڑا اور تکرار نہ کرو۔ یہ ظاہر ہے کہ کوئی شخص خواہ مخواہ کسی سے جھگڑا اور تکرار نہیں کرتا۔ اس قسم کے ناخوشگوار واقعات ہمیشہ رد عمل کے طور پر پیش آتے ہیں۔ یعنی ایک ساتھی کی طرف سے کوئی قابلِ شکایت بات پیش آئی ، اس پر دوسرا ساتھی بگڑ کر اس سے لڑنے لگا۔

اس حقیقت کو ذہن میں رکھیں تو مذکورہ حکم کا مطلب یہ ہے کہ قابل شکایت بات پیش آنے کے باوجود جھگڑا نہ کرو۔ یہ اعلیٰ اخلاق کی بات ہے، اور اس قسم کا اعلیٰ اخلاق قربانی کے بغیر ممکن نہیں، آدمی جب اپنے اندر اٹھنے والے جوابی اشتعال کو دباتا ہے، وہ اپنے منفی جذبات کو قربان کر دیتا ہے تب جاکر یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی کی قابل شکایت بات پر اس سے جدال نہ کرے۔ ہی وہ زمین ہے جس پر وہ اخلاق قائم ہوتا ہے جو حاجی سے مطلوب ہے۔

فرد کے جذبات کی یہی قربانی صحت مند سماج بنانے کی واحد تدبیر ہے۔ جب بہت سے انسان مل کر رہتے ہیں تو لازماً ایسا ہوتا ہے کہ ایک کو دوسرے سے ٹھیس پہنچتی ہے۔ ایک کا مفاد دوسرے کے مفاد سے ٹکراتا ہے۔ ایسی حالت میں اگر لوگ جواب اور رد عمل کا طریقہ اختیار کریں تو پورا سماج خلفشار کا شکار ہو جائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ سماجی نظام کو بہتر حالت پر باقی رکھنے کی واحد تدبیر یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے بارے میں برداشت سے کام لیں جس کا دوسرا نام جذبات کی قربانی ہے۔ یعنی آدمی شکایت کو نظر انداز کرے۔ وہ ناگواری کو بھول کے خانہ میں وہ اس طرح کے معاملات میں صبر و ضبط کا طریقہ اختیار کرے نہ کہ جواب اور رد عمل کا۔ قربانی کا سلوک ہی بہتر سماج کے قیام کا واحد ضامن ہے۔ جس سماج کے افراد میں برداشت اور قربانی کا مادہ نہ ہو، اس سماج میں کبھی امن اور انصاف کا ماحول قائم نہیں افراد کی قربانی سماج کو زندگی عطا کرتی ہے۔ جس سماج کے افراد قربانی والی روش پر راضی نہ ہوں، اس سماج کو اس دنیا میں زندگی اور ترقی کی نعمت بھی نہیں مل سکتی۔ قربانی کا طریقہ ہر مذہب میں رائج رہا ہے۔ یہ ایک مذہبی رسم ہے جس میں کسی چیز کو خدا کی نذر کیا جاتا ہے تاکہ اس کا تقرب اور وسیلہ حاصل کیا جائے۔ یہ طریقہ ہر مذہب میں اور ہر دور میں پایا جاتا رہا ہے۔ یہ خدائے کبیر کے سامنے انسان صغیر کا نذرانہ ہے۔ آخری چیز جو کسی کے سامنے پیش کی جائے وہ جان ہے۔ انسان جب خدا کی عظمت سے سرشار ہوتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ اپنی جان اس کے اوپر نچھاور کر دے۔ اس موقع پر گو یا اللہ تعالیٰ اپنی خصوصی عنایت سے آدمی کی جان کے فدیہ کے طور پر جانور کی قربانی کو قبول کر لیتا ہے۔ اور انسان کو موقع دیتا ہے کہ وہ زندہ رہ کر دنیا میں اعلیٰ مقصد کے لئے کام کرے۔ وہ اپنی سرفروشی کے جذ بات کو تعمیری راہوں کی طرف موڑ دے۔

حج میں ضبط وتحمل کا تعلق محض انسانوں تک محدود نہیں ہے ، بلکہ جانوروں تک کے بارے میں حاجیوں کو اسی کا حکم دیا گیا ہے۔ حجۃ الوداع کے سلسلہ میں ایک حدیث ان الفاظ میں آتی ہے : عن ابن عباس انه دفع مع النبي حضرت عبد اللہ بن عباس کہتے ہیں کہ عرفہ کے دن صلى الله عليه وسلم يوم عرفة فسمع انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ النبي صلى الله عليه وسلم وراء ۂ کوچ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے زجراً شديداً وضرباً بالإبل۔ سخت ڈانٹ سنی اور اونٹ کو مارتے دیکھا۔ فأشار بسوطه إليهم وقال : اپنے کوڑے سے ان کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا يا ايها الناس ، عليكم بالسكينة کہ اے لوگو، تم پر سکون لازم ہے۔ کیوں کہ نیکی تیز فإنَّ البر ليس بالايضاع (رواه البخاري) چلنے کا نام نہیں۔ میوات کا سفر میوات کے تاریخی علاقہ پر بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ مگر میوات کا سفر اپنی نوعیت کی منفرد کتاب ہے ۔ وہ سادہ معنوں میں صرف ایک علاقہ کا تذکرہ نہیں ، وہ ۲۰ سالہ مشاہدہ کا ایک تحریری براہ راست طور پر اگر چہ وہ علاقہ میوات کی ایک تصویر ہے ۔ مگر بالواسطہ طور پر وہ پوری ملت اسلامیہ سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ سفر نامہ کی زبان میں ملت کے حال کا جائزہ اور اس کے مستقبل کی تعمیر کا نقشہ ہے۔ صفحات ۲۱۸ ہدیہ ۲۵ روپیہ

Printed page