Al-Risala · December 1988

He ran like a bull

Al-Risala, December 1988, pp. 31–32

By Maulana Wahiduddin Khan

بن جانسن مقابلہ جیت کر عالمی چیمپئن بن گیا۔ اس نے صرف اپنے ۲۴ ستمبر کے حریفوں کو نہیں ہرایا تھا بلکہ دوڑ کے عالمی ریکارڈ کو توڑ کر دنیا کا سب سے زیادہ تیز رفتار انسان (Fastest man on earth) بن گیا تھا۔ اس نے چیخ کر کہا کہ میں دنیا کا نمبر ایک شخص ہوں (I am the world no. 1) اس کی فاتحانہ تصویریں اگلے دن تمام دنیا کے اخباروں کی زینت بنی ہوئی تھیں۔ میڈل اور ایک ملین ڈالر سے زیادہ بڑی چیز وہ تھی جو اس کو عالمی شہرت کی صورت میں اچانک حاصل ہو گئی۔ ٹائمس آف انڈیا ۲۵ ستمبر ۱۹۸۸)

مگر بن جانسن کی خوشی دیر تک باقی نہ رہی۔ قاعدہ کے مطابق کھیل کے فورا بعد اس کا پیشاب لیا گیا جو مخصوص ماہرین کے پاس سائنسی تجزیہ کے لئے بھیج دیا گیا ۔ 26 ستمبر کو اس جانچ کی رپورٹ آئی تو معلوم ہوا کہ بن جانسن کی کامیابی کا راز مصنوعی دواؤں کا استعمال تھا۔ کھیل کے عالمی مقابلوں میں ، کھیل کے وقت ، شراب ، منشیات یا ایسی دواؤں کا استعمال سختی کے ساتھ ممنوع ہے جو وقتی نشہ یا فوری طور پر مصنوعی قوت پیدا کرتی ہیں۔ بن جانسن نے مقابلہ کے میدان میں داخل ہونے سے کچھ پہلے اسی قسم کی ایک مقوی عضلات دوا (Muscle-building drug) پی لی تھی جس کو اسٹانا زولول (Stanazolol) کہا جاتا ہے۔ چنانچہ اس وقت اس کی دوڑ دوا کے زور پر تھی نہ کہ اپنی فطری طاقت کے زور پر ۔

مذکورہ دریافت کے بعد بن جانسن سے سونے کا میڈل چھین لیا گیا۔ اعلان کیا گیا کہ

اب اس کو کھیل کے عالمی مقابلوں میں شریک نہیں کیا جائے گا۔ کناڈا کی حکومت نے اس کو ماہانہ ملنے والی امداد بند کر دی۔ اس طرح کی مختلف ذلتیں ایک کے بعد ایک اس کے سامنے اس طرح آئیں کہ اس نے سیول میں مزید ٹھہرنے کا حوصلہ کھو دیا۔ وہ فوری طور پر اپنے وطن کناڈا کے لئے روانہ ہو گیا۔ 27ستمبر کو ایر پورٹ کی جو تصویریں اخبارات میں آئی ہیں، ان میں دکھایا گیا ہے کہ فوٹوگرافر اس کی تصویر لینا چاہتے ہیں اور وہ مسلسل اپنا منہ چھپانے کی کوشش کر رہا ہے (ہندوستان ٹائمز ۲۸ ستمبر ۱۹۸۸)

بن جانسن کے ایجنٹ لاری ہائڈ بریخت (Larry Heidebrecht) سے پوچھا گیا کہ بن جانسن نے کیوں سیول چھوڑ دیا، حالاں کہ اس کو اپنے دفاع کے لئے یہاں موجود رہنا چاہئے انڈین ایکسپریس (۲۸ ستمبر ۱۹۸۸) کے مطابق، ایجنٹ نے جواب دیا کہ کیا آپ کا خیال ہے کہ آپ اس وقت سوالات کا جواب دینے کے قابل رہیں گے جب کہ آپ اپنی زندگی کے سب سے بڑے صدمہ سے دوچار ہوئے ہوں :

Do you think you would be around prepared to answer questions after the biggest shock of your life. دنیا کے اس واقعہ میں آخرت میں پیش آنے والے اسی قسم کے واقعہ کی تصویر ہے۔ میں بتایا گیا ہے کہ قیامت میں کچھ لوگ آئیں گے جنھوں نے دنیا میں بظاہر بڑے بڑے اسلامی کارنامے انجام دئے ہوں گے۔ کوئی شخص عالم کی حیثیت سے مشہور رہا ہوگا۔ کسی نے اس اعتبار سے شہرت پائی ہوگی کہ اس نے دین کے کام میں بہت زیادہ مال خرچ کیا ہے۔ کوئی شخص مجاہد کا ٹائٹل پائے ہوئے ہوگا اور دین کی راہ میں جان دینے والے کی حیثیت سے قوم کے اندر ہیرو بنا ہوا ہوگا۔ میں یہ لوگ جہنم میں ڈال دئے جائیں گے۔ خدا کہے گا کہ تم نے جو کچھ کیا شہرت اور ناموری کے لئے کیا، نہ کہ میری رضا اور خوشنودی کے لئے۔ تمہاری مطلوبہ چیز تم کو دنیا میں مل چکی۔ یہاں اب تمہارے لئے کچھ نہیں۔ جو شخص دین کے میدان میں غیر خدائی زور پر دوڑے۔ جس کا جوش دنیا کے لیے ہو نہ کہ آخرت کے لیے، ایسے شخص کا انجام آخرت میں زیادہ بڑے پیمانہ پر وہی ہوگا جو بن جانسن کا انجام کمتر پیمانہ پر دنیا مصنوعی زور پر دوڑنا نہ دنیا میں کسی کے لیے مفید ہے اور نہ آخرت میں۔

Printed page