Al-Risala · February 1988

دو نمونے

Al-Risala, February 1988, pp. 7–8

By Maulana Wahiduddin Khan

اس دنیا میں انسان کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ کسی صورت حال میں کس قسم کا جواب پیش کرتا ہے ۔ اس اعتبار سے انسانوں کی دو قسمیں ہو جاتی ہیں ۔ ایک صحیح جواب پیش کرنے والے ، اور دوسرے غلط جواب پیش کرنے والے ۔ صحیح جواب کیا ہے اور غلط جواب کیا ۔ اس سلسلہ میں یہاں دور اول کی دو مثالیں نقل کی جاتی ہیں ۔

قرآن میں مختلف طریقہ سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے پر ابھارا گیا ہے ۔ ہے : من ذا الذی یقرض اللہ قَرْضًا حسناً ( کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دے ) اس سلسلہ میں ایک روایت حسب ذیل الفاظ میں آئی ہے :

قال سعید بن جبیر عن ابن عباس . لما نزلت حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ جب قرآن قولہ تعالی رمن ذا الذی یقرض اللہ قرضاً میں یہ آیت اتری کہ کون ہے جو اللہ کو قرض حسناً فیضاعفہ لہ اضعافاً کثیرة ) قالت حسن دے تو اللہ اس کو کئی گنا لوٹائے ، تو اليهود يا محمد، افتقر ربک ۔ فسأل عبادہ مدینہ کے یہودیوں نے کہا کہ اے محمد، تمہارا رب فقیر ہو گیا ہے اس لیے اپنے بندوں سے قرض ( تفسیر ابن کثیر ، الجزء الاول ، صفحه ۳۳۴ ) مانگ رہا ہے ۔

یہ ایک قسم کے کردار کی مثال ہے ۔ یعنی وہ مثال جب کہ آدمی بات کو صحیح رخ سے نہ وہ اس میں شوشہ نکال کر اس کا مذاق اڑانے لگے ۔ وہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہ کرے اس کے برعکس وہ داعی کی بات میں عیب نکال کر یہ ظاہر کرے کہ اس کی بات اس قابل ہی نہیں کہ اس پر عمل کیا جائے ۔

اب دوسرے قسم کے کردار کی مثال لیجیے ۔ مذکورہ قرآنی آیت میں ایک شخص کو صرف استہزاء کا مواد ملا تھا ۔ مگر یہی آیت جب دوسرے آدمی کے سامنے آئی تو اس پر بالکل مختلف رد عمل ہوا ۔ روایات میں آتا ہے ۔

عن عبد اللہ ابن مسعود قال لما نزلت حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ جب قرآن کی

ھذہ الآيۃ (مَن ذاالَّذِى یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضاً حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَہُ) قال ابو الدحداح الانصارى یا رسول اللّٰہ وانّ اللّٰہ لیريد منا القرض - قال نعم یا ابا الدحداح - قال ارنی یدك یا رسول اللّٰہ - قال فناولہ یدہ - قال فانّی قد اقرضتُ ربی حائطی - ولہ حائط فیہ ستّ مائۃ نخلۃ و ام الدحداح فیہ وَعِيَالُهَا-قال: - قال فجاء ابو الدحداح فناداھا یا ام الدحداح - قالت لبّیك - قال اخرجی فقد اقرضتُہ ربی عز وجل - فقالت لہ ربح بیعك یا ابا الدحداح ونقلت منہ متاعھا و (تفسیر ابن كثیر ، الجزء الرابع ، صفحہ ، ۳۰) یہ آیت اتری : کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسن دے تو وہ اس کو کئی گنا بڑھا دے۔ اس آیت کو سن کر حضرت ابو الدحداح نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا اللہ ہم سے قرض چاہتا ہے۔ فرمایا ہاں اے ابو الدحداح ۔ انھوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، مجھے اپنا ہاتھ دکھائیے۔ کہتے ہیں کہ آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا۔ کہا کہ پھر میں نے اپنا باغ اپنے رب کو قرض میں اور ان کا ایک باغ تھا جس میں چھ سو کھجور کے درخت تھے ۔ اس وقت ان کی بیوی ام الدحداح اپنے بچوں کے ساتھ اس میں تھیں ۔ راوی کہتے ہیں کہ ابو الدحداح آئے اور آواز دی کہ اے ام الدحداح ۔ کہا کہ ہاں ۔ ابوالد حداح نے کہا کہ اس باغ سے کیوں کہ وہ میں نے اپنے رب کو قرض میں ام الدحاح نے کہا کہ اے ابو الدحداح آپ کا سودا کامیاب رہا۔ اور اپنا سامان اور بچے لے کر وہاں سے چلی آئیں ۔

قرآن کی جو آیت اوپر نقل کی گئی ہے ، وہ انھیں الفاظ کے ساتھ یہود کے سامنے آئی ۔ ٹھیک انھیں الفاظ کے ساتھ ابوالدرداء انصاری کے سامنے آئی ۔ مگر دونوں کا رد عمل ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی کلام کو صحیح طور پر سمجھنے اور اس کا صحیح جواب دینے کے لیے سنجیدگی ضروری ہے۔ اگر آدمی سنجیدہ نہ ہو تو وہ نہ خدا کے کلام کے ساتھ انصاف کر سکتا ہے

اور نہ انسان کے کلام کے ساتھ ۔

Printed page