عرض مترجم
Al-Risala, December 1988, pp. 42–24
By Maulana Wahiduddin Khan
اوپر جو ترجمہ نقل کیا گیا ہے، وہ بتاتا ہے کہ عیسائی حضرات نے پیغمبر اسلام کو بدنام کرنے کے لئے کتنی زیادہ لغو حرکتیں کی ہیں۔ مزید یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قدیم زمانہ میں پیغمبروں کے ساتھ کس قدر ظالمانہ سلوک کیا گیا ہے۔
خدا کے پیغمبر خالص سچائی کے علمبردار تھے۔ ان کا وجود ان لوگوں کو غیر معتبر ثابت کرنے کے ہم معنی تھا جو جھوٹ پر کھڑے ہوئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ پیغمبروں کو برداشت نہ کر سکے۔ پیغمبروں کی سخت ترین مخالفت کی اور ان کے بعد ان کی تاریخ کو اس طرح بگاڑ ڈالا کہ کوئی شخص ان کی سیرت اور ان کے پیغام کو جاننا چاہے تو اس کے لئے اس کے متعلق صحیح معلومات حاصل کرنا ممکن ہی نہ رہے۔
اوپر یورپ کے مسیحی لٹریچر کی جو مثالیں، نقل کفر کفرنباشد کے اصول کے تحت درج کی گئی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی وہی سب کچھ بدترین شکل میں کیا گیا جو دوسرے پیغمبروں کے ساتھ کیا گیا تھا۔ آپ کے مخالفین نے آپ کی سیرت اور آپ کے پیغام کو بگاڑنے کے لئے وہ سب کچھ کیا جو وہ کر سکتے تھے۔
مگر یہاں دونوں کے درمیان ایک زبر دست فرق ہے۔ دوسرے پیغمبروں کی سیرت اور
ان کے پیغام کو بگاڑنے والے بظاہر اپنے اعتبار سے کامیاب ہو گئے۔ یعنی انھوں نے بگاڑ ناچاہا اور عملاً بگاڑ دیا۔ چنانچہ ان سابق پیغمبروں کے بارہ میں آج قرآن کے باہر کہیں صحیح تاریخی ریکارڈ نہیں حتیٰ کہ ان کی اپنی کتابوں میں بھی نہیں۔ لیکن پیغمبر اسلامؐ کے معاملہ میں صورت حال بالکل مختلف یہاں مخالفین کی ساری کارروائیاں بالکل نا کام ہو کر رہ گئیں۔ لوگوں کی بدترین مخالفانہ کوششوں کے باوجود، آج آپ کی تاریخ اور آپ کی لائی ہوئی تعلیمات کا متن اس طرح کامل صورت میں محفوظ ہے کہ اس سے زیادہ محفوظ اور مستند صورت موجودہ دنیا میں ممکن نہیں۔ یہ کوئی سادہ سی بات نہیں۔ یہ فرق در اصل پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الرسل ہونے کا عظیم الشان ثبوت ہے۔ پچھلے زمانوں میں جو پیغمبر آئے، وہ علم الہیٰ کے مطابق، سلسلہ نبوت کے خاتم نہ تھے۔ ان کے بعد بھی نبیوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہنے والا تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ یہ معاملہ نہیں کیا کہ ان کے مخالفین کی معاندانہ کارروائیوں کو غیر مؤثر بنا دے تا کہ وہ ان کی تاریخ اور ان کی تعلیمات کو بگاڑنے سے عاجز رہ جائیں۔
مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ یہ تھا کہ علم الہیٰ کے مطابق وہ آخری رسول اور خاتم النبیین آپ کے بعد پھر کوئی نبی یا رسول آنے والا نہ تھا، اس لئے ضروری تھا کہ آپ کی سیرت اور آپ کی تعلیم کامل طور پر محفوظ رہے۔ کیوں کہ آپ کی سیرت اور آپ کی تعلیم کے غیر محفوظ ہو جانے کی صورت میں دوسرے نبی کا آنا ضروری ہو جاتا۔
خاتم النبیین صرف سلسلہ نبوت کو ختم کرنے والے نہ تھے، اسی گئے ساتھ آپ مخالفین حق کے لئے اس موقع کو بھی ختم کر دینے والے تھے کہ وہ پیغمبر کی سیرت اور اس کی تعلیمات کو بگاڑنے یا مٹانے میں کامیاب ہو سکیں۔ ختم نبوت لازمی طور پر حفاظت نبوت کی مقتضی ہے، اور اس کا اہتمام اللہ تعالیٰ کی طرف سے پوری طرح کر دیا گیا ہے۔
اب پیغمبر کی آمد کا سلسلہ بلاشبہ ختم ہو چکا ہے۔ مگر خود ختم نبوت ہی کے طفیل میں مومنان نبوت کو ایک عظیم الشان خدائی مدد ابدی طور پر حاصل ہے۔ وہ یہ کہ اگر وہ پیغمبر خدا کی سچی اور بے آمیز دعوت کو لے کر اٹھیں تو ان کے مخالفین کی بڑی سے بڑی کوششیں ہبا او منثورا ہو کر رہ جائیں گی۔ دعوت رسالت کو بدنام کرنے یا اس کو ناکام بنانے کی ہر کوشش کا وہی انجام
ہو گا جو خود ذات رسالت کے معاملہ میں ہوا۔ یہ خداوند عالم کا فیصلہ ہے ، اور خداوند عالم کے فیصلہ کو کوئی بدلنے والا نہیں۔
ختم نبوت کا لازمی تقاضا حفاظت نبوت ہے ، اور حفاظت نبوت کا لازمی تقاضا حفاظت یہ تینوں آپس میں لازم و ملزوم ہیں۔ ختم نبوت اس کے بغیر مکمل نہیں کہ نبوت کا ریکارڈ پوری طرح محفوظ حالت میں موجود رہے۔ اور اس عالم اسباب میں نبوت کا ریکارڈ اسی وقت محفوظ رہ سکتا ہے جب کہ ایک امت مسلسل اس کی پشت پر کھڑی ہوئی ہو۔ یہ صورت حال امت محمدی کی حفاظت کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔ اب امت کو صرف ایک کام کرنا ہے۔ وہ نبوت کی چوکیدار بنی رہے ، جس میں نبوت کی تبلیغ و اشاعت بھی لازمی طور پر شامل ہے۔ اس کے بعد اغیار اور اعداد کے مقابلہ میں اس کی حفاظت کا کام خود خدا کی طرف سے قیامت تک کیا جاتا رہے گا، اس کے لئے امت کو الگ سے اہتمام کرنے کی ضرورت نہیں۔
اسلامی شریعت میں عورت کا مقام اسلام اور جدید تہذیب کا تقابل از مولانا وحید الدین خاں ( صفحات ۲۹۲ ، قیمت ۳۵ روپیہ )