Al-Risala · February 1988

آدمی کی جانچ

Al-Risala, February 1988, pp. 10–11

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے ۔ یہاں ظای چیزوں کو سامنے رکھ کر اصل حقیقتوں کو پردہ کے پیچھے چھپا دیا گیا ہے ۔ اب آدمی کی جانچ یہ ہے کہ وہ ظاہر سے گزر کر باطن تک پہنچ جائے ۔ سے بلند ہو کر غیب کو دیکھ لے ۔ وہ چھپی ہوئی حقیقتوں کو اس طرح جان لے جیسے کہ وہ اس کی آنکھوں کے سامنے کھلی ہوئی حالت میں موجود ہیں ۔ ہمارے سامنے ایک پردہ پڑا ہوا ہے ۔ اور آدمی کا امتحان اس میں ہے کہ کون پردہ کو پھاڑ کر پردہ کے دوسری طرف دیکھ لیتا ہے اور کون پردہ کے اُس پار دیکھنے میں کامیاب نہیں ہوتا ۔

آدمی کی کامیابی یہ ہے کہ وہ ظاہر میں الجھے بغیر باطن تک پہنچ جائے ــــــــــ ایک چیز جو بظاہر خرید کر مل رہی ہے اس کو بطور عطیہ ملنے والی چیز سمجھنا ، ایک چیز جو بازار سے مل رہی ہے ، اس کو کائناتی خزانہ سے ملنے والی چیز سمجھنا ، ایک چیز جو بظاہر ہر انسان سے مل رہی ہے اس کو خدا سے ملنے والی چیز سمجھنا ، اسی کا نام ایمان بالغیب ہے ۔ اور وہی شخص صاحب معرفت ہے جس ، کو ایمان بالغیب کا یہ درجہ حاصل ہو جائے ۔

جینے کی دو قسمیں ہیں ۔ ایک ہے اندھا بن کر جینا ، ایک ہے آنکھ والا بن کر جینا ۔ میں یہی امتحان ہے کہ کون ، شخص کس طرح جیتا ہے ۔ جو شخص آج کی امتحان گاہ میں اندھا بن کر جیتے گا وہ آئندہ آنے والی مستقل دنیا میں ہمیشہ اندھا ہو کر بھٹکتا رہے گا ۔ جو شخص آج کی امتحان گاہ میں بینا بن کر جئے گا وہ آئندہ کی دنیا میں آنکھوں والا ہو گا ۔ دنیا کی تمام نعمتیں مزید اضافہ کے ساتھ اس کو ابدی طور پر دے دی جائیں گی ۔ (من كان فى هذه اعمى فهو فى الآخرة اعمى واضل سبیلا)

آپ کھانے کے دستر خوان پر بیٹھے ہیں۔ آپ کے سامنے میز پر دودھ اور گوشت اور پھل رکھا ہوا ہے ۔ اب ایک شخص وہ ہے جو اس کو بس بازار سے خریدی ہوئی چیز سمجھ کر کھانا شروع کر دے ۔ غفلت اور بے فکری کے ساتھ کھا کر ڈکار لے اور پھر دوبارہ اپنے غفلت کے شغلوں میں لگ جائے ۔

یہ اندھے شخص کا کھانا ہے ۔ کیوں کہ دودھ اور گوشت اور پھل " بازار سے خریدی ہوئی چیز " نہیں ، وہ قدرت کے عظیم شاہکار ہیں ۔ ساری کائنات کے ناقابلِ بیان عمل کے بعد یہ ممکن ہوا ہے کہ زمین پر دودھ اور پھل اور گوشت موجود ہو اور انسان اس کو کھا کر بھوک مٹائے اور قوت اور زندگی حاصل کرے ۔

دوسرا شخص وہ ہے کہ جب اس کے سامنے دودھ اور گوشت اور پھل آیا تو اس کو دیکھتے ہی اس کے ذہن نے سوچنا شروع کیا۔ اچانک اس پر منکشف ہوا کہ یہ قدرت کے کارخانہ کی خدا کی زندہ فیکٹری (گائے بھینس) گھاس چرتی ہے اور اس کو دودھ اور گوشت میں تبدیل کرتی ہے۔ درخت زمین سے اور فضا سے مٹی اور پانی اور گیسیں لیتا ہے اور اس کو پھول اور پھل میں تبدیل کرتا ہے۔ پھر اور آگے بڑھ کر جب وہ سوچتا ہے کہ ان فیکٹریوں کا قیام کیسے ممکن ہوا تو اس کے سامنے پوری کائنات کا نظام آجاتا ہے۔ اس کو دکھائی دیتا ہے کہ ایک لا محدود کائنات کھرب ہا کھرب سال تک گردش کرتی رہی تب موجودہ دنیا کا نظام قائم موجودہ دنیا اپنی تمام وسعتوں کو لیے ہوئے کامل ہم آہنگی کے ساتھ مساعدت کرتی ہے اس کے بعد یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی درخت پھل دے اور کوئی جانور دودھ اور گوشت تیار کرے ۔ یہ سب سوچ کر اس کے اندر ایک عجیب تھرتھراہٹ پیدا ہوتی ہے۔ اس کے بعد جب وہ دودھ یا گوشت یا پھل اپنے منہ میں ڈالتا ہے تو اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خدا کی ایک بے پایاں نعمت کو اپنے منہ میں ڈال رہا ہے ۔

ظاہر ہے کہ ان دونوں آدمیوں کا کھانا ایک نہیں ، اس لیے دونوں آدمیوں کا انجام بھی جس طرح پتھر کھانے والے کا انجام اور پھل کھانے والے کا انجام ایک نہیں اسی طرح ان دو آدمیوں کا انجام بھی ایک نہیں ہو سکتا جن میں سے ایک نے اندھے پن کے ساتھ کھایا ہو اور دوسرے نے آنکھ والا بن کر کھایا ہو ( قل ھل تستوی الاعمی والبصير وهل تستوى الظلمات والنور)

اندھوں کے لیے دوزخ ہے اور آنکھ والوں کے لیے جنت ۔ آدمی نے جو چیز دنیا میں پائی ہے وہی وہ آخرت میں بھی پائے گا، نہ اس سے زیادہ اور نہ اس سے کم ۔

Printed page