تاریخ یا عقیدہ
Al-Risala, February 1988, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
علامہ اقبال نے کہا ہے کہ جس طرح ایک شخص کی زندگی میں حافظہ کی زبردست اہمیت ہوتی ہے، حافظہ اگر کم ہو جائے یا بالکل ختم ہو جائے تو اس کی زندگی اس کے لیے بے معنی ہو جائے گی۔ طرح ایک قوم یا ایک ملت کی زندگی میں تاریخ کی زبردست اہمیت ہے۔ کیوں کہ اگر اس کی تاریخ گم ہو جائے یا گُم نامی کی موٹی تہوں کے نیچے دفن ہو جائے تو اس قوم کی زندگی بھی بے معنی اور لغو ہو کر رہ جاتی ہے:
یہ نظریہ سے زیادہ شاعری ہے۔ کیوں کہ قومیں عقیدہ پر زندہ ہوتی ہیں نہ کہ تاریخ پر۔ مسلمانوں کا پہلا گروہ (صحابہ و تابعین) بلا شبہ زندہ ترین گروہ تھا۔ جس نے مسلمہ طور پر عظیم الشان کارنامے انجام دیے۔ مگر ان کی کوئی تاریخ نہیں تھی۔ ان لوگوں نے خود اپنے عمل سے یقیناً ایک عظیم ترین تاریخ بنائی۔ مگر خود وہ کسی تاریخ کے وارث نہ تھے۔ اس کے برعکس انھوں نے اپنی تاریخ سے کٹ کر از سر نو ایک بالکل جدید زندگی شروع کی تھی۔ دوسری مثال موجودہ مسلمانوں کی ہے۔ موجودہ زمانہ کے تمام مصلحین (بشمول علامہ اقبال) نے یہ کیا کہ مسلمانوں کو ان کی تاریخ یاد دلائی۔ تاریخ کے موضوع پر، براہ راست یا بالواسطہ انداز میں بے شمار کتابیں لکھی گئیں۔ ہمارے تمام شاعر اور خطیب اور انشاء پرداز تاریخ کی زبان میں بیداری کا صور پھونکتے رہے۔ مگر قوم کے اندر ایک فی صد بھی کوئی حقیقی بیداری پیدا مسلمان سو سال پہلے جتنے پست حال تھے، آج بھی اتنا ہی یا اس سے زیادہ پست حال ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی قوم کے افراد اپنے اندرونی انقلاب سے ابھرتے ہیں نہ کہ واقعات گزشتہ کی یاد دہانی سے۔