حکمتِ تدریج
Al-Risala, February 1988, pp. 20–24
By Maulana Wahiduddin Khan
اگر یہ سوال کیا جائے کہ گھر کیا ہوتا ہے تو گھر کی پوری تصویر اس کے تمام اجزاء سمیت بیک وقت آدمی کے سامنے رکھ دی جائے گی ۔ لیکن اگر سوال یہ ہو کہ گھر کیسے بنتا ہے تو جواب کی شکل دوسری اب کہا جائے گا کہ پہلے زمین کی فراہمی، پھر بنیاد، اس کے بعد دیواریں، اس کے بعد چھت وغیرہ۔ اسی طرح اگر سوال کیا جائے کہ درخت کیا ہے تو جواب دینے والا بیک وقت پورے درخت کا تعارف لیکن اگر سوال یہ ہو کہ درخت کیسے وجود میں آتا ہے تو جواب دینے والا دوبارہ ایک ترتیب کے ساتھ اجزاء درخت کا ذکر کرے گا پہلے زمین ، اس کے بعد بیج ، پھر پانی اور حفاظت ، یہاں تک کہ دھیرے دھیرے پورا درخت ۔
یہی معاملہ اسلام کا بھی ہے۔ اگر سوال یہ ہو کہ "اسلام کے احکام کیا کیا ہیں" تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ قرآن وحدیث میں جن احکام کا ذکر ہے ، ان سب کی فہرست تیار کر کے رکھ دی جائے لیکن اگر سوال کرنے والا یہ سوال کرے کہ "اسلام کی اشاعت کیسے کی جائے" تو جواب کی شکل بدل جائے گی ۔ اب " الاقدم فالاقدم " کے اصول پر جواب دیا جائے گا۔ اب بتایا جائے گا کہ اسلام میں بہت سے احکام ہیں مگر اس کے کچھ اجزاء پہلے مرحلہ میں مطلوب ہیں اور کچھ اجزاء بعد کے مرحلہ میں ۔ بیانِ احکام میں فہرست مطلوب ہوتی ہے اور اشاعتِ احکام میں ترتیب ۔ میں تمام احکام بیک وقت بتانے ہوتے ہیں، جب کہ دوسری صورت کا تقاضا ہوتا ہے کہ احکام کو تدریج کے ساتھ ایک کے بعد ایک سامنے لایا جائے ۔
تمام کتب فقہ "بیانِ احکام" کے اسلوب پر لکھی گئی ہیں ، اس لیے ان میں ایک ہی کتاب میں تمام احکام کی تفصیل دینے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ مگر دعوت واشاعت کے مصالح اس سے الگ ہیں ۔ فقہ میں اگر فہرست بندی کی اہمیت ہے تو دعوت واشاعت میں ترتیب و دعوت واشاعت کے کام کی یہی حکمت ہے جو اس حدیث میں بیان ہوئی ہے جو صحاح ستہ کی تمام کتابوں میں مختلف طریقوں سے منقول ہوئی ہے :
قال البخاری : حدّثنا حبان ، اخبرنا عبد الله ، عن زكريا بن ابی اسحاق ، عن يحيی بن
عبد الله بن صيفي، عن أبي معبد مولى ابن عباس، عن ابن عباس، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لمعاذ بن جبل حين بعثه الى اليمن: " انك ستأتي قوماً اهل كتاب، فأذ جئتهم فادعهم الى ان يشهدوا ان لا اله الا الله وان محمداً رسول الله، فان هم أَطَاعُوا لك بذلك فأخبرهم ان الله فرض عليهم خمس صلوات في كل يوم وليلة، فان هم أَطَاعُوا لك بذلك فأخبرهم ان الله فرض عليهم صدقةً تؤخذ من اغنيائهم فَتُرَدُّ على فقرائهم، فان هم أَطَاعُوا لك بذلك فاياك وَكَرَائِمَ اموالهم، واتق دعوة المظلوم فانه ليس بينها وبين الله حجاب"
حضرت عبد الله بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب معاذ بن جبل کو یمن کی طرف بھیجا تو ان سے کہا۔ تم ایک ایسی قوم کی طرف جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں۔ ان کے پاس پہنچو تو ان کو دعوت دو کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ پس اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو ان کو بتاؤ کہ اللہ نے ان کے اوپر ہر رات اور دن میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ پس اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو ان کو بتاؤ کہ اللہ نے ان کے اوپر زکوٰۃ فرض کی ہے جو کہ ان کے دولت مندوں سے لی جاتی ہے اور ان کے غریبوں کو لوٹا دی جاتی ہے۔ پس اگر وہ تمہاری یہ بات مان لیں تو اس سے بچو کہ تم ان کا صرف اچھا مال لو۔ اور مظلوم کی پکار سے ڈرو، کیوں کہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ آپ نے بیان احکام اور عملی مطالبہ میں فرق فرمایا ہے۔ حکم بیان کرتے وقت تو آپ نے تمام ضروری احکام بیان فرمائے۔ مگر عمل کے مطالبہ کے معاملہ میں آپ نے نرمی اور رخصت کا اور ترتیب و تدریج کا لحاظ فرمایا۔ مثلاً قبیلہ ثقیف (طائف) کا وفد رمضان 9 ھ میں مدینہ آیا۔ یہ لوگ چھ آدمی تھے۔ اور ان کے سردار عبد یا لیل تھے۔ یہ لوگ مسجد نبوی میں ٹھہرائے گیے۔ وہ کئی دن تک قرآن کو سنتے رہے اور اسلام کے احکام و مسائل کی بابت دریافت کرتے رہے۔
اس سلسلہ میں جو تفصیلات سیرت و حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں، ان سے معلوم
ہوتا ہے کہ احکامِ اسلام کو بیان کرنے کے معاملہ میں ان سے کوئی کمی نہیں کی گئی۔ تمام احکام پوری طرح سنائے جاتے رہے اور بیان کیے جاتے رہے۔ مگر احکام کے عملی مطالبہ کے معاملہ میں ان سے حسب گنجائش رخصت کا اور تدریج کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ اس سلسلہ میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے :
قال الامام احمد : حدثنا عفان، حدثنا محمد بن مسلمة، عن حميد، عن الحسن، عن عثمان بن أبي العاص، أن وفد ثقيف قدموا على رسول الله صلى الله عليه وســــــــلم فأنزلهم المسجد ليكون أَرَقَّ لقلوبهم ، فاشترطوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم (الا يصلوا) والا يحشروا ولا يعشروا ولا يجبوا ولا يستعمل عليهم غيرهم ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " لكم الا تحشروا ولا تعشروا ولا يستعمل عليكم غيركم ، ولا خير في دين لا رکوع فيه " ثقيف کا وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ آیا۔ آپ نے ان کو مسجد میں ٹھہرایا تاکہ وہاں کے ماحول سے ان کے دل نرم ہوں۔ انھوں نے اسلام قبول کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شرط لگائی کہ انھیں جہاد کے لیے جمع نہیں کیا جائے گا۔ اور اُن سے عُشر نہیں لیا جائے گا اور ان پر ٹیکس نہیں لگایا جائے گا اور ان کے اوپر کسی غیر کو حاکم نہیں بنایا جائے گا اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا کہ تم سے جہاد میں شرکت کے لیے نہیں کہا جائے گا اور تم پر عُشر نہیں لگایا جائے گا اور تمہارے اوپر کسی غیر کو حاکم نہیں بنایا اور اس دین میں کوئی خیر نہیں جس میں اللہ کے آگے جھکنا نہ ہو۔ ایک اور روایت ان الفاظ میں آئی ہے :
قال ابو داؤد : حدثنا الحسن بن الصباح ، حدثنا اسماعیل بن عبد الكريم ، حدثنی ابراهيم بن عقیل بن معقل بن منبہ ، عن وہب ، سالت جابراً عن شان ثقیف اذ بایعت قال : اشترطت على رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان لا صدقة عليها ولا جہاد ، وانہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول بعد ذالك : " يتصدقون ويجاهدون اذا اسلموا "
وہب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر سے ثقیف کی بابت پوچھا جب کہ انھوں نے بیعت کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ثقیف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ شرط لگائی کہ ان پر زکوٰۃ نہ ہوگی اور ان
پر جہاد نہ ہوگا۔ اور یہ کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط مان لی) اور اس کے بعد انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب وہ اسلام قبول کر لیں گے تو آئندہ وہ زکوٰۃ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے۔
اس رخصت یا حکمت تدریج کے لیے کوئی ایک ہی لگابندھا اصول مقرر نہیں کیا گیا ہے۔ کا تعلق زیادہ تر حالات سے ہے۔ جن لوگوں کے ساتھ رخصت برتی جا رہی ہے، یا جن کے ساتھ تدریج کا معاملہ کیا جا رہا ہے، ان کی استعداد اور حالات کی روشنی میں اس کا فیصلہ کیا جائے گا نہ کہ کسی مطلق اصول یا کسی متعین فہرست کی بنیاد پر۔
اس نظریہ کے حق میں ایک ثبوت یہ ہے کہ ثقیف کے ساتھ صدقہ اور جہاد کے معاملہ میں رخصت کا معاملہ اختیار کیا گیا۔ مگر اسی صدقہ اور جہاد کی رخصت ایک اور شخص نے طلب کی تو اس کو اس کی رخصت نہیں دی گئی۔ یہاں ہم اس سلسلہ میں ایک واقعہ نقل کرتے ہیں ۔ عن بشیر بن الخصاصیۃ رضی اللہ عنہ قال ؛ اتیت رسول الله صلى الله عليه وسلم لابايعه فقلت علام تبايعنى يا رسول الله ۔ فمد رسول الله صلى الله عليه وسلم يده فقال : تشهد ان لا اله الا الله وحدہ لا شريك له وتصلي الصلوات الخمس لوقتها وتؤدى الزكوة المفروضة وتصوم رمضان وتحج البيت، وتجاهد في سبيل الله ؛ قلت يا رسول الله، كلاً نطيق الا اثنتين فلا اطيقهما الزكوة، والله مالى الا عشر ذود هُنَّ رسل اهلى وحمولتهن ۔ واما الجهاد فانى رجل جبان، ويزعمون انه من ولى فقد بَاءَ بِغَضَبٍ من الله، واخاف ان حضر القتال ان اخشع بنفسى فافر فابوء بغضب من الله . فقبض رسول الله صلى الله عليه وسلم يده ثم حركها ، ثم قال : " يا بشير ، لا صدقة ولا جهاد ؛ فبم اذن تدخل الجنة ؟ " قلت : يا رسول الله، ابسط يدك ابايعك ، فبسط يده فبايعته عليهن كلهن ۔ كذا فى كنز العمال (۱۳/۷) واخرجه احمد، ورجاله موثقون كما قال الهیثمی (۷۲/۱)
بشیر بن خصاصیہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تا کہ بیعت کروں (اور اسلام میں داخل ہو جاؤں) میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، آپ مجھ سے کس چیز پر بیعت لیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور کہا کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود
نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اور تم پانچ نمازیں ان کے وقت پر پڑھو، اور تم فرض زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔ اور اللہ کے راستہ میں میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، میں یہ سب کر سکتا ہوں سوا دو کے، کیوں کہ میں ان دو کی طاقت نہیں رکھتا۔ خدا کی قسم میرے پاس صرف دس اونٹ اور اونٹنیاں وہ میرے گھر والوں کیلئے دودھ کا ذریعہ بھی ہیں اور بار برداری کا بھی۔ اور جہاں تک جہاد کا معاملہ ہے تو میں ایک بزدل آدمی ہوں۔ اور لوگ کہتے ہیں کہ جو شخص جہاد کے میدان سے پیٹھ پھیرے تو وہ خدا کے غضب کا مستحق ہو جاتا ہے۔ میں ڈرتا ہوں کہ جب جنگ کا موقع ہو تو میں ڈر جاؤں اور میدان سے بھاگ جاؤں، پھر میں اللہ کے غضب کا مستحق بنوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور اس کو حرکت دیتے ہوئے کہا کہ اے بشیر، نہ صدقہ اور نہ جہاد، پھر تم کیسے جنت میں جاؤ گے۔ میں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول، اپنا ہاتھ بڑھائیے میں آپ سے بیعت کرتا ہوں پھر آپ نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو میں نے ان سب چیزوں پر آپ سے بیعت کی۔
قرآن کے متعلق معلوم ہے کہ وہ بیک وقت ایک کامل کثَابَ کی صورت میں نہیں اترا، بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے ترتیب وار اترا۔ اس طرح اس کے نزول میں ۲۳ سال لگ گئے۔ قرآن کے اس طرح نازل ہونے کا سبب کیا تھا، اس کا جواب حضرت عائشہ کی ایک روایت میں ملتا ہے جو کہ حسب ذیل ہے :
انما نَزَلَ اول ما منزل سورۃ من المفصل، فيها ذكر الجنة والنار۔ حتی اذا تاب الناس الى الاسلام نزل الحلال والحرام۔ ولو نزل اول ما نزل لا تشربوا الخمر لَقَالُوا: لا ندع الخمر ابداً ۔ لا تَزْنُوا، لَقَالُوا: لا ندع الزنا ابداً (بخاری، باب تالیف القرآن)
قرآن میں پہلے وہ مکی سورتیں اتریں جن میں جنت اور جہنم کا ذکر ہے۔ بیان تک کہ جب لوگ اسلام کی طرف مائل ہو گئے تب حلال اور حرام کے احکام اترے۔ اور اگر پہلے ہی یہ حکم اترتا کہ شراب نہ پیو تو یقیناً لوگ کہتے کہ ہم کبھی شراب نہ چھوڑیں گے۔ اور اگر پہلے ہی یہ حکم اترتا کہ زنا نہ کرو تو یقیناً لوگ کہتے کہ ہم ہرگز زنا نہ چھوڑیں گے۔
یہاں احکام میں ہمیشہ فہرست مطلوب ہوتی ہے اور نفاذ احکام میں ہمیشہ ترتیب و تدریج۔