Al-Risala · February 1988

ایک سفر

Al-Risala, February 1988, pp. 25–34

By Maulana Wahiduddin Khan

۱۲ جون ۱۹۸۰ء کو مجھے ایک اسلامی کانفرنس میں شرکت کے لئے افریقہ کے سفر پر روانہ ہونا تھا۔ اتفاق سے آج ہی ایک صاحب کا خط ملا جس میں "سفرنامہ" کے بارے میں سخت ناراضگی کا اظہار کیا انھوں نے لکھا تھا کہ الرسالہ میں سفرنامہ کی اشاعت بند کر دی جائے کیوں کہ اس میں شخصی تذکرے ہوتے ہیں۔ میں نے سوچا کہ الرسالہ کا سفرنامہ تو تمام تر سبق اور معلومات سے بھرا ہوا پھر کیوں بعض افراد سفر نامہ کے بارے میں مخالفانہ رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ سوچتے ہوئے میرا ذہن سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۶ کی طرف چلا گیا۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ قرآن سے بہت سے لوگوں کو گمراہی ملتی ہے اور بہت سے لوگوں کو ہدایت۔ میں نے سوچا کہ قرآن تو خدا کی کتاب ہے، وہ پوری طرح بے عیب اور کامل ہے، پھر کیا وجہ ہے کہ اس سے بھی بہت سے لوگوں کو صرف گمراہی کا رزق حاصل ہوتا ہے۔ اس کی وجہ قرآن کی اسی آیت میں موجود قرآن میں مکھی کی مثال دی گئی تو کچھ لوگوں نے کہا کہ قرآن تو خداوند عالم کی کتاب ہے۔ پھر اس میں مکھی اور مچھر جیسی چھوٹی اور معمولی چیزوں کا ذکر کیوں۔

ان لوگوں کی نظر "مکھی" اور "مچھر" کی طرف چلی گئی۔ وہ اس سبق کی طرف نہیں گئی جو مکھی اور مچھر کے تذکرہ میں چھپا ہوا تھا۔ اس لئے ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ خدا کی کتاب میں مکھی اور مچھر کا تذکرہ کیوں۔ یہی معاملہ الرسالہ کے سفر ناموں کا بھی ہے۔ اس میں بعض اوقات "مکھی" اور "مچھر" کے تذکرے ہوتے ہیں۔ اب جن لوگوں کی نگاہ مکھی اور مچھر پر اٹک کر رہ جائے انھیں سفرنامہ بے فائدہ معلوم ہوگا۔ مگر جن لوگوں کی نگاہ مکھی اور مچھر سے گزر کر اس کے سبق تک پہنچ جائے وہ سفر نامہ میں اپنے لئے قلب و دماغ کی غذا پائیں گے۔ اور خدا کے فضل سے ہمارے قارئین میں ایسے لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

یہ سفر براستہ کراچی ہوا۔ دہلی سے پاکستان ایرویز کی فلائٹ نمبر ۲۹۱ کے ذریعہ روانگی جہاز کے اندر پاکستان کے اردو اخبارات برائے مطالعہ موجود تھے۔ ان اخبارات میں میرٹھ کے فرقہ وارانہ فساد کی خبریں تھیں۔ مگر ان کا عنوان "میرٹھ میں فرقہ وارانہ فساد" نہیں تھا۔ بلکہ ان کا

عنوان حسب ذیل الفاظ میں قائم کیا گیا تھا :

بھارت میں مسلم کشی بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام بھارت میں مسلمانوں کے خون کی ہولی ایک طرف اس قسم کی مبالغہ آمیز بلکہ خلاف واقعہ خبریں تھیں ۔ دوسری طرف روز نامہ جنگ (کراچی) ۱۲ جون ، ۱۹۸۷ کے آخری صفحہ پر مہاجر قومی موومنٹ (MQM) کے لیڈر مسٹر الطاف حسین کا ایک بیان تھا جس میں دوسری باتوں کے ساتھ حسب ذیل الفاظ چھپے ہوئے تھے : ’’ پاکستان کی جو سیاسی اور مذہبی جماعتیں ہندوستانی مسلمانوں کے غم میں گھل رہی ہیں ، اگر انھیں واقعی ہندوستان کے مظلوم مسلمانوں سے ہمدردی ہے تو وہ سڑکوں پر نکل آئیں اور اس وقت تک کے لیے دھرنا مار کر بیٹھ جائیں جب تک کہ مظلوم مسلمانوں کے لئے پاکستان کی سرحد کھولنے کا مطالبہ تسلیم نہ کرا لیں ۔ ان مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو یہ اعلان کرنا چاہئے کہ ہم آدھا کھانا بھارت کے مظلوم مسلمانوں کو دیں گے اور انھیں یہاں رکھیں گے ۔ بھارتی مسلمانوں کے لئے صرف زبانی جمع خرچ کیا جار ہا ہے ۔ بظاہر یہ دونوں بیان ایک دوسرے سے مختلف نظر آتے ہیں ۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ۔ دونوں ہی کا مقصد اپنے مد مقابل کو ڈس کریڈٹ کرنا ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ ایک کا مد مقابل ہندوستان کا ہندو ہے اور دوسرے کا مد مقابل خود پاکستان کا غیر مہاجر مسلمان ۔

۱۲ جون کی شام کو ۱۰ بجے میں کراچی پہنچا۔ یہاں تقریباً دورات اور ایک دن قیام رہا۔ یہ قیام جناب فضل الرحمن صاحب ایم اے کے مکان پر تھا۔ وہ ایک ذہین اور صاحب مطالعہ آدمی ہیں ، ان سے یہاں کے بارہ میں کافی معلومات حاصل ہوئیں۔

آجکل یہاں مہاجر اور غیر مہاجر مسئلہ زوروں پر ہے۔ یہ مسئلہ اس سے زیادہ شدید صورت اختیار کر چکا ہے جس کو ہندوستان میں ’’ ہندو مسلم مسئلہ ‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسی تناؤ کا یہ نتیجہ ہے کہ اپریل ۱۹۸۵ میں جب ایک مہاجر لڑکی بشریٰ زیدی ایک غیر مہاجر (پٹھان) کی ٹرک سے دب کر

ہلاک ہوگئی تو کرا چی میں مہاجرین نے بگڑ کر پٹھانوں کو مارا اور ان کی گاڑیوں کو جلایا۔ بدلہ پٹھانوں نے سہراب گوٹ میں لیا جس کے قریب ” علی گڑھ کالونی “ کے چھ سو مہاجر حملے دئے گئے یا گولیوں کا نشانہ بنا دئے گئے۔ اس باہمی قتل و خون کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ پاکستان کی تمام بڑی بڑی تحریکوں کی تہہ میں یہی مہاجر اور غیر مہاجر کا مسئلہ پایا جاتا ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے یہاں کی تجارتوں پر ہند و چھائے ہوئے تھے۔ ان کے جانے کے بعد یہاں زبردست خلا پیدا ہوا۔ اس کو مہاجرین نے بھر پور طور پر استعمال کیا۔ یہاں تک کہ وہ پاکستان کی صنعت و تجارت کے ۸۰ فی صد حصہ پر قابض ہوگئے۔ اس کے نتیجہ میں مقامی باشندوں میں محرومی کا احساس اس معاشی عدم توازن میں توازن پیدا کرنے کی کوشش پہلی بار جنرل ایوب خاں کے دور حکومت میں شروع ہوئی۔ مگر مہاجر طبقہ کے پاس پیسہ تھا۔ چنانچہ مہاجر سرمایہ کے اوپر ایوب خاں کے خلاف شدید تحریک شروع ہوئی۔ ایوب خاں کی بعض ”کمزوریوں“ کو شوشہ بنا کر ان کے خلاف طوفان کھڑا کر دیا گیا۔ مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کی نظام اسلام تحریک جو ایوب خاں کے خلاف اٹھی، اس کی تہہ میں اصلًا مہاجر تحریک کا زور تھا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک مہاجر تحریک تھی نہ کہ فی الواقع کوئی اسلامی تحریک۔

اس کے بعد مسٹر بھٹو کے خلاف نظام مصطفیٰ کی تحریک بھی اصلًا مہاجر تحریک تھی۔ مسٹر بھٹو مقامی باشندوں (سندھیوں) کے نمائندہ تھے، اور اسلام پسند قیادت مہاجرین کی نمائندہ۔ مسٹر بھٹو کے لئے ” سوشلزم “ کا نعرہ مفید مطلب تھا، کیوں کہ وہ بڑے بڑے صنعتی اداروں کو نجی ملکیت سے نکالنے کا جواز فراہم کرتا تھا جن پر مہاجر طبقہ قابض تھا۔ اسی طرح دوسرے طبقہ کے لئے اسلام کا نعرہ مفید مطلب تھا۔ کیوں کہ وہ نجی ملکیت کو مقدس قرار دے کر ان کو ان کے مالکوں (مہاجرین) کے قبضہ میں باقی رکھنے کا جواز مہیا کرتا تھا۔ یہ اسلام کے نام پر سراسر غیر اسلامی سیاست تھی۔ ہے کہ اس کے ذریعہ سے منفی نتائج (ایوب اور بھٹو کا زوال) تو رونماہوئے۔ مگر اس کے ذریعہ کوئی تعمیری مقصد حاصل نہ کیا جاسکا۔

پاکستان میں اس وقت دو مہاجر تحریکیں چل رہی ہیں۔ ایک مہاجر قومی موومنٹ MQM اور دوسری مہاجر اتحاد تحریک۔ اول الذکر زیادہ بڑی سمجھی جاتی ہے۔ ۱۳ جون، ۱۹۸۷ کی شام کوسٹر

طارق جاوید (پیدائش ۱۹۵۵) سے ملاقات ہوئی۔ وہ مہاجر قومی موومنٹ کے وائس چیئرمین

میں نے ان سے پوچھا کہ ”آپ کی یہ تحریک قومی تحریک ہے یا اسلامی تحریک؟ “ انھوں نے ایک لمحہ کے توقف کے بغیر کہا "نیشنلسٹ تحریک! ہم لوگوں کو اسلام کی بنیاد پر اکٹھا نہیں کر رہے ہیں، ہم صرف مسائل کی بنیاد پر لوگوں کو اکٹھا کر رہے ہیں۔ کسی نیشنلسٹ تحریک کے لئے زمین ضروری ہے اس لئے ہم نے پانچویں صوبہ (مہاجر صوبہ) کا نعرہ لگایا ہے“۔

مہاجر قومی موومنٹ میں مسٹر الطاف حسین کو ”قائد تحریک“ کی حیثیت حاصل ہے۔ الطاف حسین کراچی یونیورسٹی میں طالب علم تھے۔ انھیں فارمیسی (بی فارما) میں داخلہ نہیں ملا۔ الطاف حسین صاحب نے اس کو مہاجر کے ساتھ امتیاز قرار دیا۔ انھوں نے ۱۱ جون 1978 کو مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (APMSO) کی بنیاد ڈالی اور دھواں دھار تحریک شروع کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کی کوئی تنظیم نہیں۔ مہاجرین کا کوئی علیحدہ تشخص نہیں۔ ان کو ہر جگہ نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد یونیورسٹی میں مہاجرین کے خلاف فضا مزید خراب ہو گئی۔ الطاف حسین اور ان کے ساتھیوں پر ریوالور اور خنجر سے حملے کئے گئے یہاں تک کہ یہ حال ہو گیا کہ الطاف حسین صاحب کے لئے یونیورسٹی جانا نا ممکن ہو گیا۔ اب انھوں نے تعلیم چھوڑ دی اور ۱۷ مارچ ۱۹۸۴ء کو مہاجر قومی تحریک MQM کی بنیاد ڈالی۔

مسٹر طارق جاوید نے حالات بتاتے ہوئے کہا؛ ”پاکستان میں زندگی کے ہر شعبہ میں مہاجر کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے۔ کراچی کے اندر کوئی ویکنسی ہوتی ہے تو اس کا اشتہار اخبار میں اس طرح دیا جاتا ہے ”کراچی، حیدر آباد اور سکر کے لوگ درخواست دینے کی زحمت “ ان الفاظ کا مطلب صرف یہ ہونا ہے کہ مہاجر لوگ درخواست نہ دیں، کیوں کہ ان تینوں شہروں کی زیادہ آبادی مہاجرین پر مشتمل ہے۔ ہر قسم کے ذمہ دارانہ منصب پر پنجابی مسلمان بیٹھے وہ پنجابی کے سوا کسی اور کو لینا نہیں چاہتے۔ کراچی پولیس کی بھرتی ہوتی ہے تو اس کا اشتہار کراچی کے اخبار میں نہیں دیا جاتا بلکہ لاہور کے اخبار میں دیا جاتا ہے تاکہ مہاجرین اس میں درخواست نہ دے سکیں ۔ پاکستان ایئرلائنز میں سب پنجابی بھرے ہوئے ہیں۔

ہے پی آئی اے پنجاب انٹرنیشنل ایئر لائنز ہے نہ کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنر ۔ اگر ٹریفک رول کی خلاف ورزی کرے تو اس کی چالان نہیں ہوگی ۔ اور اگر کوئی مہاجر ٹریفک رول کی غلطی کر جائے تو فوراً اس کی چالان ہو جاتی ہے ۔ اس وقت پاکستان میں ہماراے لئے بقا کا مسئلہ 14دسمبر ۱۹۸۶ کو ” علی گڑھ کالونی “ اور ” "قصبہ کالونی “ میں ۶ گھنٹہ تک قتل عام ہوتا رہا۔ بچوں کو زندہ آگ میں ڈال دیا گیا ۔ قریب ہی پولیس چوکی تھی ۔ چند کلومیٹر کے فاصلہ پر فوج مگر پولیس یا فوج نے کوئی مداخلت نہیں کی۔ یہ باقاعدہ پلاننگ سے ہوا ہے ۔ والے شہری لباس میں آئے اور انھوں نے منظم طریقہ پر مہاجرین کو مار اور جلایا۔ مسٹر طارق انور یہ باتیں کہہ رہے تھے اور میں سوچ رہا تھا کہ یہ پاکستان کا مسلم لیڈر بول رہا ہے یا ہندوستان کا کوئی مسلم لیڈر ۔

میں نے جناب فضل الرحمن صاحب سے پوچھا کہ مہاجرین کا مسئلہ ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہ پیدا ہوا ۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ ہندوستان میں یہ مسئلہ جلد ہی ختم ہو گیا ۔ چنانچہ آج وہاں ” وہاں"شر نار تھی “ نام کے کسی علیحدہ فرقہ کا وجود نہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں یہ مسئلہ آج بھی بلکہ وہ مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ حتی کہ یہاں کے مہاجرین اب اپنے لئے ایک نئی قومیت ( مہاجر قوم ) کو منوانا چاہتے ہیں اور ایک نیا صوبہ (مہاجر صوبہ) بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

فضل الرحمن صاحب نے کہا کہ ہندوستان کے شرر نار تھی محض پناہ لینے کے لئے ہندوستان میں داخل ہوئے تھے۔ وہ اپنے آپ کو صرف پناہ گزیں سمجھتے تھے ۔ اس کے برعکس شمالی ہند کے مسلمان مہاجر یہاں آئے تو اس احساس کے ساتھ آئے کہ ہم پاکستان کے خالق ہیں۔ ہیرو اور فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے۔

اسی فرق کا یہ نتیجہ تھا کہ ہندوستان کے شرر نار تھیوں میں برتری کا کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوا انھوں نے ہر اعتبار سے اپنے آپ کو نئے ماحول کے ساتھ ہم آہنگ کر لیا ۔ اس کے برعکس یہاں کے مسلم مہاجرین میں مقامی آبادی کے مقابلہ میں برتری کا احساس پایا جاتا تھا۔ جس کا اظہار بار بار مختلف شکلوں میں ہوتا رہا۔ اس کا رد عمل یہ ہوا کہ یہاں کے مقامی باشندوں میں فرزندان

وطن (Sons of the soil) کا نظریہ پیدا ہوا۔ مہاجر کے لئے فخر کی بنیاد تخلیق پاکستان تھی تو مقامی باشندوں نے علاقہ کا قدیم باشندہ ہونے کو فخر کا عنوان بنا لیا۔ اس طرح مہاجر اور غیر مہاجر کی کشمکش بڑھتی چلی گئی۔

پاکستان کے مہاجرین کا مسئلہ دراصل اردو بولنے والے مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کا مسئلہ بھی بنیادی طور پر اردو بولنے والے مسلمانوں کا مسئلہ ہے۔ صرف زبان کا نہیں، بلکہ نفسیات کا بھی ہے۔ دونوں جگہ کا " اردو طبقہ " ایک ہی قسم کی نفسیات میں فرق یہ ہے کہ پاکستان کے اردو طبقہ کی نفسیات کا اظہار پاکستانی حالات کے اعتبار سے ہوتا ہے اور ہندوستان کے اردو طبقہ کی نفسیات کا اظہار ہندوستانی حالات کے اعتبار سے۔ پاکستان کے مہاجرین کا مسئلہ اس لئے پیدا ہوا کہ وہ وہاں کے مقامی باشندوں کے مقابلہ میں احساس برتری کا شکار تھے۔ یہی چیز ہندوستان میں بھی مسلم مسئلہ کو پیدا کرنے کا سبب بنی ہے۔ ہندوستان کے جتنے مسلم لیڈر ہیں، خواہ وہ ایک مکتب خیال سے تعلق رکھتے ہوں یا دوسرے مکتب خیال سے، وہ سب کے سب اس بات میں مشترک ہیں کہ وہ مسلمانوں کے اندر فخر کی نفسیات پیدا کرتے رہے ہیں۔ ہم نے اس ملک کے لوگوں پر ایک ہزار سال تک حکومت کی ہے۔

ہم نے اس ملک کے لوگوں کو تہذیب سکھائی ہے۔ ہم نے اس ملک کو تاج محل کا حسن اور قطب مینار کی بلندی عطا کی۔ اس ملک کے پاس آزادی کے بعد اپنا جھنڈا لہرانے کی بھی کوئی جگہ نہ تھی، ہم نے اس کو لال قلعہ دیا۔ . . . جو لوگ بھی مسلم خطیبوں اور مسلم لیڈروں کی تقریریں سنتے رہے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہمارے تمام قائدین ایک یا دوسرے انداز میں اسی قسم کی باتیں کرتے رہے ہیں۔ ان باتوں نے مسلمانوں کے اندر اسی طرح برتری کا احساس پیدا کیا جس طرح پاکستان کے مہاجرین میں وہاں کے مقامی باشندوں کے مقابلہ میں برتری کا احساس پیدا ہوا۔ یہی احساس برتری ہے جس نے دونوں ملکوں کے مسلمانوں (اردو داں مسلمانوں) کے لئے مسائل پیدا کئے ہیں۔ پاکستان میں اس کا اظہار مسلمانوں اور مسلمانوں کے درمیان ہورہا ہے اور ہندوستان میں اس کا اظہار ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہوا ہے۔ ان مسائل کا کوئی بھی حل اس کے سوا نہیں کہ دونوں ملکوں کے مسلمان اپنا یہ مزاج ختم کریں۔ اور حقیقت پسند بن کر رہنا

اگر وہ حقیقت پسندی پر راضی نہیں ہوتے تو دونوں کے لئے بربادی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔

" پاکستان بنا کر ہمارے بزرگوں نے ایسی غلطی کی ہے جس کی سزا ہم اب تک بھگت رہے ہیں" چودھری منیر جاوید (ریڈ اسٹش (۲۳ ۱۹) نے کہا۔ انھوں نے مہاجرین کے خلاف ان " مظالم" کی تفصیل بیان کی جو علی گڑھ کالونی اور قصبہ کالونی میں ان کے ساتھ کئے گئے ۔ میں نے پوچھا کہ یہ معاملہ شروع کہاں سے ہوا۔ انھوں نے بتایا کہ اکتوبر ۱۹۸۶ میں حیدر آباد (سندھ) میں مہاجر قومی موومنٹ کا جلسہ تھا۔ اس موقع پر کراچی سے ۲۵ ہزار آدمی گئے ۔ کراچی سے جانے والی بسوں کا خرچ ۴۰ لاکھ تھا۔

مہاجرین کا یہ قافلہ جب سہراب گوٹ (پٹھانوں کی بستی) کے پاس پہنچا تو انھوں نے پٹھانوں کے خلاف نعرے لگائے ۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان فائرنگ ہوئی۔ پولیس کے بیان کے مطابق پہلے مہاجر کی طرف سے فائر کیا گیا۔ اس کے بعد پٹھانوں نے جواب میں گولی چلائی۔ مہاجرین کا کہنا ہے کہ پہلے پٹھانوں کی طرف سے گولی آئی۔ اس کے بعد مہاجرین نے فائر کیا۔ اس موقع پر ایک پولیس افسر (ارتی حسین) کو بھی گولی لگی۔

یہ واقعہ ۳۱ اکتوبر ۱۹۸۶ کا ہے۔ اس وقت سے اب تک مہاجر اور پٹھان کے درمیان کشمکش جاری ہے ۔ دونوں طرف اشتعال ہے اور کوئی بھی چھوٹا سا واقعہ دونوں کو ایک دوسرے سے ٹکرا دیتا ہے ۔ باقاعدہ گولیاں چلتی ہیں۔ آتش زنی کی جاتی ہے۔ ایک صاحب نے بتایا کہ اب تک دونوں طرف سے تقریباً ڈیڑھ ہزار آدمی مارے جا چکے ہیں۔

میں نے یہاں کے ایک تعلیم یافتہ صاحب سے کہا کہ کیسی عجیب بات ہے کہ مسلمان اور مسلمان اس طرح آپس میں لڑ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو زندگی کی علامت ہے ۔ زندہ لوگ ہی آپس میں مردہ لوگ کیا لڑیں گے۔ میں نے کہا کہ اسی قسم کا واقعہ ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ہوتا ہے تو آپ اس کو ہندو بربریت کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں۔ جب یہی واقعہ پاکستان میں ہو تو اس کو مسلمانوں کی زندگی قرار دے رہے ہیں۔ کراچی میں کئی ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جو قدیم سندھی ہیں۔ ان سے تفصیلی گفت گو ہوئی۔

گل حسن تھیم (پیدائش ۱۹۲۹) جیکب آباد کے رہنے والے ہیں۔ ان سے میں نے سندھ کے ہندوؤں کے بارہ میں پوچھا۔ انھوں نے کہا کہ سندھ کے ہندو سندھ کے مسلمانوں سے زیادہ خوش حال ہیں“ ”ہماری بات گورنمنٹ میں کم سنی جاتی ہے اور ہندوؤں کی بات گورنمنٹ میں زیادہ سنی جاتی ہے! نے کہا ”یہاں کا ہندو ہماری چھاتی پر بیٹھا ہوا ہے اور ہم اس کو چوم رہے ہیں“ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندو لوگ مسلمانوں سے زیادہ باشعور ہیں۔ فساد کے بعد اس کے ردعمل میں مئی ، 1987 میں جیکب آباد وغیرہ میں مسلمانوں نے ہندوؤں کی دکانیں توڑیں، مندر جلائے ۔ مگر ہندوؤں نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ۔ اس فساد میں ہندوؤں کا تقریبًا پانچ کروڑ روپیہ کا نقصان ہوا۔ مگر جس وقت ان کی دکانوں میں آگ لگ رہی تھی وہ اپنے گھروں میں چلے گئے اور دروازہ بند کر کے بیٹھ گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خود مسلمانوں نے اور پولیس نے ان کی آگ بجھائی ۔ وہ بڑے سیانے لوگ ہیں۔

گل حسن تھیم نے کہا کہ ہماری سندھی زبان میں ایک مثل ہے اور یہاں کے ہندو پوری طرح اس پر عمل کرتے ہیں ۔ وہ مثل اس طرح ہے : جا سکتے حاجت نا ہیں ہتھیارن جی اتنے سمجھن کم وریا من جو رہیان ہتھیار کام نہ دیں وہاں بھاگ جانا ہی دانش مندی ہے، انھوں نے بتایا کہ اس ہوشیاری کا نتیجہ ہندوؤں کو یہ ملا ہے کہ جیکب آباد کی تجارت آج ہندوؤں کے ہاتھ میں ہے۔ گورنمنٹ نے زراعت کے لئے ” انٹرسٹ فری لون“ کی اسکیم چلائی تو اس کا بھی زیادہ فائدہ ہندوؤں کو ملا۔ انھوں نے بتایا کہ جیکب آباد میں تقریباً تمام رائس ملیں ہندوؤں کی ہیں۔ ہندو اس کام کو نہایت ہوشیاری کے ساتھ کرتے ہیں۔ مثلاً وہ برائے نام کسی مسلمان کو اپنی مل میں حصہ دار بنا لیں گے اور اس کے بعد اس کا نام ” اسماعیل رائس مل “ رکھ دیں گے ۔ ۱۴ جون ، ۱۹۸۷ کی دوپہر کو میں کراچی سے طرابلس پہنچا۔ یہاں میرا قیام الفندق الکبیر کے کمرہ نمبر ۳۰ میں تھا۔ ٹیلیوٹن پر اعلان کی وجہ سے فوراً ہی بہت سے لوگوں کو اطلاع ہو گئی۔ چنانچہ شہر کے کئی لوگ اسی دن ملنے کے لئے آگئے۔ تقریباً ایک درجن عرب نوجوان بھی جمع ہوگئے ۔ عرب نوجوانوں پر عام طور پر سید قطب کے انقلابی فکر کا غلبہ ہے۔ میں نے اسی کو گفتگو کا میں نے کہا کہ یہ اسلام کی سراسر غلط تفسیر ہے۔ اور اس تفسیر نے پوری نسل کو برباد

کر کے رکھ دیا ہے۔ ان لوگوں نے اسلام کو سیاسی ٹکراؤ کے ہم معنی بنا دیا۔ جہاں جہاں یہ اسلامی سیاسی فکر بنا لوگ اپنے حکمرانوں کے خلاف صف آراء ہو گئے۔ اس کے نتیجہ میں حکمرانوں نے انھیں کچلنے کی کوشش کی۔ اب انھوں نے یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ مسلم حکمران اسلام کے دشمن ہیں۔ واقعہ صرف یہ تھا کہ مسلم حکمران اپنے اقتدار کو چیلنج کرنے والوں کے دشمن تھے۔ یہ لوگ اگر غیر سیاسی انداز میں کام کرتے تو اپنے ملک کے مسلم حکمرانوں کو وہ اپنا معاون پاتے۔ مگر سیاسی انداز میں کام کرنے کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا اور مسلم ملکوں کے تمام بہترین امکانات برباد ہو کر رہ گئے۔ سیاسی قربانیوں سے عملاً قوم کو کچھ نہیں ملتا۔ البتہ سیاسی قربانی دینے والا بعد کی نسلوں کے لئے ہیرو بن جاتا ہے۔ اس انقلابی فکر کے موجودہ حاملین کا حال یہ ہے کہ وہ عملاً دوسروں کی طرح دنیا میں غرق ہو چکے ہیں۔ اب انھیں ”سید قطب “کی طرح قربانی نہیں دینا ہے، البتہ ”سید قطب “کو گلوریفائی کر کے سیاسی اور مادی فائدہ حاصل کرنا ہے۔

اس اسلامی کانفرنس میں مجموعی طور پر تقریباً چالیس آدمی شریک تھے۔ یہ سب کے سب اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان تھے اور دنیا کے مختلف حصوں سے آئے تھے۔ ان میں اکثریت اسلامی اداروں اور اسلامی تنظیموں کے ذمہ دار حضرات کی تھی۔ تین زبانیں اظہارِ خیال کا ذریعہ تھیں ۔ انگریزی اور فرانسیسی۔

میں مختلف ملکوں کی اسلامی کانفرنسوں میں شریک ہوا ہوں۔ میرا احساس ہے کہ ہر جگہ لوگوں کی تقریروں کا نمایاں پہلو “دشمنانِ اسلام “کے حملوں پر اپنے رد عمل کا اظہار کرنا ہوتا ہے۔ ضد الاسلام و المسلمین ، مُحَاوَلَاتُ الْأَعْدَاءِ ، بس اس قسم کے الفاظ ہر ایک کی زبان پر ہوتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اغیار کے خلاف غم وغصہ کا اظہار کرنے سے زیادہ ضروری کام یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کو اسلام کے سایہ رحمت میں لانے کی کوشش کریں۔ ان کا جواب یہ تھا : غیر مسلموں کو اسلام کی طرف لانا بھی ایک کام ہے ، مگر اس سے زیادہ اہم کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو موجودہ اجنبی حملوں سے بچایا جائے ۔ موجودہ مسلمانوں کے فکر پر دفاعی مسائل اتنے زیادہ غالب ہیں کہ وہ دعوتی باتوں کو سمجھ نہیں پاتے۔ یہی تمام مسلم ملکوں کا حال ہے۔

یہاں ایک صاحب سے ملاقات ہوتی جو افریقہ سے آئے تھے۔ ان کے یہاں الرساله انگریزی

انہوں نے بتایا کہ اس کو بہت سے لوگ نہایت دلچسپی کے ساتھ پڑھتے ہیں اور ہرماہ اس کے منتظر رہتے ہیں۔ ایک قاری کا تاثر انہوں نے ان الفاظ میں بتایا : قرأت الكثير من الكتب الاسلامية وكانت لدي استفسارات حول فما وجدت الاجوبة الابعد فترأ أنى لمجلة الرسالة الصادرة من نيودلهي باللغة الانجليزية شریف سالم حسین ، ص ب ۲۸ | مارسیت ، افریقہ ایک اور صاحب سلیمان عمرانی کیلیميلي سے ملاقات ہوئی ۔ وہ دار السلام (تنزانیہ ) سے انھوں نے کہا کہ ایک بار میں ایران گیا تھا۔ وہاں مجھے آپ کی کتاب الاسلام بینچدی اس کو میں تین بار پڑھ چکا ہوں ۔ اس کتاب پر عربی کی یہ مثل صادق آتی ہے : کل اللحم في جوف الفرا - اس کتاب میں اتنی زیادہ باتیں ہیں کہ آدمی ہر بار پڑھنے میں نئی بات پاتا ہے ( من يقرأ كتاب الاسلام يتحدى يستفيد في كل مرة شيئاً جديدا۔ فاذا اقرأ الانسان في المرة الاولى واستفاد شيئاً في المرة الثانية يستفيد شيئاً آخر ، وهكذا د واليك )

Printed page