Al-Risala · February 1988

Suleimab Amrani Kilemile

Al-Risala, February 1988, pp. 34–41

By Maulana Wahiduddin Khan

P.O. Box 45257, Dar-es-Salam, Tanzania, Africa محمد ارشد الفرحان (کویت ) نے ایک بحث میں مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ہم کو چاہئے کہ مسجدوں کو سیاست سے الگ رکھیں۔ عرب ممالک میں لوگوں نے مساجد کے اندر سیاسی تقریریں شروع کر دیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج تمام عرب ممالک میں مساجد نماز کی ادائیگی کے فوراً بعد بند کر دی جاتی ہیں۔ حالانکہ مساجد کو ثقافت اسلامی کا مرکز بننا تھا مگر ان کو سیاسی مرکز بنانے کی کوشش میں مسجد کی یہ دینی حیثیت ہم سے چھن گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم کو چاہئے کہ ہم بقیہ ملکوں میں ان مساجد کو سیاست سے دور رکھیں تاکہ ان کے ساتھ وہ پیش نہ آئے جو عالم عرب کی مساجد کے ساتھ پیش آچکا ہے (حتى لا يصيب لهذه المساجد ما اصاب في العالم

ویلیٹ انڈینیز کے ایک صاحب نے بتایا کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی تصویر ایک دہشت پسند انسان کی تصویر بن گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک بار میری ملاقات ایک عیسائی عالم سے ہوئی۔ اس نے ان کی داڑھی اور ٹوپی کو دیکھ کر سمجھا کہ یہ مسلمان ہیں۔ اس کے بعد دونوں کے درمیان جو گفتگو ہوئی اس کا ایک حصہ یہ تھا:

Are you a Muslim ? Then you are a terrorist. یہاں کے دوران قیام میں کئی بار عربوں کی مجالس کو خطاب کرنے کا موقع ملا۔ اسلام کے مختلف فکری پہلوؤں پر اظہار خیال کیا۔ ایک مجلس میں میں نے اس بات کی وضاحت کی کہ موجودہ زمانہ میں جہاد کا غلط مفہوم لے لیا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان غیر ضروری طور پر دوسروں سے اور خود اپنے حکمرانوں سے ٹکراؤ کر رہے ہیں، اور اس کی وجہ سے نہایت قیمتی وسائل اور مواقع برباد ہورہے ہیں۔

ایک مجلس میں میں نے صلح حدیبیہ کی حکمت کے بارہ میں تفصیل کے ساتھ اظہار خیال کیا۔ عربی اگرچہ ہندوستانی عربی تھی مگر وہ لوگ بے حد غور کے ساتھ سنتے رہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستانی ہونے کے باوجود آپ کی زبان ہم کو پسند ہے، کیوں کہ وہ مجرد اسلوب میں ہوتی ہے اور پوری طرح سمجھ میں آ جاتی ہے۔ صلح حدیبیہ کی حکمت بیان کرتے ہوئے میں نے کہا: بَعْدَمَا تَمَّ صلح الحديبية نزلت سورة الفتح وجاء فيها و يهديك صراطاً مستقيماً فكأنَّ هذا الصلح كان هادياً أبدياً بكيفية معاملة الاعداء كى نحقق النصر عليهم - ثمرا نظر كيف كان صلح الحديبية - كان على شُرُوطِ قريش - فهذا الصلح ما حصل الآ بعد ما رضى صلى الله عليه وسلم على شرط أعدائه بطرف واحد - و بتعبير آخر، رضى الرسول صلى الله عليه وسلم بالهزيمة فجاءه الفتح العظيم - فهذا هو سر النجاح في هذا العالم، وفي العصر الحاضر

للامل في هذا القرن۔

ان لوگوں نے مختلف قسم کے سوالات کئے جن کا جواب میں اپنی عربی میں دیتا رہا۔ مجلس میں ایک عرب نے سوال کیا کہ اسم اعظم کیا ہے۔ اس کے جواب میں میں نے کہا: ان الاسم الاعظم هو بمعنى النعت الاعظم او الحمد الاعظم . فهو صفة للمعرفة لا صفة للفظ ۔ ان الانسان حين يدرك ربه بعظمته وجلاله فتخرج من اعماق روحه كلمات فيها انوار لعظمة الله تعالى، فذالك هو الاسم الاعظم ۔ فليس هناك لفظ واحد بعينه الذى هو اسم اعظم بصفة مطلقة بل لكل واحد منا لفظ و لكل واحد منا اسم اعظم۔ الاعظم هو اسم معنوى لا اسم لفظی ۔

ایک عرب عالم نے "عبادت" کی سیاسی تشریح کی ۔ انھوں نے کہا کہ عبادت کا مطلب تذلل اور خضوع نہیں بلکہ اس کا مطلب خلافت ارضی کے لئے انسان کو تیار کرنا ہے (تهيئة الانسان و إعداده للخلافة فى الارض) اپنے اس نقطہ نظر کے حق میں انھوں نے لغویات سے استدلال میں نے کہا:

العلم باللغة العربية وحدها لا يكفي۔ واوضح مثال على ذَالِك انه يروى ان عتبة بن ربيعة اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم وسأله عن دينه۔ عليه الرسول جزءاً من القرآن ۔ فلما رجع الى قومه اخبرهم انه جاء من محمد وسمعه يقرأ القرآن ولكن ما فهمت شيئاً مما قاله غير انه انذركم صاعقة مثل صاعقة عاد و ثمود - قالوا ويلك يكلمك الرجل بالعربية لا تدرى ما قال ۔ قال لا والله ما فهمت شيئاً مما قال غير نكر الصاعقة ۔ ان ذا اللسان لم يفهم ما القى اليك من حديث وكان باللغة

فالعقلية اللغوية وحدها لا تكفی۔

اسی طرح کچھ عرب نوجوانوں کے سامنے میں نے حضرت عمرؓ کے ایک قول کی تشریح کی جس سے انھوں نے پوری طرح اتفاق کیا۔ وہ قول یہ ہے: ليس العاقل الذي يعرف الخير من الشر، و لكنه الذی يعرف خير الشرین (عقل مند وہ نہیں ہے جو خیر اور شر کو جانے، عقلمند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے خیر کون سا ہے)۔

میں نے کہا کہ زندگی میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انتخاب (Choice) خیر اور شر کے درمیان نہیں ہوتا بلکہ ایک شر اور دوسرے شر کے درمیان ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کو ایک کم تر شر پر راضی ہونا پڑتا ہے تاکہ وہ اس کو اختیار کرکے خیر کامل تک پہنچ سکے۔ اس کی ایک مثال حدیبیہ کا واقعہ ہے۔ حدیبیہ کے موقع پر جو انتخاب تھا وہ عمرہ ادا کرنے اور عمرہ ادا نہ کرنے کے درمیان نہیں تھا، بلکہ عمرہ ادا نہ کرنے اور لڑ کر ہلاک ہو جانے کے درمیان تھا۔ آپ نے اس کو اہون سمجھا کہ وقتی طور پر عمرہ کی ادائیگی پر اصرار نہ کیا جائے تاکہ آئندہ ہمیشہ کے لئے عمرہ اور حج کی ادائیگی کا دروازہ کھل سکے۔

الاخوان المسلمون کے لئے مصر میں اور جماعت اسلامی کے لئے پاکستان میں اسی قسم کے حالات انھیں ابتداء کم تر شر پر راضی ہونا تھاتا کہ آخر کار وہ خیر برتر تک پہنچ سکیں۔ مگر وہ اس راز کو سمجھ نہ سکے۔ اگر وہ اس پیغمبرانہ نہج پر کام کرتے تو یقیناً آج مصر اور پاکستان کی تاریخ دوسری

ایک مرتبہ میں نے اندازہ کرنا چاہا کہ عرب نوجوان اس فکر کو کتنا سمجھے ہیں۔ چنانچہ میں نے عرب نوجوانوں کی ایک جماعت سے سوال کیا:

هل منكم من يفسر هذا القول : الذى سيجرى على الكافر فى الآخرة يجرى على المؤمن فى هذه الدنيا (کیا آپ میں سے کوئی ہے جو میرے اس قول کی تشریح کرے، جو کچھ کافر پر آخرت میں گزرے گا وہ مومن پر اسی دنیا میں گزر جاتا ہے) مجھے یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ انھوں نے سوال کی گہرائی کو پوری طرح سمجھ لیا اور بالکل درست طور پر اس کا جواب دیا۔

یہاں عرب نوجوانوں کی کافی بڑی تعداد ہے جو اسلامی مرکز سے بخوبی واقف ہے اور اس دینی فکر سے بہت قریب ہے جو اسلامی مرکز کے تحت سامنے لایا جا رہا ہے۔ چند سفروں میں وہ لوگ مجھ سے زبانی طور پر اس مشن کے بارہ میں سنتے رہے ہیں۔ اور اب خدا کے فضل سے وہ اس مشن سے بہت قریب آچکے ہیں۔

ایک عرب نوجوان جو انجینئر ہیں، انھوں نے تاثرات بیان کرتے ہوئے اپنے اور اپنے ساتھیوں کے بارہ میں یہ الفاظ کہے:

إننا نشعر إننا كنا في ظلام ، لا نعرف أين نسير ـ وعندما عرفنا الفكرة وعرفنا صاحب هذه الفكرة شعرنا كأننا خرجنا الى النور والهداية وكأننا ولدنا من جديد ـ هذا واحد في المأة من الشعور الحقيقى الاصلي ، لاننا لا نعرف كيف نعبر عن هذه الحقيقه التي نجدها في

۱۶ جون ۱۹۸۶ء کی صبح کو عرب طلبہ کی ایک جماعت میرے کمرے میں آگئی۔ ان سے مختلف اسلامی موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ اس گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ سنت میں ہر قسم کی رہنمائی مگر نقص مطالعہ کی وجہ سے ہم سنت سے رہنمائی حاصل نہیں کر پاتے۔ میں نے کہا کہ مثال کے طور پر ایک حدیث ہے۔ امرت بقريـة تأكل القـرى يقولون يثرب وهى المدینة مجھے ایک بستی کا حکم دیا گیا ہے جو تمام بستیوں کو کھا جائے لوگ اس کو یثرب کہتے ہیں اور وہ مدینہ ہے) آپ حدیث کی کتابیں پڑھیں تو یہ حدیث آپ کو ”فضائل مدینہ “ کے باب کے تحت لکھی ہوئی ملے گی۔ چنانچہ پڑھنے والا جب اس کو پڑھتا ہے تو وہ اس کو مدینہ نامی ایک بستی کی فضیلت کے خانہ میں ڈال کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ حالانکہ گہرائی کے ساتھ غور کیجئے تو اس حدیث میں دعوت اسلامی کا منہاج بتایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ "مکہ" میں اگر کام کے مواقع نہ مل رہے ہوں تو "مدینہ" کو اپنے کام کا مرکز بناؤ۔ کیوں کہ مدینہ کے راستہ سے تم مکہ تک بلکہ تمام بستیوں تک پہنچ سکتے ہو۔

اس سلسلہ میں میں نے سید جمال الدین افغانی کی مثال دی۔ جس زمانہ میں وہ پیرس میں

تھے اور العروۃ الوثقی کے نام سے ایک سیاسی اور احتجاجی پرچہ نکال رہے تھے، انھوں نے اپنے شاگرد مفتی محمد عبدہ سے کہا کہ یورپ کے مقابلہ میں امریکہ میں اسلامی دعوت کی کامیابی کے بہت زیادہ مواقع ہیں۔ یورپ چونکہ صلیبی لڑائیوں میں براہ راست شریک تھا، اس کے یہاں اسلام اور مسلمانوں سے نفرت پائی جاتی ہے۔ مگر امریکی قوم اس قسم کی نفسیات سے خالی ہے۔ اس لئے امریکہ میں اگر تبلیغ کا کام کیا جائے تو ان کے اندر تیزی سے اسلام پھیلے گا۔ شیخ محمد عبدہ نے کہا کہ پھر کیوں نہ ہم موجودہ سیاسی کام چھوڑ دیں اور امریکہ جا کر دینی تبلیغ کا کام کریں۔ مگر جمال الدین افغانی کو یہ کام چھوٹا کام نظر آیا۔ انھوں نے کہا: انما انت مثبت۔

جمال الدین افغانی کے لئے امریکہ گویا "مدینہ" تھا۔ وہ امریکیوں میں دعوتی کام کر کے بالآخر غیر امریکیوں کو بھی اپنے دائرۂ اثر میں لاسکتے تھے۔ مگر انھوں نے اس راز کو نہیں سمجھا۔ نتیجہ یہ ا کہ انھوں نے امریکیوں کو بھی کھویا اور غیر امریکیوں کو بھی۔

اپنے ذوق کے اعتبار سے سفر میرے لئے نہایت وحشت خیز ہوتا ہے۔ میں صرف اس لئے سفر کرتا ہوں کہ سفر کے دوران جو تجربات ہوتے ہیں ان کا حصول کسی اور طریقہ سے ممکن نہیں۔ ہوٹل کے کمرہ میں میں اپنے تجربات کو اپنی یادوں کی دنیا میں سمیٹ رہا تھا اس وقت میرے ذہن میں یہ سوال آیا کہ اگر کوئی شخص مجھ سے پوچھے کہ تمہارے اس سفر کے تجربات کا آخری خلاصہ کیا ہے تو میں کیا کہوں گا۔ یہ سوچتے ہوئے یہ فقرہ میری زبان پر آگیا ۔ ______ کامل انسان وہ ہے جو اپنے کو غیر کامل سمجھے، جو بڑا ہونے کے باوجود اپنے آپ کو چھوٹا بنا لے۔ اور یہ حقیقت نہ ہو کہ اظہار خاکساری کے طور پر۔

واپسی روم کے راستہ سے ہوئی۔ الہیتالیا کے جہاز کے ذریعہ ۲۰ جون کی سہ پہر کو روم یہاں ہوائی اڈہ کے پنجر سروس پر میں نے اپنا ٹکٹ دکھایا اور معلوم کیا کہ ایئر انڈیا کا بورڈنگ پاس لینے کے لئے مجھے کہاں جانا چاہئے۔ کاؤنٹر پر بیٹھے ہوئے اطالوی آدمی نے کمپیوٹر پر انگلیاں ماریں اور کہا کہ "گیٹ نمبر 14 "۔ وسیع ہوائی اڈہ کے مختلف حصوں سے گزرتا ہوا میں گیٹ نمبر ۲۱ پر پہنچا تو وہاں کاؤنٹر پر ایک خاتون بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کو میں نے اپنا ٹکٹ دیا۔ اس نے دوبارہ کمپیوٹر پر اپنی انگلیاں ماریں اور اس کے نقوش کو دیکھ کر بتا دیا کہ آپ گیٹ نمبر ۲۱ پر جائیں۔

اب دوبارہ مجھے اس سرے سے اُس سرے کا سفر کرنا پڑا۔

خاتون کی اطلاع درست تھی ۔ اس نے M1 کو S1 پڑھا۔ جب کہ مرد نے M3 کو M1 پڑھ لیا۔ اس دنیا میں وہی رہنما سچا رہنما ہے جو S1 کو M1 پڑھے جو رہنما M1 کو S1 پڑھ لے وہ لوگوں کو بھٹکانے کے سوا کوئی اور خدمت انجام نہیں دے سکتا۔

گیٹ S4 پر میں نے اپنا ٹکٹ دیا تو اس نے اکانومی کلاس کا بورڈنگ کارڈ دے دیا حالانکہ میرا ٹکٹ اوپر کے درجہ کا تھا۔ دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ اوپر کے درجہ میں آپ کا نام ویٹنگ لسٹ میں تھا، چونکہ اس میں سیٹ خالی نہیں ہے اس لئے اگر آپ اس جہاز سے سفر کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اکانومی کلاس میں جانا ہو گا۔ میں بورڈنگ پاس لے کر انتظار گاہ میں بیٹھ گیا اور یہ سوچکر مطمئن ہو گیا کہ دونوں درجہ کے مسافر ایک ہی وقت میں منزل پر پہنچیں گے، پھر اس کے لئے پریشان ہونے کی کیا ضرورت۔

انتظار گاہ میں میرے قریب ایک اور صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ گفتگو کے بعد معلوم ہوا کہ وہ ایک جرمن انجینئر ہیں اور ٹیکنکل تعاون کے تحت ہندوستان جا رہے ہیں: Gunter Gentzsch, Ingenieur DDR-6530 Hermsdorf, Thur. Telefon: 510 ان سے گفتگو ہونے لگی۔ میں نے پوچھا کہ آپ خدا کو مانتے ہیں۔ انہوں نے کہا نہیں۔ خدا و مذہب کو مانتے ہیں، مگر میں نہیں مانتا۔ میں نے پوچھا پھر آپ کس چیز پر عقیدہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا عوام (People) پر۔ انہوں نے کہا کہ اصل اہمیت کی چیز انسانیت ہے نہ کہ مذہب۔ اس طرح کی گفتگو دیر تک ہوتی رہی۔

اتفاق سے ان کا کیس بھی وہی تھا جو میرا تھا۔ یعنی ان کا ٹکٹ بھی اوپر کے درجہ کا تھا مگر ریزرویشن کے وقت ان کا نام ویٹنگ لسٹ میں تھا۔ چنانچہ سیٹ نہ ہونے کی بنا پر ان کو اکانومی کلاس کا بورڈنگ پاس دیا گیا تھا۔ ہم لوگ انتظار میں بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں ایئر انڈیا کا اطالوی نمائندہ آیا۔ اس نے کہا کہ اوپر کے درجہ میں صرف ایک سیٹ ہے ۔ اب آپ دونوں فیصلہ کر لیں۔ میں نے کہا کہ آپ (جرمن انجینئر) ہمارے ملک میں

بطور مہمان جا رہے ہیں اس لئے ان کا حق مقدم ہے۔ مگر میرے اصرار کے باوجود وہ سیٹ لینے پر راضی نہ ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ میں ایک "ینگ" آدمی ہوں اور آپ " اولڈ" آدمی ہیں اس لئے آپ کا حق پہلے ہے۔ آخر کار انھوں نے میرا بورڈنگ پاس بدلوا کر اس کو اوپر کے درجہ کے لئے کرا دیا ۔

۲۱ جون ۱۹۸۷ء کی صبح کو میں واپس دہلی پہنچا۔

by Maulana Wahiduddin Khan This English edition of Mazhab Aur Jadeed Challenge, is an updated version, incorporating considerable additional material. It has also been translated into a number of other languages, including Arabic, French, Turkish, Malay, Serbo-Croatian (Yugoslavian), Sindhi, Tamil, etc., and has come to be accepted as standard work on the Islamic position vis-a-vis modern thought. الرسالہ اور اسلامی مرکز کی کتابوں کے لیے حیدر آباد میں بک اسٹال زیر اهتمام : الرسالہ اکیڈمی ، حیدر آباد اسٹال نمبر۱، ۲، ۳، ۴- نمائش میدان، قرب رمنی ریلوے اسٹیشن، حیدرآباد

Printed page