Al-Risala · February 1988

Muslims and the Science Education

Al-Risala, February 1988, pp. 44–47

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلامی مرکز اور ایک عالمی عیسائی ادارہ کے تعاون کے تحت مسٹر عرفان انیس نے یورپ ہم الـرسالہ فروری ۱۹۸۸

کے مختلف ملکوں کا سفر کیا۔ اولاً انھوں نے پرتگال (لزبن) میں ہونے والی آل مذاہب کانفرنس میں شرکت کی ۔ اس میں تمام مذاہب کے نوجوان لوگ شریک ہوئے تھے۔ مسٹر عرفان انیس اپنے ساتھ الرساله انگریزی اور اسلامی مرکز کی انگریزی کتابیں لے گئے ان کو انھوں نے وہاں کے شر کاء کو دیا۔ کانفرنس کے پروجیکٹ ڈائریکٹر مسٹر گوری ینگ (Gary Young) اور سر پرست جارج ایمری (George Emery) کو بھی الرساله انگریزی کی کاپیاں دیں۔ نائجیریا کی ایک مسلم خاتون (فوزیہ کرومی) جو خود بھی ایک انگریزی رسالہ کی ایڈیٹر ہیں۔ انھوں نے الرسالہ کو پسند کرتے ہوئے اس کے مضامین کو اپنے رسالہ میں نقل کرنے کی اجازت حاصل کی۔ جاپانی نومسلم یوسف فوکوئی کو بھی کتابیں مسٹر انیس کانفرنس کے بعد میڈرڈ، لندن، پیرس، ہیم برگ (جرمنی) وغیرہ گئے۔ ہر جگہ انھوں نے مختلف لوگوں سے ملاقاتیں کرکے اسلامی مرکز کا تعارف کرایا اور انگریزی کتابیں اور الرسالہ (انگریزی) انھیں دیا۔

عربی زبان میں اسلامی مرکز کی تقریباً ۲۰ کتابوں کے ترجمے شائع ہو چکے ہیں۔ عام طور پر اپنی تقریروں اور تحریروں میں ان کا ذکر کرتے ہیں اور ان کے جدید اسلوب کی بنا پر عرب نوجوانوں کو ان کے مطالعہ کا مشورہ دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر مشہور عرب عالم دکتور یوسف القرضاوی نے اپنی عربی کتاب ثقافة الداعية میں چار عنوانات کے تحت کچھ قابل مطالعہ منتخب کتابوں کی فہرست دی ہے ۔ اس میں انھوں نے پہلے عنوان (في مجال العقيدة والاسس الفكرية) کے تحت صدر اسلامی مرکز کی کتاب الاسلام یتحدیٰ کو بھی پڑھنے کا مشورہ دیا ہے (صفحہ ۹۹)

کویت کے ہفتہ وار عربی جریدہ البلاغ (۱۵ ربیع الآخر ۱۴۰۸ھ مطابق ۶ دسمبر ۱۹۸۷) نے صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو اس عنوان کے ساتھ شائع کیا ہے: لقاء مع المفکر الاسلامی وحید الدین خان - انٹرویو لینے والے ایک فلسطینی عالم ہیں جن کا نام محمد یاسر القضانی ہے۔

برابر اطلاعات مل رہی ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قارئین الرسالہ میں ایک رجحان

یہ پیدا ہوا ہے کہ مرکز کی مطبوعات لوگوں کو تحفہ میں دیں۔ مثلاً دہلی کے ایک صاحب نے حال میں اپنی لڑکی کی شادی کی تو لڑکی کو تحفہ میں "خاتونِ اسلام" دی اور داماد کو تحفہ میں "پرافٹ آف ریوولیوشن" عطا کیا۔

الرساله خدا کے فضل سے حیرت انگیز طور پر لوگوں کے درمیان نفوذ کر رہا ہے۔ مثالیں روزانہ مختلف صورتوں میں سامنے آتی رہتی ہیں۔ ایک خاتون لکھتی ہیں : آپ کا الرساله بغور پڑھتی ہوں ، بار بار پڑھتی ہوں۔ پھر بھی دل کی تشنگی باقی رہتی ہے۔ میں رسالہ دوسروں سے مانگ کر پڑھ رہی تھی۔ اب میں چاہتی ہوں کہ جو رسالہ میں بار بار پڑھنا چاہتی ہوں اور جس سے ہر بار ایک نیا نقطہ نظر میرے سامنے آتا ہے اور عقل حیران رہ جاتی ہے کہ آپ کے لکھنے کا انداز کیسا نرالا اور اچھوتا ہے۔ خدا آپ کی عمر دراز کرے مجھے الرساله کا ممبر بنا لیجئے ۔ میں یہ رسالہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں چاہتی ہوں اور اس کے لیے ڈرافٹ بھیج رہی ہوں (مسز خورشید عباس ، پونہ)

دلشاد گارڈن (دہلی ۳۲) میں ۲۶ دسمبر 1987 کو سیرۃ النبی کا ایک جلسہ ہوا۔ میں تعلیم یافتہ مسلمان اور ہندو شریک ہوئے۔ صدر اسلامی مرکز نے اس موقع پر ایک گھنٹہ تقریر کی۔ تقریر کا موضوع تھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی روشنی میں انسانی کامیابی کا راز۔ منتظمین نے اس موقع پر الرساله انگریزی اکتوبر 1987 صفحہ ۱۰ کے مضمون کی فوٹو کاپیاں تیار کر کے لوگوں کے درمیان تقسیم کیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ الرساله نے ہمارے کام کو بہت آسان کر دیا۔ کیوں کہ ہم ایک صفحہ کا کوئی با معنی انگریزی مضمون شائع کر کے تقسیم کرنا چاہتے تھے۔ ایسا مضمون ہم کو کہیں اور سے نہیں مل سکتا تھا۔ ہم کو انگریزی الرساله میں بآسانی مل گیا ۔

مالدیپ میں ۷۔ ۱۱ دسمبر 1987 کو ایک انٹرنیشنل اسلامک کانفرنس ہوئی۔ اسلامی مرکز نے کانفرنس کی دعوت پر اس میں شرکت کی۔ اس سفر کی مفصل رو داد انشاء اللہ الرساله میں شائع کر دی جائے گی ۔

الرسالہ کی یہ انوکھی صفت ہے کہ جو شخص اس کو ایک بار دیکھ لیتا ہے وہ اس کا گرویدہ

ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ الرسالہ کا مخالف بھی اس کو پڑھے بغیر نہیں رہتا۔ اس کی مثالیں مختلف صورتوں میں بار بار سامنے آتی رہتی ہیں۔ جناب عبدالحمید عمر بھائی اپنے خط (۲۵ نومبر ۱۹۸۷) میں لکھتے ہیں: بہت سے رسالے نکلتے ہیں اور ان کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے مگر اسلامی مرکز کا الرسالہ ابتک نظر سے نہیں گزرا تھا اور ہمارے بھاو نگر (گجرات) میں شاید کوئی اس کو جانتا بھی نہیں۔ حسن اتفاق سے احمد آباد کے ایک صاحب کے پاس الرسالہ دستیاب ہوگیا اور مطالعہ کیا اور اپنے مدرسہ کے صدر مدرس مولانا امانت اللہ قاسمی مطالعہ کے بعد ہم دونوں کو الرسالہ کی کشش نے بیتاب کر دیا اور الرسالہ منگوانے کا داعیہ پیدا ہوا۔ الرسالہ اور تذکیر القرآن کے لیے دومنی آرڈر روانہ ہے۔ ۱۴- ایک صاحب لکھتے ہیں: میرے اندر غصہ پن اور کسی بھی بات کو اپنے مزاج کے خلاف پانے کے بعد بالکل آپے سے باہر ہو جانے کا مزاج تھا۔ لیکن آپ کی کتابیں پڑھنے کے بعد میرے اندر زبردست تبدیلی آئی جس کو گھر والے اور احباب بھی محسوس کرتے ہیں۔ میرے والد جو تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں، آپ کی کتابوں کے بڑے مداح ہیں اور بڑے شوق سے پڑھتے ہیں۔ ابھی میں "اللہ اکبر" لے کر بیٹھا ہوں۔ یہ رہ رہ کر آپ کا تصور ذہن میں آ رہا تھا۔ کتاب کا ہر صفحہ پڑھنے کے بعد آپ کے لیے ایک دعا ضرور کرتا ہوں۔ طرح نمازوں کے بعد دعا میں بھی آپ کے لیے دعائے خیر ضرور کرتا ہوں۔ یہاں کچھ لوگوں سے میرا کبھی کبھی الجھاؤ ہو جاتا ہے ۔ اور موضوع بحث آپ کی تصانیف ہوا کرتی ہیں۔ تک وہ اپنی باتوں کو دلیل سے پیش کرتے ہیں میں بھی دلیل سے ان کی تردید کرتا ہوں ۔ مگر جب وہ بغیر دلیل بحث کرتے ہیں تو میں خاموش ہو جاتا ہوں، کیوں کہ آپ کی کتابوں میں میں نے یہی پڑھا ہے۔ بہر حال حقیقت اپنا لوہا منوا لیتی ہے ۔ اب وہ بھی نرم پڑر ہے نومبر کے شمارہ میں " آزمودہ حل " پڑھ کر کئی نے تو کھل کر تائید کی اور کہا کہ اب تو الرسالہ کے نظریات سے اتفاق کرنا پڑے گا (قاری مختار احمد علی - مالیگاؤں) ۱۵- تذکیر القرآن جلد دوم اور گارڈازائرز (انگریزی) چھپ کر دفتر میں آگئی ہیں۔ فرمائش بھیج کر منگا سکتے ہیں۔

Printed page