Al-Risala · March 1989

مشکل میں آسانی

Al-Risala, March 1989, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

روایتی طرز کے کوٹھو میں جب گنا ڈالا جاتا ہے تو اس میں دباؤ کم ہوتا ہے اور اس کے بیلین کے درمیان سے گنا صرف ایک بار گزارا جاتا ہے ۔ چنانچہ گنے کا رس تقریباً ۲۵ فی صد نکلے بغیر اس کے اندر رہ جاتا ہے۔ بجلی سے چلنے والے کرشر (Crusher) میں نسبتاً زیادہ دباؤ ہوتا ہے اور گنے کو بیلین کے درمیان سے دو بار گزارا جاتا ہے ۔ تاہم یہاں بھی تقریباً ۱۵ فی صد رس اس سے نکل نہیں پاتا ۔ بڑی بڑی ملوں میں بہت زیادہ دباؤ ہوتا ہے اور گنے کو چار بار مشینی بیلین کے درمیان سے گزارا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ گنے کا تقریباً تمام رس اس سے باہر آجاتا ہے۔

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ "دباؤ" کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ تعالیٰ نے اس دنیا میں جو چیزیں پیدا کی ہیں ، ان کے اندر تخلیقی طور پر بے حساب امکانات رکھ دیئے ہیں۔ مگر کسی چیز کے اندر چھپا ہوا امکان صرف اس وقت نکل کر باہر آتا ہے جب کہ اس چیز پر دباؤ پڑے۔ دباؤ جتنا زیادہ شدید ہوگا اتناہی زیادہ اس کے اندرونی امکانات باہر آئیں گے۔

یہی معاملہ انسان کا بھی ہے ۔ انسان کے اندر پیدائشی طور پر بے حساب امکانات موجود ہیں ۔ ہر انسان امکانات کا ایک لا محدود خزانہ ہے معمول کے حالات میں یہ امکانات انسان کے اندر چھپے ہوئے پڑے رہتے ہیں ۔ وہ صرف اس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب کہ انسان دباؤ کا شکار ہو ۔ جب اس کی شخصیت کو نچوڑنے والے عمل سے گزارا جائے ۔ میں جن لوگوں نے بھی کوئی بڑی ترقی کی ہے وہ وہی لوگ تھے جو اپنے ماحول میں دباؤ کے حالات سے دوچار ہوئے ۔ جنھوں نے ان مع العسر یسراً کے تخلیقی راز کو جانا ۔ جنھوں نے زندگی کے میدان میں اس حوصلہ کے ساتھ قدم رکھا کہ وہ عسر کی زمین سے یسر کی فصل اگائیں گے ۔ انسانی نگاہ مشکل کو مشکل کے روپ میں دیکھتی ہے ۔ ربانی نگاہ وہ ہے جو مشکل کو آسانی کے روپ میں دیکھنے لگے۔

Printed page