Al-Risala · March 1989

H.G. Wells, The Outline of History (1920).

Al-Risala, March 1989, pp. 17–18

By Maulana Wahiduddin Khan

پنڈت جواہر لال نہرو ۱۴ نومبر ۱۸۸۹ کو الہ آباد میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے انگلینڈ میں اعلیٰ تعلیم ہندوستان کی سیاست میں انھیں مہاتما گاندھی کے بعد سب سے اونچا مقام ملا۔ ہندوستان آزاد ہوا تو وہ ملک کے وزیراعظم بنائے گئے اور اپنی عمر کے آخری لمحہ تک وزیراعظم رہے۔ ملکی اور عالمی سیاست میں انھیں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔

اپنی عمر کے آخری حصہ میں وزیراعظم کی حیثیت سے انھوں نے ایک پریس کانفرنس کی ۔ پریس کانفرنس ۲۲ مئی ۱۹۶۴ کو نئی دہلی میں ہوئی۔ اس پر ہجوم پریس کانفرنس میں جو کارروائی ہوئی اس کا ایک جزو یہ تھا :

پریس کانفرنس کا آخری سوال، جیسا کہ خود نہرو نے کہا، سب سے اہم تھا۔ ٹیلی وژن انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں نہرو نے کہا تھا کہ وہ اپنی لڑکی (اندرا گاندھی) کو اپنے جانشین کی حیثیت سے تیار نہیں کر رہے ہیں ، ایک اخبار نویس نے پوچھا کہ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ وہ اس سوال کو اپنی زندگی ہی میں طے کردیں۔ اپنی کرسی پر ٹیک لگا کر، ایک مسکراتے ہوئے جواہر لال نہرو نے جواب دیا : میری زندگی اتنی جلد ختم ہونے والی نہیں۔ اس موقع پر ۳۰۰ سے زیادہ صحافی انھوں نے اپنی میز پر گھونسامارا اور بہت خوش ہوئے۔ جواہر لال اس پریس کانفرنس کے بعد اپنی آخری چھٹی منانے کے لیے دہرہ دون روانہ ہوگئے (صفحہ ۵۸۱)

اس واقعہ کے صرف پانچویں دن ۲۷ مئی ۱۹۶۴ کو نئی دہلی میں جواہر لال نہرو کا انتقال نہرو وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھ کر یہ کہہ رہے تھے کہ "میری زندگی جلد ختم ہونے والی نہیں"

مگر عین اسی وقت قضا و قدر کا یہ فیصلہ ہو رہا تھا کہ نہرو کی زندگی بہت جلد ختم ہونے والی ہے ۔ واقعات بتاتے ہیں کہ نہرو کے فیصلے پر قضا و قدر کا فیصلہ غالب آیا ۔

" میری زندگی جلد ختم ہونے والی نہیں " ________ یہی موجودہ دنیا میں ہر آدمی کی نفسیات ہر آدمی شعوری یا غیر شعوری طور پر اسی انداز میں سوچتا ہے ۔ ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ اس کے اور اس کی موت کے درمیان صرف " پانچ دن " کا فاصلہ ہے ۔ مگر ہر آدمی یہ سمجھتا ہے کہ میں ابھی جلد مرنے والا نہیں ہوں ۔ یہی سب سے بڑی وجہ ہے کہ آدمی جس حال میں ہے ، وہ اسی حال میں پڑا رہتا ہے ، وہ اپنی غلطی کی اصلاح نہیں کرتا ۔

ایک شخص غفلت اور سرکشی کی زندگی اختیار کیے ہوئے ہے ۔ اگر وہ جانے کہ پانچ دن سے زیادہ اس کی سرکشی چلنے والی نہیں تو وہ سرکشی کو بھول کر اطاعت شعار آدمی بن جائے ۔ ایک شخص جھوٹے الفاظ بول کر لوگوں کے درمیان لیڈری کر رہا ہے ۔ اگر وہ جانے کہ پانچ دن کے بعد اس کا سارا بھرم کھل جانے والا ہے تو اس کے الفاظ کا ذخیرہ ختم ہو جائے اور وہ لیڈری کو چھوڑ کر گوشہ نشین ہو جانے کو پسند کرے ۔ ایک شخص نے دوسرے کے مال پر قبضہ کر رکھا ہے ۔ اگر وہ جانے کی یہ مال اب میرے پاس صرف پانچ دن تک باقی رہنے والا ہے تو وہ مال اس کے سر پر پہاڑ جیسا بوجھ بن جائے اور وہ ایک لمحہ کا انتظار کیے بغیر اس کو اپنے سر سے اتار پھینکے ۔

ہر آدمی موت کے عین کنارے کھڑا ہوا ہے ، لیکن ہر آدمی یہ سمجھتا ہے کہ وہ موت سے بہت دور ہے ۔ یہی غلط فہمی سب سے بڑا فساد ہے ، اور اس غلط فہمی سے نکلنا سب سے بڑی اصلاح ۔

Printed page