Al-Risala · March 1989

عجیب تضاد

Al-Risala, March 1989, pp. 24–26

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹائمس آف انڈیا (سکشٹ ۲) کے شمارہ ۱۲ جنوری ۱۹۸۹ میں صفحہ اول پر ایک تصویر چھپی اس تصویر کو ہم عبرت کے لیے یہاں نقل کر رہے ہیں۔ اس تصویر میں جو آدمی ہاتھ باندھ کر اور ننگے پاؤں نیچے زمین پر کھڑا ہوا ہے ، وہ ہندوستان کی ریاست اتر پردیش کے موجودہ چیف منسٹر مسٹر این ڈی تیواری ہیں۔ اور اوپر جو دبلا اور بوڑھا آدمی اپنا ایک پاؤں ان کے سر پر رکھے ہوئے

ہے، وہ ایک ہندو مہاتما دیوراہا بابا ہیں ۔

یہ ورندابن (اتر پردیش) کا واقعہ ہے۔ بابا جی وہاں آبادی سے دور لکڑی کے ایک مچان پر رہتے ہیں ۔ اور اپنے عقیدت مندوں کو آشیرواد دینے کے لیے ان کے سر پر اپنا پاؤں رکھتے ہیں جس آدمی کے سر پر وہ اپنا پاؤں رکھ دیں وہ بہت خوش قسمت آدمی سمجھا جاتا ہے۔ یہ واقعہ علامتی طور پر موجودہ ہندوستان کی تصویر ہے۔ آزادی کے بعد ہندوستان کے لیڈروں نے یہ طے کیا کہ وہ ملک کو جدید اصولوں کے مطابق چلائیں گے ، وہ اس کو ماڈرن ورلڈ کا ایک حصہ بنائیں گے۔ کاغذی طور پر اگرچہ یہ اعلان کر دیا گیا ، مگر یہاں کے تقریباً تمام لیڈر اپنے فکر کے اعتبار سے قدیم تو ہماتی دور میں پڑے رہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ وہ بیک وقت دو سمتوں میں دوڑتے رہے۔ سائنس پسندی اور دوسری طرف تو ہم پرستی۔ دو عملی کی یہی صورت حال ہے جس سے متاثر ہو کر اقبال احمد سہیل نے کہا تھا :

آگے ہیں قدم پیچھے ہے نظر جاتا ہے کہاں جاتے ہیں کدھر منہ میں ہے یہاں خود سمت سفر نیرنگ زمانہ کیا کہئے جلد ہی ملکی آزادی پر پچاس سال پورے ہو جائیں گے مگر طویل مدت اور ہر قسم کے وسائل کے باوجود ہندوستان ابھی تک ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں کھڑا ہونے کے قابل نہ ہو سکا۔ غالباً سب سے بڑی وجہ یہی ہے ۔ ہندوستان کے لیڈر بیک وقت دو خرگوشوں کے پیچھے دوڑ رہے ہیں، نتیجہ یہ ہے کہ وہ ایک کو بھی پکڑ نہیں پاتے۔

شام کو تمام شرکاء کو کابل کے باہر ایک کھلے مقام پر لے جایا گیا۔ یہاں "شہدائے راہ انقلاب" کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ دور تک " اپریل انقلاب" میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی قبریں نظر آرہی یہاں مخصوص فوجی آداب کے ساتھ "شہدا" کو پھول (Wreath) چڑھایا گیا۔ میرے لئے یہ منظر نیا تھا۔ مجھے کسی شخص کا یہ قول یاد آیا کہ حکومت کے خلاف مسلح اقدام اگر کامیاب نہ ہو تو وہ بغاوت ہے، اگر کامیاب ہو جائے تو وہ انقلاب ہے۔

۲۲ اکتوبر کی صبح کو کانفرنس کا افتتاح ہوا۔ ڈاکٹر نجیب (رئیس جمہوریہ افغانستان) اور دوسرے اعلی حکومتی ذمہ دار اسٹیج پر موجود تھے۔ کارروائی کا آغاز ایک نابینا قاری کی تلاوت سے ہوا۔ سورۂ احزاب کا وہ حصہ پڑھا جس میں یہ آیت ہے: يخفون ولا يخشون الا اللہ۔ میں نے سوچا کہ اگر بالفرض آج کوئییی نئی کتاب اترے اس میں مذکورہ الفاظ ہوں اور ان کولے کر کوئ شخص ایک ایسے اجتماع میں ان کی تلاوت کرنے لگے جہاں وقت کے حکمراں لوگ بیٹھے ہوئے ہوں تو شائد اس کو نکال کر باہر کر دیا جائے گا۔ مگر قاری اس قسم کی آیت قرآن سے پڑھتا ہے تو کسی کے اندر کوئ جنبش نہیں ہوتی۔ کی وجہ غالباً یہ ہے کہ نیا پیغمبر اس کو زندہ پیغام کے طور پر پڑھے گا، اور نابینا قاری اس کو صرف ایک روایتی قرأت کے طور پر اس کا ترنم کر رہا ہے۔

۲۲ اکتوبر کی شام سے مقالات کا سلسلہ شروع ہوا جو ۲۳ اکتوبر کی شام تک جاری رہا۔ جو مقالہ پیش کیا، اس کا عنوان یہ تھا:

Printed page