Al-Risala · March 1989

The Prophet of Islam: Benefactor of Humanity

Al-Risala, March 1989, pp. 26–35

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ مقالہ انشاء اللہ انگریزی الرسالہ میں شائع کر دیا جائے گا۔

۲۲ اکتوبر کو یہاں کے ٹیلی وژن والوں نے انٹرویو لیا۔ اپنے مرکز کے تعارف کے بعد میں نے دو باتیں ایک یہ کہ میرے نزدیک اسلام کا مطلب ہے آخرت اور ریینٹڈ لائف ۔ دوسری بات میں نے وہی کہی جو الرسالہ میں بار بار آتی ہے۔ یعنی تصادم کو اوائڈ کرتے ہوئے ممکن دائرہ عمل میں اپنا کام کرنا۔ اس سلسلہ میں میں نے مزید کہا کہ یہ باتیں میں خاص طور پر افغانستان کے پس منظر میں نہیں کہہ رہا ہوں۔ میرا مستقل پیغام ہے جس کی میں پچھلے ۳۰ سال سے برابر تبلیغ کر رہا ہوں۔

یہ اللہ کا فضل ہے کہ میں غالباً ہندوستان کا اکیلا شخص ہوں جو ملک کے اندر اور ملک کے باہر ہر جگہ ایک

ہی بات کہتا ہے۔ ورنہ میری معلومات کے مطابق، ہندوستان کے تمام علما اور قائدین اس معاملہ میں ذو الوجہین ہو رہے ہیں۔ وہ ہندوستان میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر تعاون اور ایجی ٹیشن کی بات کرتے ہیں، اور، جیسے ہی وہ کسی مسلم ملک کے ہوائی اڈہ پر اترتے ہیں ان کی زبان بالکل بدل جاتی ہے۔ باہر کے مسلم ملکوں میں جو بات کہتے ہیں، وہی میں دونوں جگہ کہتا ہوں۔ البتہ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ باہر کے مسلم ملکوں کے لئے ان کا ٹیپ دوسرا ہے اور ہندوستان کے لئے دوسرا۔

کابل سے ایک فارسی روزنامہ ہیواد نکلتا ہے۔ اس نے اپنے شمارہ ۲۳ اکتوبر ۱۹۸۸ میں میرا انٹرویو اس کے علاوہ ایک فلسطینی جو اسپین میں رہتے ہیں اور اسپینی زبان بخوبی جانتے ہیں، انھوں نے بھی ہندوستانی مسلمانوں کے بارہ میں انٹرویو لیا۔ اس کو وہ اسپین کے بعض اخبارات میں شائع کریں گے۔ ریڈیو میں کام کرتے ہیں اور بعض اسپینی اخبارات کے نامہ نگار ہیں۔ ان کا نام سعید علی ہے اور وہ میڈرڈ میں

سعید علی صاحب نے اسپین میں اسلام کا حال بتاتے ہوئے کہا کہ وہاں اسلام کی تبلیغ کے مواقع کیوں کہ موجودہ نظام کے تحت وہاں ہر مذہب کو آزادی حاصل ہے۔ مگر اصل مشکل یہ ہے کہ اسپینی زبان میں اسلامی لٹریچر موجود نہیں۔ انھوں نے بتایا کہ قرآن کا اسپینی ترجمہ کسی مسلمان کے ہاتھ کا کیا ہوا البتہ ایک ترجمہ ہے اور وہ اسپین کے مسیحی کا کیا ہوا ہے:

لا یوجد فی اسبانیا قرآن مترجم الى الاسبانية على يد مسلمين۔ لكن يوجد مترجم على يد مسیحی اسبان۔

ایک صاحب نے پیغمبر اسلام کی عظمت پر مقالہ پیش کیا۔ آپ کے ذریعہ دنیا میں اصلاح اور انقلاب کا جو دور آیا، اس کے متعلق انھوں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ تمام نبیوں سے افضل تھے۔ دین دوسرے تمام دینوں کے مقابلہ میں مکمل تھا۔ میں نے ان کے مقالہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات بطور واقعہ درست ہے کہ پیغمبر اسلام کے ذریعہ دنیا میں عظیم ترین اصلاحی انقلاب آیا۔ کی وجہ افضلیت اور اکملیت نہ تھی جس کو آپ نے بیان فرمایا ہے۔ یہ نتیجہ توحید تھا نہ کہ نتیجہ اکملیت۔ اصل یہ ہے کہ یہ تمام ترقیاں "توحید" کا نتیجہ ہیں۔ توحید ہی ہر قسم کی اصلاح و ترقی کا اصل پچھلے دور میں جو انبیاء آئے ان کا دین بھی توحید کا دین تھا۔ انھوں نے بھی اسی توحید کی

دعوت دی جس کی دعوت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دی۔ مگر دونوں میں جو فرق ہے وہ یہ کہ پچھلے پیغمبروں کے زمانہ میں توحید کی دعوت صرف فکری اور نظریاتی مرحلہ میں رہی، وہ عملی انقلاب کے مرحلہ تک نہیں پہنچی۔ چنانچہ توحید کی تبلیغ کے باوجود توحید کے عملی نتائج ظہور میں نہیں آ رہے تھے۔ نے دعوت توحید کو انقلاب توحید تک پہنچا دیا۔ جب ایسا ہو تو انسان کو اس کے نتائج ملنا شروع ہوگئے جن سے وہ اب تک محروم تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام اور دوسرے پیغمبروں کے درمیان جو فرق ہے وہ نفس دین کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ دین کے اظہار کے اعتبار سے ہے۔

ایک صاحب نے سیاسی انداز میں تقریر کی۔ ان کی تقریر کا خاص نشانہ امریکہیکہ تھا۔ تقریر میں وہ ظالم امریکہ، مردود امریکہ اور شیطان امریکہ جیسے الفاظ بے تکلف استعمال کر رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ انٹرکانٹی نینٹل ہوٹل جس کے وسیع ہال میں یہ تقریر ہو رہی ہے، وہ ایک امریکی کمپنی کا بنوایا ہوا ہے اور اسی کی ملکیت ہے۔ افغانستان کے پاس سارے ملک میں دوسرا کوئی ہوٹل یا ہال نہیں جہاں ایک بین اقوامی سطح کی سیرت کانفرنس شایان شان طور پر کی جاسکے۔ ایسی حالت میں امریکہ کو برا بھلا کہنا کس قدر مضحکہ خیز ہے۔ امریکہ کے نفوذ کا یہ حال ہو کہ اس کو گالی دینے میں جو پیسہ خرچ ہو وہ بھی اسی کی جیب میں جائے، ایسے امر کا مقابلہ عمل کے اسٹیج پر کیا جاسکتا ہے نہ کہ کسی قسم کے لفظی اسٹیج پر۔

ایک بڑے کمرہ میں افغانستان کی اسلامی مطبوعات کی نمائش کی گئی تھی۔ بڑی تعداد میں مختلف موضوعات پر کتابیں موجود تھیں۔ ایک کتاب کا نام تھا: نقش علماء در دعوت به صلح۔ اس کے "نویسندہ" ڈاکٹر عبدالغفور باہر تھے۔ اس کتاب کا موضوع تھا: صلح کی دعوت میں علماء کا رول۔ اس کو عربی میں کہہ سکتے ہیں: دور العلماء في الدعوة الى السلم۔

اس کتاب کا پہلا جملہ یہ تھا کہ یہ واضح بات ہے کہ اسلام کی دعوت عالمی دعوت ہے اور دنیا میں رحمت لانے کے لئے ہے (واضح است که دعوت اسلام دعوت جہانی و تامین رحمت است)

یہاں مختلف ملکوں کے لوگ آئے ہوئے تھے۔ جو لوگ عربی یا انگریزی زبان جانتے تھے، ان سے گفتگو کرنا مگر جو لوگ صرف اپنی مقامی زبان جانتے تھے، ان سے براہ راست ربط قائم نہیں جاسکتا تھا۔ موقع پر میرے ساتھ اسی قسم کی "بے بسی" پیش آئی۔ اس تجربہ کے موقع پر بے اختیار مجھے آخرت کی دنیا یاد میری زبان سے نکلا : آخرت کی دنیا کیسی عجیب دنیا ہوگی۔ وہاں تمام انسانوں سے ایک زبان میں کلام

کرنا ممکن ہو گا۔ وہاں تمام انسانوں کی سطح ایک ہو جائے گی۔ وہاں ہر آدمی حقیقت کو ماننے پر مجبور ہوگا۔ کے لئے ممکن نہ ہوگا کہ وہ دھواں بکھیر کر فضا کو آلودہ کرے۔ وہاں کسی کو یہ قدرت نہ ہوگی کہ وہ ظلم اور جبر کے ذریعہ اقتدار پر قابض ہو جائے اور پھر اپنی ذات کو بچانے کی خاطر سارے معاملات کو تہس نہس کر ڈالے۔ کسی کو یہ موقع نہ ہوگا کہ جھوٹ اور استحصال کی بنیاد پر لیڈر بن جائے۔

آخرت کی دنیا میں ہر چیز اپنی اصل تخلیقی حالت پر ہوگی۔ وہاں ہر آدمی کو اس حد پر ٹھہرنے کے لئے مجبور کر دیا جائے گا جو اس کی واقعی حد ہے ۔ وہاں ہر قسم کا مصنوعی فرق مٹ چکا ہوگا۔ موجودہ دنیا اندر انسانی دنیا ہے تو وہ ربانی دنیا ہوگی۔ کیسی عجیب ہوگی یہ آنے دنیا، اور کیکے خوش نصیب ہوں گے وہ لوگ جو اس معیاری دنیا میں آبادکاری کے لئے منتخب کئے جائیں۔

کانفرنس کی کارروائی کل شام کو ختم ہوگئی۔ اگلی صبح کو میں کابل سے ہوٹل انٹر کانٹینٹل (روم ۳۲۸) میں میز کے سامنے بیٹھا ہوں۔ سورج کی روشنی دیواری شیشہ سے گزر کر کمرہ میں آرہی ہے ۔ ذہن میں موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا نقشہ گھوم رہا ہے۔ اچانک مجھے فارسی کا یہ شعر یاد آیا:

خانه شرع خراب است که ارباب صلاح در عمارت گری گنبد اسلاف خود اند میں نے سوچا کہ موجودہ زمانہ کا نصف حصہ اگر " گنبد اسلاف" کی تعمیر میں مشغول ہے تو بقیہ نصف حصہ " گنبد خویش" کی تعمیر میں ۔ جہاں تک " خانہ شریعت کی تعمیر کا تعلق ہے، اس سے حقیقی طور پر کسی کو بھی کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ سوچتے ہوئے ایک تاثر طاری ہوا جو ان لفظوں میں ڈھل گیا : اپنے کو اسلامی ظاہر کرنے کے لئے ہر شخص دوڑ رہا ہے ، مگر اپنے کو اسلامی بنانے سے کسی کو دل چسپی نہیں۔ اسلام کا جھنڈا بلند کرنے کے لئے ہر آدمی بے قرار ہے، مگر اسلام کی خاطر اپنا جھنڈا گرانے کے لئے کوئی تیار نہیں۔ گنبد پر ہر شخص کھڑا ہونا چاہتا ہے، مگر اسلام کی بنیاد میں دفن ہونا کسی کو گوارا نہیں ـــــــــ کیسا عجیب ہے وہ اسلام جو سب کچھ ہو مگر اسلام ہی نہ ہو۔

ایک افغانی نوجوان جس نے بی اے کے مرحلہ تک تعلیم حاصل کی ہے ، اس سے میں نے پوچھا کہ افغانستان میں ایسے لوگ کتنے ہوں گے جنہوں نے بی اے کیا ہو۔ اس کا جواب تھا کہ سو میں ایک ۔ افغانی قوم کی اصل کمزوری ہے ۔ وہ بے حد بہادر قوم ہیں۔ مگر بہادری میں وہ جتنا آگے ہیں ، تعلیم میں وہ اتنا ہی پیچھے ہیں ۔ وہ لوگ جن کو" افغانی مجاہدین " کہا جاتا ہے ، وہ ایک درجن تنظیموں میں بٹے ہوئے ہیں ،

تاہم ایک چیز سب میں مشترک ہے۔ وہ یہ کہ ان کی اکثریت تعلیم یافتہ نہیں۔

غیر تعلیم یافتہ ہونے کی وجہ سے افغانی مجاہدین ایک بات کو جانتے ہیں، مگر وہ دوسری اہم تر بات کو وہ اس بات کو مبالغہ آمیز حد تک جانتے ہیں کہ ان کی شجاعت نے روسی فوجوں کو واپسی پر مجبور مگر وہ اس تاریخی حقیقت سے سرے سے نا واقف ہیں کہ روسی فوجوں کی افغانستان سے واپسی دراصل ایک دور کا خاتمہ ہے۔ یہ ویسا ہی معاملہ ہے جیسے مہاتما گاندھی کی تحریک آزادی نے انگریزوں کو ہندوستان سے نکلنے پر مجبور کیا۔ مگر انگریزوں کا یہاں سے نکلنا اسی کے ساتھ اس بات کا اعلان بھی تھا کہ اب قدیم طرز کا نو آبادیاتی دور (Colonial age) ختم ہو چکا ہے۔ اب وہ دوبارہ واپس آنے والا نہیں۔ مجاہدین میں اگر کچھ ایسے لوگ ہوتے جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوتے اور وقت کی رفتار کو گہرائی کے ساتھ سمجھتے تو وہ جان لیتے کہ روسی فوجوں کی واپسی سادہ طور پر صرف واپسی نہیں ہے، یہ اس دور کا خاتمہ ہے جس میں روسی طرز کا تداخل ممکن ہوتا تھا۔ اگر افغانی مجاہدین اس راز کو جانتے تو ان کا طرزِ کار بالکل بدل جاتا۔ ہتھیار کی طاقت سے انھوں نے خارجی حریف کو زیر کیا تھا، امن کی طاقت سے وہ داخلی حریف پر قابو پالیتے۔ کابل سے انگریزی کا صرف ایک اخبار نکلتا ہے جس کا نام "کابل ٹائمٹس" ہے۔ البتہ فارسی (دری) میں بہت سے اخبارات شائع ہوتے ہیں۔ اخبار انیس (۱۰ ربیع الاول ۱۴۰۹) کے ایڈیٹوریل کا عنوان تھا: محمد مصلح کبیر وانسان دوست ہنر رگ ۔ اس میں مولوی عبدالشکور (خطیب مسجد جامع باغ بالا) کی ایک تقریر کی رپورٹ تھی۔ اس خبر کا عنوان یہ تھا "____ "مصلح را پیش کش می کنیم"۔ خبر کے مطابق انھوں نے کہا: روایت است در جنگ حدیبیہ با وجو دیکہ شرایط گرانی را بالای محمد قبول دار گردیدند، آنحضرت صلح را ترجیح داد۔ زیر امی دانست کہ یک طرف مشرکین از جملہ اقوام اومي باشند، و طرف دیگر یار ان ہمر کا بش، پس صلح حدیبیہ را به خاطر قطع جنگ و خون ریزی قبول دار شد۔

برادر کشی کے خاتمہ کے لئے، برائے ختم برادرکشی، افغان مجاہدین سے صلح کی پیش کش کی مزید تفصیل مجھے امریکی میگزین ٹائم (۲۴ اکتوبر ۱۹۸۸) سے ملی۔

ٹائم (۲۴ اکتوبر ۱۹۸۸) نے لکھا ہے کہ افغانستان میں اس وقت ۳۵ سالہ احمد شاہ مسعود کو "شیر پنج شیر" کی حیثیت حاصل ہے۔ اس افغانی نوجوان نے کابل کے پالی ٹکنیک انسٹی ٹیوٹ میں تعلیم حاصل کی ہے۔ پچھلے تقریباً دس سال سے وہ مجاہدین کا استاد بنا ہوا ہے۔ اس کا تعلق افغانستان

کی اسلامی جماعت ہے۔

ٹائم نے اس سلسلہ میں بتایا ہے کہ نو سال کی جنگ کے بعد افغانستان کی وادی خالی بستیوں اور برباد مکانات کا نمونہ بنی ہوئی ہے۔ افغانستان کی موجودہ حکومت جنگ بندی یا مخلوط حکومت تک پر راضی نظر صدر نجیب اللہ جو اس وقت مایوسی کا شکار ہیں، کیونکہ ان کا حامی روس واپس جا رہا ہے ۔ میں انہوں نے مسعود کو یہ پیش کش کی کہ امن قائم کرنے کے بدلے وہ حکومت میں کوئی بڑا عہدہ قبول کر لیں ۔

(President Najibullah recently offered Massoud a choice of top government posts in exchange for peace (p.10). ٹائم کے بیان کے مطابق ، احمد شاہ مسعود نے اس پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ موجودہ حکومت کی بے دخلی سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہیں۔ میرے نزدیک یہ عین وہی غلطی ہے جو اس سے پہلے سید قطب اور سید ابوالاعلیٰ مودودی کر چکے ہیں۔ سید قطب کو جمال عبد الناصر نے مصر کی وزارت تعلیم کی پیش کش کی۔ مگر سید قطب کو اس سے کم کوئی چیز قبول نہ تھی کہ جمال عبد الناصر کرسی اقتدار سے ہٹ اسی طرح سید ابوالاعلیٰ مودودی کو محمد ایوب خاں نے یہ پیش کش کی کہ حکومت انھیں اعلیٰ ترین وسائل دے گی ، وہ ایک انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی قائم کریں اور اس میں اپنی صلاحیتیں لگا دیں۔ مگر دو بارہ سید ابوالاعلیٰ مودودی اس سے کم کسی بات پر راضی نہ ہو سکے کہ محمد ایوب خاں کرسی اقتدار سے ہٹ جائیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں رہنما مصر اور پاکستان میں ممکن تعمیری کام نہ کر سکے، وہ صرف بربادی کی تاریخ چھوڑ کر دنیا سے چلے گئے۔ افغانی مجاہدین نے اگر اپنے رخ میں تبدیلی پیدا نہ کی تو یقینی ہے کہ وہ بھی اس دنیا سے اس حال میں جائیں گے کہ ان کے پیچھے ایک برباد شدہ افغانستان کے سوا اور کوئی چیز موجود نہ ہوگی ۔ اور اس دنیا سے بہر حال ہر ایک کو جانا ہے ۔

افغانی مجاہدین کے بارے میں میری ذاتی رائے یہ ہے کہ انھوں نے ایک بہت بڑا کارنامہ انجام دیا انھوں نے اپنی غیر معمولی قربانی سے ۱۹۸۸ء میں افغانستان میں اس تاریخی عمل کو تکمیل کے مرحلہ تک پہنچایا ہے جو ۱۹۷۳ء میں ویت نام میں شروع ہوا تھا۔ ویت نام کو امریکہ نے طاقت کے ذریعہ مسخر کرنا چاہا ۔ ویت نامیوں کی ناقابل تسخیرزاحمت نے امریکہ کو ۱۹۷۵ء میں وہاں سے لوٹنے پر مجبور کر دیا۔ اس واقعہ سے ثابت

ہو اکوئی قوم خواہ عسکری طاقت میں سپر پاور" کا درجہ حاصل کرلے وہ محض طاقت کے بل پر کسی قوم کو زیر

اس کے بعد ٹھیک اسی عمل کو سوویت روس نے افغانستان میں دہرایا۔ بعض داخلی اسباب نے اس کو موقع دیا اور اس نے اپنی دیری خواہش کے تحت افغانستان میں اپنی فوجیں داخل کردیں۔ یہ اقدام ان کے لئے بے حد مہنگا پڑا۔ یہاں تک کہ 1988 میں انھوں نے افغانستان سے واپس جانے کا فیصلہ اس طرح اب یہ بات آخری طور پر ثابت ہو گئی کہ بین اقوامی معاملات میں طاقت کو پہلا فیصلہ کن مقام

افغانستان کی موجودہ سیاست بے حد مخدوش ہے۔ روس اگرچہ اپنی فوجوں کو واپس بلا رہا ہے تاہم وہ چاہتا ہے کہ افغانستان میں ایسی حکومت قائم ہو جو کمیونسٹ نواز نہ ہو یا کم از کم اینٹی کمیونسٹ نہ ہو۔ طرف ”مجاہدین“ کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں سوویت روس کے کسی بھی اثر ونفوذ کو گوارا کرنے کے لئے تیار نہیں۔ امریکہ اور پاکستان اس مطالبہ کی تائید کر رہے ہیں، کیونکہ ان کا خیال ہے کہ ”مجاہدین“ کی حکومت ہوگی وہ امریکہ نواز یا پاکستان نواز ہوگی۔

اس صورت حال کا نتیجہ یہ ہے کہ "مجاہدین" کی بندوقوں کا رخ جو پہلے روسیوں کی طرف تھا ، اب وہ حکمراں افغانی گروہ کی طرف ہو گیا ہے ، کیونکہ ان کے متعلق ان کا خیال ہے کہ وہ روسی پالیسی کی حمایت کر رہے ہیں۔

ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ اس مسئلہ کا حل خوش تدبیری اور ایڈ جسٹمنٹ ہے۔ ایسا ہونا نا ممکن ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پچھلے دس سال سے مجاہدین کے غیر مصالحانہ تشدد کو سارے عالم اسلام میں جس طرح گلوریفائی کیا گیا ہے اور جس طرح ان کو ہیرو بنایا گیا ہے ، اس کے بعد ایڈیجسٹمنٹ کی پالیسی ان کے لئے ہیرو کے مقام سے اترنے کے ہم معنی ہوگی ۔ اور انسان کے لئے بلا شبہ یہ مشکل ترین کام ہے۔ مجھے اس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ اگر بالفرض روسی اثر و نفوذ افغانستان سے ختم ہو جائے تب بھی اصل مسئلہ ختم ہونے والا نہیں۔ کیونکہ عدم برداشت کا مزاج جو اس وقت روسیوں یا روس نوازوں کے خلاف کام کر رہا ہے وہی خود اپنوں کے خلاف کام کرنے لگے گا۔ میں کامیابی کا راز نہ برداشت ہے ، دوسروں کے مقابلہ میں بھی اور خود اپنوں کے مقابلہ میں بھی۔

اس سلسلہ میں لینن کی مثال بہت سبق آموز ہے۔ روس میں زار کے زوال کے بعد 15 مارچ ۱۹۱۷ کو پہلی پرووژنل گورنمنٹ بنی۔ اس میں لینن کی حیثیت صرف اقلیتی ممبر کی تھی۔ اس کا وزیرِ اعظم شاہی خاندان کے جارجی لووف (Prince Georgy Lvov) کو بنایا گیا تھا۔ اس کے بعد الیگزینڈر کرنسکی (Aleksander Kerensky) کو ایک اہم وزیر کی حیثیت سے اس میں نمبر ۲ کی حیثیت حاصل تھی، لینن کی حیثیت یہ تھی کہ وہ بالشویک پارٹی کا ممبر تھا جو اس وقت کی اسمبلی (Soviets) میں ایک اقلیتی گروپ تہائی کی تعداد رکھتی تھی۔

مگر لینن نے انتہائی گہری تدبیروں کے ساتھ اولاً حریف پارٹی کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا اور اس کے بعد گہری تدبیروں کے ذریعہ 6 نومبر ۱۹۱۷ کو ماسکو کی پوری حکومت اپنے قبضہ میں کر لی۔ لینن ابتداً اکثر پر راضی ہوا، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج اس کا ملک دو بڑی طاقتوں میں سے ایک بڑی طاقت کی حیثیت رکھتا ہے۔ افغانی مجاہدین "کمتر" پر راضی ہونے کے لئے تیار نہیں اس لئے مجھے امید نہیں کہ وہ کبھی برتر کو پانے میں کامیاب ہو سکیں گے (68/16-EB)

افغانستان میں اگر آپ افغانی مجاہدین سے ملیں تو وہ کہیں گے کہ اسلام "دین جہاد" ہے۔ کے برعکس کابل کے حکمراں طبقہ سے ملیں تو وہ کہیں گے کہ اسلام "دین صلح" ہے۔ بظاہر دونوں اسلام کا لفظ بول مگر حقیقتاً دونوں کا مقصد ایک ہے۔ اسلام کو اپنی پالیسی کی تائید کے لئے استعمال کرنا۔ افغان مجاہدین کے لئے جہاد کی آیتیں مفید ہیں اس لئے وہ جہاد کی آیتوں کے حوالے دیتے ہیں۔ اس کے برعکس حکمران طبقہ کے لئے صلح کی آیتیں مفید مطلب ہیں اس لئے وہ صلح کی آیتوں کی تلاوت کر رہے ہیں۔ آبزرور (Observer) کے نمائندہ مسٹر آرتھر کینٹ (Arthur Kent) نے افغانستان کے اندرونی علاقوں کا سفر کیا۔ اس سلسلہ میں وہ قندھار گئے۔ اپنے مشاہدات کے بعد انھوں نے چھ رپورٹ مرتب کی، اس کو ٹائمز آف انڈیا (۱۳ اکتوبر ۱۹۸۸) نے نقل کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ افغانستان کے سرسبز علاقے اجڑے ہوئے صحرا کا منظر پیش کرتے ہیں۔ یہ کہ تمام بربادیوں کے باوجود افغانستان کا مستقبل غیر یقینی ہے، کیونکہ مجاہدین سات گروپ میں بٹے ہوئے ہیں۔ افغانستان کے مستقبل کے نقشہ کے بارے میں ان کے درمیان اتفاق نہیں۔ مجاہدین کے پاس "پولیٹیکل لیڈر شپ" نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے ۲۳ الر سالہ مارچ ۱۹۸۹

قندھار کے لائقيب اللہ سے گفتگو کی۔ آرتھر کنٹ کی رپورٹ کے مطابق ان کا جواب یہ تھا:

صدر نجیب اللہ کے چلے جانے بعد ہم ایک کونسل بنائیں گے تاکہ تمام افغانی مل کر یہ فیصلہ کریں کہ کون ملک پر حکومت کرے ۔ جہاں دو رجدو جہد میں اتحاد نہ ہو، وہاں دور اقتدار میں اتحاد اور بھی زیادہ ناممکن ہو جاتا ہے، مگر افغانی لیڈروں کو اس کی خبر نہیں۔ ٹائم دہم ۴ اکتوبر ۱۹۸۸) کی تین صفحہ کی تصویر یہ رپورٹ میں ایک بات یہ بتائی گئی ہے کہ روسیوں کے بیان کے مطابق، ان کے 312 فوجی گم ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ روسی فوجی ہیں جن کو مجاہدین نے گرفتار کر لیا ہے اور کچھ ایسے بھی ہیں جو از خود بھاگ کر آنے والے (Defectors) ہیں۔ ان میں سے کچھ کو ٹائم کے نامہ نگار ٹی اے ڈیوس (T.A. Davis) نے خود سفر کے دوران دیکھا ہے۔ ٹائم کا بیان ہے کہ ان روسی فوجیوں میں سے کچھ وہ ہیں جنہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے جو مجا ہدین کا مذہب ہے اور خود ان کے سابق باپ دادا کا بھی: روس کا انخلاء اگرچہ ابھی افغانستان سے مکمل نہیں ہوا ہے۔ تاہم عملی صورت حال میں اب بنیادی فرق پیدا ہو چکا ہے۔ پہلے افغانی مجاہدین کے تشدد کا نشانہ زیادہ تر روسی فوجیں بنتی تھیں۔ اب ان کے تشدد کا نشانہ خود ان کی اپنی قوم بن رہی ہے۔ پہلے وہ روسیوں کو مارتے تھے، اب وہ "روس حامی افغانیوں" کو مار رہے ہیں۔ مگر اس کو خواہ جو نام بھی دیا جائے، تاہم عملی واقعہ یہی ہے کہ پہلے اگر روس کا خاندان اپنے بیٹوں سے محروم ہو رہا تھا تو اب افغانی خاندان اپنے بیٹوں اور جوانوں سے محروم ہو رہا ہے پہلے اگر روسی ٹینک تباہ ہوتے تھے، تو اب خود افغانیوں کے کھیت اور باغ اور مکان تباہ ہو رہے ہیں۔ دہلی میں جو لوگ پالَم کے علاقے میں یا اس کے قریب رہتے ہیں، ان کے لئے سر پر گھڑ گھڑاتے ہوئے ہوائی جہازوں کی آوازیں روزانہ کا معمول ہیں۔ کابل میں پورے شہر کا یہی حال ہے۔ ہوائی اڈہ پر اترنے کے بعد سے لے کر پورے زمانہ قیام تک رات دن یہ حال تھا کہ فضا میں ہوائی جہاز اُڑتے ۳۴ الر سالہ مارچ ۱۹۸۹

ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ تا ہم دہلی اور کابل میں ایک فرق ہے۔ دہلی کی فضا میں اڑنے والے جہا زمسا فر جہاز ہوتے ہیں اور کابل کی فضا میں اڑنے والے جہاز جنگی جہاز۔ ایک افغانی سے میں نے اس کا ذکر کیا تو اس نے مسکرا کر کہا: You know, we are at war. مجھے یہ جاننے کی خواہش تھی کہ وہ لوگ جن کو باہر کی دنیا میں ”مجاہدین“ کہا جاتا ہے، ان کو افغانستان کے لوگ کیا کہتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے میں نے ایک نوجوان (۲۴ سال) کو لیا۔ ان سے میں نے ایسے موقع پر گفتگو کی جب کہ وہاں کوئی ہماری گفتگو کو سننے والا موجود نہ تھا۔ میرے سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ یہاں ان کو مجاہدین تو کوئی نہیں کہتا۔ البتہ یہاں کے لوگوں میں ان کے لئے عام طور پر تین الفاظ رائج ہیں :

Printed page