اپوزیشن، افراطیون، اشرار
Al-Risala, March 1989, pp. 35–36
By Maulana Wahiduddin Khan
افغانستان جنگ پر ایک معلوماتی فلم بنائی گئی ہے۔ یہ فلم ۴ اکتوبر ۱۹۸۸ کو بی بی سی ٹیلیویژن پر دکھائی گئی ۔ اس فلم میں افغانی فوجیوں کے مکالمات ہیں۔ اسی کے ساتھ اس میں روسی فوجیوں کے تاثرات بھی ان کی اپنی زبان میں دکھائے گئے ہیں۔ اس کے مطابق، ایک روسی جنرل نے کہا کہ مستقبل میں اگر کبھی سوویت یونین کو کوئی بین الاقوامی طاقت کے ذریعہ حل کرنا پڑا تو وہ کوئی قدم اٹھانے سے پہلے سو بار اس پر غور کرے گا۔
روسی جنرل نے مزید کہا کہ پچھلے دس سال کی اس جنگ میں بے شمار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ کے ایک اور فوجی افسر نے اپنے خیالات ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ خالصتہً ایک سیاسی غلطی تھی، اور اس غلطی کے تمام تر ذمہ دار سابق روسی وزیر اعظم لیونڈ برژنیف ہیں۔ برژنیف اگر زندہ ہوتے تو اس سنگین حقیقت کا انکشاف نہیں ہو سکتا تھا۔ تمام بڑی بڑی سیاسی غلطیاں صرف اس وقت کھلتی ہیں جب کہ ان کا ارتکاب کرنے والے لیڈر مر جائیں یا وہ اقتدار کی کرسی سے ہٹ چکے ہوں۔ روانگی سے پہلے دہلی میں مجھے سرینگر کا ایک ہفتہ وار اخبار (۷ اکتوبر ۱۹۸۸) ملا۔ افغانستان سے متعلق ایک مضمون تھا۔ نصف صفحہ میں اصل مضمون تھا ۔ اور بقیہ نصف میں حسب ذیل سرخی جلی حرفوں میں درج تھی :
" اسلامی حکومت قائم کرنے کے لئے افغان مجاہدین کی جد و جہد فیصلہ کن مرحلہ میں"
اس میں افغان نوجوانوں کی تصویریں تھیں۔ ایک تصویر میں کچھ افغانی نوجوان ایک تختی لٹکائے ہوئے تھے جس پر انگرایزی میں لکھا ہوا تھا ۔ قرآن زندہ باد (Long live Quran)
خدا کو عرب میں اسلامی حکومت قائم کرنے کے لئے ڈھائی ہزار سالہ منصوبہ بنانا پڑا۔ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ان کے تمام اصاغر واکابر ڈھائی دن سے بھی کم عرصہ میں اسلامی حکومت کا قلعہ کھڑا کرنے کا کارنامہ انجام دے رہے ہیں۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ موجودہ مسلمان سیاست کے معاملہ میں اس قدر مضحکہ خیز حد تک جذباتی اس کی وجہ میری سمجھ میں یہ آتی ہے کہ موجودہ لیڈروں نے تقریبا بلا استثناء یہ کیا کہ مسلمانوں کو دوبارہ اٹھانے کے لئے ایک یا دوسری شکل میں سیاسی لوریاں سنائیں۔ اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی حساسیت سیاست کے معاملہ میں ضرورت سے زیادہ جاگ اٹھی۔ ۱۹۱۲ء میں جب مصطفی کمال اتاترک یونانی فوجیوں کو سپ پا کر کے وقتی طور پر سرنا میں داخل ہو گئے تو برصغیر ہند میں "سمرنا بہار آگئی۔ اشعار اور مضامین اور تقریروں کا ایک طوفان برپا ہو گیا۔ اس کا خلاصہ ایک شعر میں یہ ہے: