وہ پہنچا پرچم اسلام پھر ارض سمرنا میں
Al-Risala, March 1989, pp. 36–41
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر سمرنا کی فتح کو فتح اسلام سمجھنا جتنا بے معنی تھا، افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی کو فتح اسلام سمجھنا بھی اتنا ہی بے بنیاد ہے۔ مگر اقتدار کے لئے مسلمانوں کی جوش تمنا اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ وہ ہر لکڑی پر فتح اسلام کا جھنڈا باندھ دینا چاہتے ہیں، خواہ اگلے لمحہ حالات کا طوفان اس جھنڈے کو گر کر گہری خندق میں کیوں نہ ڈال دے۔
ایک صاحب سے موجودہ زمانہ میں مختلف قوموں کے باہمی جھگڑوں کا ذکر ہوا۔ میں نے کہا کہ یہ جھگڑے زیادہ تر سیاسی جھگڑے کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ہیں۔ افغانستان اور پاکستان کے درمیانی "پختون" علاقہ کے لئے جھگڑا۔ ایران اور عراق کے درمیان شط العرب کے لئے جھگڑا۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشمیر کے لئے جھگڑا۔ کوئی قوم اس کے لئے تیار نہیں ہے کہ اس کو بروقت جو کچھ حاصل ہے اس پر قانع ہو کر اپنی تعمیر کا کام کرے۔ ہر قوم اس چیز کے لئے لڑ رہی ہے جو اس کو حاصل نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ غیر حاصل شدہ کے پیچھے دوڑنے میں حاصل شدہ بھی برباد ہو رہا ہے۔ ایک صاحب اخوانی مزاج کے تھے۔ انھوں نے انقلابی اسلام والی باتیں کیں۔ انھوں نے کہا کہ
موجودہ زمانہ میں تمام مسلم ممالک کا یہ حال ہے کہ وہاں کا حکمران طبقہ ایک یا دوسری مغربی طاقت کا ایجنٹ بنا ہوا ہے۔ ان مسلم حکمرانوں سے لڑ کر جب تک ان کا خاتمہ نہ کیا جائے، اسلام کو قائم اور غالب نہیں
میں نے کہا کہ یہ مسئلہ اسلام کا نہیں، بلکہ آپ کی مفروضہ تفسیر اسلام کا ہے۔ آپ لوگوں نے خود ساختہ تفسیر کی بنا پر یہ سمجھ لیا ہے کہ اسلامی دعوت کا اصل کام اسلام کو ایک قانونی نظام کی حیثیت سے نافذ کرنا ہے، اور چوں کہ موجودہ زمانہ کے مسلم حکمران اس قسم کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ ہیں ، اس لئے پہلا کام یہ ہے کہ ان سے لڑ کر نفاذ اسلام کی راہ ہموار کی جائے۔
میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں حکومت پیش کی گئی مگر آپ نے اس کو قبول اگر اصل مقصد اقتدار ہوتا تو آپ فوراً اس کو قبول کرلیتے اور اس کے بعد ٹو ٹنڈے کے زور پر اسلامی قانون نافذ فرماتے، جیسا کہ موجودہ زمانہ کے بعض نام نہاد مجاہدین اسلام کرنا چاہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی دعوت کا نشانہ اصلاح قلب ہے نہ کہ اصلاح سیاست۔ سیاست کی اصلاح بطور نتیجہ پیدا ہوتی ہے نہ کہ وہی دعوت کا اصل نشانہ ہے۔
مزید میں نے کہا کہ قرآن میں ایک طرف کہا گیا ہے کہ تعالو الی کلمہ سواءء بیننا وَبَيْنَكُمْ اور دوسری طرف ارشاد ہوا ہے کہ ولا ينا زنك في الأمر وادع الى ربك اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی دعوت کی حکمت یہ ہے کہ اس کو کلمہ سوا سے شروع کیا جائے نہ کہ کلمہ نزاع موجودہ زمانہ کے مدعیان دعوت نے اپنا کام کلمہ نزاع سے شروع کیا۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار بر بادی کے باوجود انھیں کوئی کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔
ڈاکٹر میاں محمد سعید (حال مقیم واشنگٹن) نے 1962 کا ایک واقعہ بتایا۔ اس وقت وہ لندن میں تھے ۔ لندن یونیورسٹی میں ان کی ملاقات ڈاکٹر پدما سرا سے ہوئی۔ وہ ایک ہندوستانی خاتون تھیں، جو اس وقت لندن یونیورسٹی میں تھیں۔ گفتگو کے دوران ڈاکٹر پدما سرا نے ایک واقعہ بتایا۔ انھوں نے کہا کہ وہ بنارس اور لکھنؤ کے درمیان سفر کررہی تھیں۔ ان کے ڈبے میں لکھنؤ کی ایک مسلمان عورت بھی تھی جو ایک سیٹ پر اپنی گٹھری رکھے ہوئے بیٹھی تھی۔ اس کے میلے کپڑے بتا رہے تھے کہ وہ کسی معمولی گھر کی ہے۔ غالباً وہ سبزی فروش گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ اس دوران میں وہ ایک بار ہاتھ دھو گئی۔
اس کی غیر موجودگی میں ایک کھڑے ہوئے مسافر نے اس کی گٹھری ہٹا دی اور جگہ بنا کر وہاں بیٹھ گیا۔ عورت جب باہر واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ اس کی گٹھری ہٹی ہوئی ہے اور وہاں ایک آدمی بیٹھا ہوا ہے۔ یہ دیکھ کر وہ سخت برہم ہو گئی۔ اس نے غصہ میں کہا:
نہ رہی نو آبی، ورنہ تم کو زندہ دیوار میں چنوا دیتی یہ واقعہ بتاتے ہوئے ڈاکٹر سعید صاحب نے کہا کہ مسلمانوں سے حکومت چلی گئی ، مگر ان کا حاکمانہ مزاج اب تک ان سے نہیں گیا۔ میں نے ان سے کہا کہ یہی موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا اصل مسئلہ ہے۔ آج جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ پیش آرہا ہے وہ سب ان کے اسی مزاج کی قیمت ہے۔ کوئی نعمت آدمی کو ملے تو آدمی کو اس پر شکر کرنا چاہئے، اور جب وہ چھن جائے تو صبر۔ مگر مسلمانوں نے نہ پہلے شکر کیا اور نہ اب وہ صبر کرنے پر
کھانے کی میز پر ایک بار چھ آدمی تھے۔ ان میں سے پانچ عرب تھے۔ صرف میں غیر عرب تھا۔ تھے جو مسلسل بول رہے تھے۔ دوسرے لوگ متکلم کے بجائے زیادہ تر سامع بنے رہے۔ مصری صاحب مجلسی انداز کی باتیں کر رہے تھے، اور طرح طرح کے لطیفے بیان کر رہے تھے۔ اس اثنا میں انھوں نے اس عربی مقولہ کو دہرایا : خير الكلام ما قل ودل (بہترین کلام وہ ہے جو مختصر ہو اور مدلل ہو) اس مختصر مقولہ پر بھی انھوں نے ایک " مفصل " تقریر کر ڈالی۔
مصری کا مذکورہ مقولہ کو نقل کرنا مقولہ برائے مقولہ تھا۔ کیونکہ ان کا اپنا کلام سراسر اس سے مختلف تھا۔ یہی حال دین کے معاملہ میں بھی اکثر لوگوں کا ہے۔ وہ دین کے موضوع پر تقریر کرتے ہیں۔ مگر یہ سارا معاملہ تقریر پر برائے تقریر ہوتا ہے۔ وہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کوئی مجلسی آدمی طرح طرح کی باتیں کرے، حالانکہ ان میں سے کسی بات پر بھی اس کا ایمان نہ ہو۔
یہاں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی جو ایک یورپی ملک سے آئے تھے۔ انھوں نے اسلامیات سے ایم اے کیا ہے۔ وہ مجھ سے واقف نہ تھے۔ حتی کہ انھوں نے میرا نام بھی نہیں سنا تھا، ان سے ایک اسلامی موضوع پر گفتگو ہوئی۔ میں نے ان کے نقطہ نظر سے مختلف نقطہ نظر پیش کیا اور اس کے حق میں قرآن و حدیث سے دلیلیں دیں۔ میری بات سے ان پر استعجاب کی کیفیت طاری ہو گئی۔ تاہم وہ اپنی زبان سے یہ نہ کہہ سکے کہ آپ کا نقطہ نظر درست ہے۔ انھوں نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی : مگر فلاں فلاں مشہور لوگوں نے تو
ایسا نہیں کہا۔
بیشتر لوگ کسی بات کو اس لئے مانتے ہیں کہ ان کی مسلمہ شخصیت نے ایسا کہا ہے نہ کہ دلیل سے اس طرح ثابت ہوتا ہے۔ ایسے لوگوں کے ان سچائی کبھی ذہنی انقلاب بن کر داخل نہیں ہوتی۔ ان کا ذہن ہمیشہ شخصیتوں کی عظمت میں گم رہتا ہے، وہ حقائق کی عظمت میں گم ہونے کا کبھی تجربہ نہیں کرتا۔ ڈاکٹر اسکندر احمد چودھری بنگلہ دیش سے تعلق رکھتے ہیں۔ آجکل وہ ٹوکیو ( جاپان ) میں مقیم ہیں۔ وہاں وہ ریڈیو میں بنگالی اناؤنسر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ اسلامک کلچر سوسائٹی جاپان کے ڈائرکٹر ہیں۔
ڈاکٹر چودھری سے جاپان کے بارہ میں گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ میں نے جاپان پر 1967 سے لکھنا شروع در کیا جب کہ ہندوستان میں جاپان کو عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ جواہر لال نہرو اس کو اپنی ناوابستگی کی پالیسی کے خلاف سمجھتے تھے کہ وہ جاپان سے تعلق قائم کریں۔ پچھلے ۲۵ سال میں میں نے جاپان پر اتنے زیادہ مضامین لکھے ہیں کہ اگر ان کو جمع کیا جائے تو ایک پوری کتاب بن جائے۔ میں نے کہا کہ جاپان سے میری دل چسپی کا سبب ہے "حدیبیہ" کی پالیسی جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت کے میدان میں عالی شان طور پر استعمال فرمایا تھا، اس کو تاریخ میں دوسری بار جاپان نے سیکولر میدان میں استعمال کیا ہے۔
ڈاکٹر چودھری سے میں نے کہا کہ اس پالیسی کو جاپانیوں نے عمل معکوس (Reverse course) کا نام میں نے پوچھا کہ اس کے لئے جاپانی لفظ کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس کے لئے جاپانی لفظ گیا کوتن ڈاکٹر چودھری سے گفتگو کے دوران میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ جاپانیوں کی خاص صفت جس کی بنا پر انھوں نے اتنی بڑی کامیابی حاصل کی ہے، وہ، ایک لفظ میں، حکم کی تابعداری کا مزاج ہے۔ (Submission to authority)
اس میں شک نہیں کہ کسی بڑی ترقی کے لئے یہ سب سے اہم صفت ہے۔ جاپانیوں میں یہ صفت آخری حد تک پائی جاتی ہے۔ وہ اپنے افسر یا حاکم کی بات کو فوراً ماننے پر راضی ہوجاتے ہیں، خواہ وہ انھیں صحیح نظر آئے یا غلط۔ یہ صفت صحابہ کرام میں بدرجہ کمال پائی جاتی تھی۔ اور یہی وجہ ہے کہ انھوں نے تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں یہ صفت انتہائی حد تک مفقود ہے۔
اور بلاشبہ ان کی موجودہ بربادی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔
میں نے ان سے مزید پوچھا کہ جاپان نے موجودہ زمانہ میں جو ترقی کی ہے اس کو اقتصادی معجزہ کہا اس معجزہ کار از کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مگر جاپانیاس کو معجزہ نہیں کہتے۔ وہ اس کو سخت محنت (Hard work) کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بالکل درست ہے۔ اگر اس کو معجزہ کہا جائے تب بھی اس کا اصل راز ہار ڈورک ہی ہے نہ کہ کوئی پر اسرار چیز۔
ایک پاکستانی پروفیسر سے ملاقات ہوئی۔ وہ سیالکوٹ کے رہنے والے ہیں اور امریکہ کی یونیورسٹی میں استاد ہیں۔ وہ تقریباً ۲۰ سال سے امریکہ میں رہ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ میں زندگی بہت پر سکون ہے۔ مگر وہاں کا سب سے بڑا مسئلہ وہ ہے جو ہماری نسلوں سے تعلق رکھتا ہے۔ ہمارے بچے وہاں کے ماحول سے اتنا زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کہ اس بات کا شدید اندیشہ پیدا ہو گیا ہے کہ ہماری تیسری نسل مسلمان بھی باقی رہے گی یا نہیں۔ انھوں نے کہا کہ میرے جیسے لوگ برابر اپنے وطن واپس جانے کو سوچتے رہتے ہیں، مگر اب وطن کا ماحول بھی اتنا زیادہ بگڑ چکا ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا ہوگا۔ میں نے کہا کہ امریکہ کا مسئلہ اگر غیر اسلام ہے تو پاکستان میں کچھ لوگوں کی نادانی سے خود اسلام ایک مسئلہ بن گیا ہے۔ میری یہ بات انھیں عجیب معلوم ہوئی۔ میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا معاملہ یہ ہے کہ کچھ لوگ اس کو زبردستی اسلامائز کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں وہاں اسلام تو نہیں آیا، البتہ لوگ اسلام سے متنفر ہو گئے۔ ایک نوجوان اگر جاہل رہ جائے اور جلد تعلیم یافتہ بنانے کے شوق میں آپ اس کو مار مار کر پڑھانا شروع کر دیں تو وہ تعلیم یافتہ تو نہیں بنے گا، البتہ تعلیم سے متنفر ہو جائے گا۔ پاکستان کے ساتھ پیش آئی ہے۔
میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شدت کے ساتھ یہ ہدایت دی تھی کہ میرے بعد مسلم حکمرانوں سے نہ لڑنا، حتی کہ اس وقت بھی نہیں جب تم دیکھو کہ ان میں بگاڑ آگیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت کا مقصد کوششوں کو روکنا نہیں بلکہ کوششوں کو ڈائیورٹ (Divert) کرنا تھا۔ کرنے کا صحیح ترین طریقہ ہے۔ اور اسلام کی تاریخ میں اس کی انتہائی روشن مثال محدثین کا طبقہ ہے۔ کے زمانہ میں حکمرانوں میں بہت بگاڑآچکا تھا، مگر انھوں نے حکمرانوں سے ٹکرانے کے بجائے اپنے آپ کو حدیث کی خدمت میں لگا دیا ۔ اس کے نتیجہ میں حدیث کی جمع و تدوین کا وہ عظیم الشان کام انجام پایا جس کی
اہمیت قیامت تک ختم ہو والی نہیں۔
پھر میں نے کہا کہ سوسائٹی سے سسٹم بنتا ہے، سسٹم سے سوسائٹی نہیں بنتی۔ پاکستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہاں کی سوسائٹی اسلام کے نظام قانون کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ایسی حالت میں پہلا کام یہ ہے کہ سوسائٹی کے اندر اس کی استعداد پیدا کی جائے ۔ یہ کام صرف تذکیر و نصیحت کے ذریعہ انجام پاتا ہے نہ کہ کوڑے مارنے اور سزائیں جاری کرنے سے۔ یہ گفتگو ۲۳ اکتوبر ۱۹۸۸ کو ہوئی۔
ہم لوگ ہوٹل کی لابی میں بیٹھے ہوئے تھے۔ سامنے ایک نیچی میز تھی جس کے اوپر لکڑی کے تختے کے بجائے سفید مائل سنگ مرمر لگا ہوا تھا۔ ایک صاحب نے بتایا کہ یہ سنگ مرمر افغانستان کی خاص چیز ہے۔ لاہور میں اقبال کا مقبرہ بن رہا تھا تو اس وقت کے افغانی حکمران نے اس میں لگانے کے لئے افغانی سنگ مرمر بطور ہدیہ روانہ کیا تھا۔
ایک صاحب اقبال کے فارسی کلام سے اچھی طرح واقف تھے۔ انھوں نے اقبال کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اقبال نے برصغیر کے مسلمانوں کو حوصلہ دیا۔ اگر اقبال نہ ہوتے تو موجودہ مسلمان بے حوصلہ ہو کر میں نے کہا کہ اقبال نے شاعرانہ نرمی تو قوم کو ضرور دیا۔ مگر جہاں تک حوصلہ کا تعلق ہے، ان کے کلام نے برعکس کام کیا ہے۔ میں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اقبال نے سلطان ٹیپو کے بارہ میں کہا کہ وہ ہماری ترکش کا آخری تیر تھا: