ترکش ما را خدنگ آخریں
Al-Risala, March 1989, pp. 41–44
By Maulana Wahiduddin Khan
اس شعر کی روشنی میں دیکھئے تو سلطان ٹیپو کی شکست (بالفاظ دیگر، مسلمانوں کی عسکری قوت کی بربادی) کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کے پاس گویا کچھ نہیں رہا۔ یہ تصور کتنی زبردست پست حوصلگی پیدا کرتا ہے۔ نے کہا کہ پھر آپ کے خیال میں اقبال کو کیا کہنا چاہئے تھا۔ میں نے کہا کہ اقبال کو کہنا چاہئے تھا کہ ٹیپو کی عسکری طاقت ختم ہو گئی تو غم کی بات نہیں۔ اسلام کی دعوتی طاقت زندہ ہے۔ تم اسلامی دعوت کو لے کر اٹھو۔ اس کے ذریعہ سے دنیا کو مسخر کرو۔ اقبال اگر یہ بات کہتے تو اس سے مسلمانوں کو رہنمائی ملتی۔ مگر ٹیپو کو آخری تیر کہہ کر انھوں نے مسلمانوں کو بے حوصلگی کے سوا اور کچھ نہیں دیا۔
ایک عالم سے ملاقات ہوئی۔ ان کی تعلیم پاکستان کے ایک دار العلوم میں ہوئی ہے اور اچھی اردو انھوں نے کہا کہ میں الرسالہ برابر پڑھتا ہوں۔ وہ مجھے پاکستان کے ایک واقف کار کے ذریعہ
مل جاتا ہے۔ بعض اوقات وہ صاحب پورے رسالہ کی فوٹو کاپی کر کے مجھے روانہ کر دیتے ہیں۔ انھوں نے جو کچھ کہا اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اکتوبر ۱۹۸۸ کے رسالہ میں زمین سے محروم (صفحہ ۳) کے عنوان سے جنرل ضیاءءء الحق مرحوم پر جو مضمون ہے وہ لاجواب ہے۔ انھوں نے کہا کہ جنرل ضیا کی موت پر مسلم دنیا کے تقریباً ہر اخبار اور ہر رسالہ نے مضامین شائع کئے ہیں اور ہر رہنما نے اپنے بیانات دئے ہیں، مگر آپ کا مضمون ان سب میں منفرد تھا۔ دوسرے لوگوں نے عام طور پر صرف ضیا کی تعریف کی ہے۔ ان کو ہیرو مگر آپ نے اس سے سبق کا پہلو نکالا ہے۔ اور مومن کی خصوصیت یہی ہے کہ وہ ہر واقعہ اور ہر حادثہ سے عبرت اور نصیحت لے۔
انھوں نے کہا کہ امت پر اس قسم کا سب سے بڑا واقعہ وہ تھا جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی۔ اس وقت صحابہ کرام نے ایسا نہیں کیا کہ ہر ایک آپ کی شان میں تعریفی تقریر کرنے لگے اور آپ کو "شہید" یا اسلامی ہیرو ثابت کرنے میں تمام الفاظ صرف کر ڈالے۔ اس کے برعکس انھوں نے اس واقعہ سے موت اور آخرت کی یاد حاصل کی۔ حضرت ابوبکر تشریف لائے اور آپ کی میت کو دیکھا تو قرآن کی یہ آیت پڑھی : كل من عليها فان ويبقى وجه ربك ذوالجلال اسی طرح حضرت عباس نے فرمایا : والله الذى لا اله الا هو لقد ذاق رسول الله صلى الله عليه وسلم الموت۔
مذکورہ عالم نے کہا کہ اس میں شک نہیں کہ اس دور میں الرسالہ سنت رسول اللہ کو زندہ کر رہا لوگوں کو قومی دین سے نکال کر خدا وندی دین پر لا رہا ہے۔ اس وقت اس سے بڑا کوئی کام نہیں۔ کمرہ کی جو میز تھی، اس کے سامنے ملا ہوا بڑا سا شیشہ لگا ہوا تھا۔ میں بیٹھ کر کچھ لکھ رہا تھا۔ دوران آئینہ کی طرف نظر گئی تو دکھائی دیا کہ قلم میرے بائیں ہاتھ میں ہے، حالانکہ میں اس کو اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھا۔ اسی طرح گھڑی دائیں ہاتھ میں دکھائی دی، حالانکہ وہ میرے بائیں ہاتھ میں تھی۔ ایسا اس لئے تھا کہ آئینہ میں آدمی کی تصویر الٹ جاتی ہے۔ یعنی دایاں رخ بائیں طرف اور بایاں رخ دائیں طرف ہو جاتا ہے۔ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانہ پر ان لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ جو خارجی دنیا کو اپنے فٹ کے ہوئے شیشہ میں دیکھیں ۔ ان کے اپنے مشاہدہ میں ہر چیز الٹی ہوگی اور وہ ان کو الٹی صورت میں بیان کریں گے ۔ بظاہر وہ اپنے بیان میں مخلص ہوں گے ۔ مگر مخلص ہونے کا لازمی مطلب یہ نہیں
ہے کہ آدمی جو کچھ کہہ رہا ہے وہ واقعہ کے اعتبار سے بھی صحیح ہے۔ ایک چیز باعتبار مشاہدہ کچھ اور ہوتی ہے اور باعتبار واقعہ کچھ اور۔
فجر کی اذان کی آواز آئی۔ گھڑی دیکھی تو ہندوستانی وقت کے لحاظ سے چھ بج رہے تھے۔ مجھے یاد آیا کہ دہلی میں آجکل فجر کی اذان تقریباً پانچ بجے ہوتی ہے۔ افغانستان کا وقت، ہندوستان کے مقابلہ میں ایک گھنٹہ پیچھے ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہندوستان "آگے" ہے اور افغانستان اس سے "پیچھے" یہ صرف ایک جغرافی تقسیم کا معاملہ ہے نہ کہ سابق اور مسبوق کا معاملہ۔
نماز میں امام کو آگے کھڑا کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ امام کی شخصیت برتر ہے اور دوسرے نمازیوں کی کم تر۔ یہ قیام جماعت کے لئے ایک انتظامی تقسیم ہے۔ کبھی فرق باعتبار جوہر ہوتا ہے اور کبھی فرق باعتبار انتظام ۔ جو لوگ جوہری تقسیم اور انتظامی تقسیم کے اس فرق کو نہیں سمجھتے وہ ایک عظیم الشان غلطی جس فرق کو اللہ تعالی نے برائے انتظام رکھا تھا، اس کو افضلیت اور غیر افضلیت کے معنی میں لے لیتے ہیں اور پھر دین میں زبردست خرابی پیدا کرنے کا باعث بن جاتے ہیں۔ ۲۵ اکتوبر کو میں نے واپسی کا پروگرام بنایا تھا۔ کانفرنس کے منتظمین کی طرف سے پیغام ملاکہ ۲۵ اکتوبر کی شام کو ڈاکٹر نجیب اللہ (پریسیڈنٹ افغانستان) شرکا ء کانفرنس سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ آپ کا نام لے کر خاص طور پر انھوں نے کہا کہ ان سے ملنا بھی ضروری ہے۔ یہ ملاقات یہاں کے صدارتی محل میں ہونے والی تھی۔ میں نے عذر پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں ۲۵ اکتوبر کی فلائٹ چھوڑ دوں تو اس کے بعد اگلی فلائٹ مجھے ۲۷ اکتوبر کو ملے گی۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ یہ عذر پریسیڈنٹ صاحب کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس کی فکر نہ کیجئے ۲۶ اکتوبر کو انھیں اسپیشل فلائٹ کے ذریعہ دہلی پہنچا دیا جائے گا۔ مگر اپنے ضروری پروگرام کے تحت میرے لئے مزید ٹھہرنے کا موقع نہ تھا، چنانچہ میں ۲۵ اکتوبر ۱۹۸۸ کو دہلی واپس آگیا۔
۲۵ اکتوبر کو مجھے انڈین ائیر لائنز سے واپس آنا تھا۔ مگر اس روز کی فلائٹ سے ہماری سیٹ کنفرم میں اور میرے ساتھی دونوں ویٹنگ لسٹ پر تھے۔ ائیر پورٹ پہنچے تو کاؤنٹر پر بتایا گیا کہ تمام سیٹیں بھر چکی ہیں۔ اب اس جہاز سے سفر کی کوئی گنجائش نہیں۔
اتنے میں انڈین ایئر لائنز کے منیجر کسی وجہ سے وی آئی پی لاؤنج میں آگئے جہاں ہم لوگ بیٹھے ہوئے
میں فوراً اُن سے ملا اور کہا کہ کل مجھے روم جانا ہے ، اس لئے آج میرا وہاں پہنچنا ضروری ہے۔ اس جہاز سے ہمیں بھیج دیں تو آپ کی بڑی عنایت ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ اچھا ، میں تھوڑی دیر میں بتاتا یہ کہہ کر وہ اپنے آفس میں چلے گئے۔ چند منٹ بعد ایک کلرک آیا۔ اس نے ہم دونوں آدمیوں کا ٹکٹ اور پاسپورٹ مانگا۔ تھوڑی دیر کے بعد مذکورہ کلرک دوبارہ آیا اور ٹکٹ اور پاسپورٹ کے ساتھ ہمارا ایور ڈنگ کارڈ بھی ہمارے حوالے کر دیا۔
انڈین ایئر لائنز کے منیجر جنھوں نے بالکل آخر وقت میں ہمارا یہ کام کیا ان کا نام مسٹر اودے کمار شرما اس کے بعد جب میں ہوائی جہاز میں داخل ہو کر اپنی سیٹ پر بیٹھا تو میرا دل کہہ رہا تھا ۔ آدمی اپنے کیس کو جینوئن کیس ثابت کر سکے تو ہر شخص اس کا تعاون کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے ، خواہ اس کے نام اودے کمار شرما ہو یا محمد اسلام الدین۔