Al-Risala · January 1989

مسجد

Al-Risala, January 1989, pp. 14–16

By Maulana Wahiduddin Khan

"ہمارا مقصد مسجد والے اعمال کو زندہ کرنا ہے" تبلیغی جماعت کے لوگ جب یہ بات کہتے ہیں تو عام لوگوں کو بظاہر یہ ایک چھوٹی سی بات معلوم ہوتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑی بات ہے، بلکہ یہی سب سے بڑی بات ہے۔ "مسجد والے اعمال" کو اگر کسی جامدنی میں نہ لیا جائے تو اس میں دین کی ساری حقیقت آ جاتی ہے۔

مسجد والے اعمال کیا ہیں۔ مسجد والے اعمال یہ ہیں کہ آدمی کے اندر دینی شعور پیدا کیا جائے گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو انسانی شعور، ہی انسانی عمل کی بنیاد ہے۔ انسان کا خارجی عمل اس کے اندرونی شعور ہی کا خارجی ظہور ہوتا ہے۔ مسجد اسی ربانی شعور کی تعمیر کا مرکز ہے۔ اسی طرح ہر آدمی کا کوئی شعوری مرکز ہوتا ہے۔ ہر آدمی گویا کسی نہ کسی "مسجد" پر کھڑا ہوا ہے۔ دوسرے لوگ غیر خدائی مسجد پر کھڑے ہوتے ہیں۔ مسلمان وہ ہے جو خدائی مسجد کے اوپر اپنے آپ کو کھڑا کرے ۔ ایک سیاح جس نے دنیا کے اکثر حصوں کا سفر کیا ہے، لکھتا ہے کہ مختلف ملکوں کے سفر کے دوران میں نے ایک عجیب بات یہ دیکھی کہ غیر مسلم ملکوں میں ہر جگہ قدیم زمانہ کے بڑے بڑے قلعے کھڑے جب کہ مسلم دنیا میں اس قسم کے مناظر بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ البتہ ہر مسلم شہر میں عالیشان مسجدیں ضرور ہیں جن کے اونچے مینار دور سے ان کے وجود کا پتہ دیتے ہیں۔ غیر مسلم ملکوں کی نمایاں عمارتیں اگر ان کے قلعے ہیں تو مسلم ملکوں کی نمایاں عمارتیں ان کی مسجدیں ۔ یہ فرق دونوں قسم کے لوگوں کے مزاج کا پتہ دیتا ہے۔ غیر مسلم قوموں کا اعتماد مادی اسباب پر تھا، اس لئے انہوں نے قلعے اور حصار کھڑے کئے ۔ اس کے برعکس مسلم قوموں کے عقیدہ کے مطابق ان کا اعتماد اللہ پر تھا۔ اس لئے وہ جہاں پہنچے، انھوں نے بڑی بڑی مسجدیں بنائیں۔ مسجد، محدود معنوں میں، صرف عبادت گھر نہیں، وہ اسلام کے حق میں خدائی قلعہ ہے۔ مسجدیں اسلامی دنیا کی نگہبان ہیں۔ مسجد کے ذریعہ اسلام اپنی حیثیت کو زمین پر قائم کرتا ہے ۔ اس کے ذریعہ سے وہ دلوں کو مسخر کرتا ہے۔ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد قائم ہوتا ہے ایک حدیث میں مسجد کو اللہ سے ڈرنے والوں کا گھر کہا گیا ہے (المساجد بيوت المتقين )

مسجد خدا کا گھر ہے۔ مسجد میں خدائی اعمال کے ذریعہ ایک ایسا ماحول پیدا کیا جاتا ہے جہاں آ کر مسلمان اپنے آپ کو اپنے رب کی چھاؤں میں محسوس کریں۔ وہاں سے دینی معرفت کی غذا لے کر باہر کی دنیا کی طرف لوٹیں۔ خود اسلام پر قائم ہوں اور دوسرے بندگان خدا کو اسلام پر قائم رکھنے کی

مسجد ایک قسم کا دارالاسلام ہے۔ وہ اللہ کی یاد کی جگہ ہے۔ وہ اسلامی اتحاد کی تربیت گاہ وہ مسلمانوں کے اعتماد علی اللہ کا نشان ہے۔ وہ اسلام کی دعوتی اور اصلاحی سرگرمیوں کا مرکز ہے جب اسلام زندہ تھا تو مسجد صرف مسجد نہ تھی بلکہ وہاں اسلامی زندگی کے تمام شعبے قائم ہوتے تھے۔ عبادت گاہ ، مدرسہ ، دار القضاء اجتماع گاہ، اسپتال، کتب خانہ، مسافر خانہ، مقام مشاورت اصلاحی و تبلیغی مرکز وغیرہ۔

مصر میں جب بنی اسرائیل کے لئے زمین تنگ ہو گئی تو حکم ہوا کہ اپنے گھروں کو مسجد بنا لو ۸۷) اس سے معلوم ہوا کہ حالات جب اہل ایمان کو پاپا کرتے کرتے ان کو آخری جائے پناہ (گھر) تک پہنچا دیں تو اس وقت ان کا گھر ہی جدوجہد کا میدان بن جاتا ہے۔ وہ اپنے گھروں کو مسجد کی صورت دے کر وہاں اپنے کو صبر و نماز کے ساتھ وابستہ کر دیتے ہیں۔ وہ اعتماد علی اللہ اور تعلق مع اللہ میں اپنا مستقبل تلاش کرنے لگتے ہیں۔ مسجد اہل ایمان کے لئے صرف در و دیوار کا مجموعہ نہیں ، وہ اپنے رب سے پلٹنے کے لئے تنہائی کا ماحول ہے۔ اور اللہ پر بھروسہ کا مزاج پیدا کر نے لئے مقام تربیت ہے۔ "مسجد اس بات کا نشان ہے کہ اہل ایمان کا قافلہ خواہ کتناہی پیچھے دھکیل دیا جائے ، اس کے لئے ہر حال میں ایک نئے سفر کا نقطہ آغاز موجود رہتا ہے۔ اس آخری قلعہ کو کسی حال میں کوئی ان سے چھین نہیں

اسی کے ساتھ مسجد کا ایک عمل اور بھی ہے۔ وہ یہ کہ مسجد کی دنیا میں خدا پرستی اور آخرت پسندی کا ماحول پیدا کر کے دوسری قوموں کے افراد کو موقع دیا جائے کہ وہ یہاں آ کر اسلام کا مطالعہ ومشاہدہ اور اس بات سے آگاہی حاصل کریں کہ ان کے رب کی مرضی ان کے بارہ میں کیا ہے اور موت کے بعد خدا کی عدالت میں ان سے کس قسم کا سوال کیا جانے والا ہے۔ مسجد کی یہ دعوتی اور تبلیغی حیثیت قرآن میں اس طرح بیان ہوئی ہے :

"اگر مشرکین میں سے کوئی شخص تجھ سے امان کا طالب ہو تو اس کو اپنے پاس آنے دو تاکہ وہ اللہ کا کلام سنے۔ پھر اس کو اس کے ٹھکانے تک پہنچا دو۔ یہ اس لئے کہ یہ لوگ علم نہیں رکھتے (توبہ ٦) معلوم ہوا کہ اسلام کا گھر، مسلمانوں کے لئے عبادت اور اصلاح کا مقام ہونے کے ساتھ، دوسری قوموں تک خدا کا پیغام پہنچانے کا مرکز بھی ہے۔ یہ جس طرح اسلام کے سمٹنے کی جگہ ہے، اسی طرح وہ اسلام کے پھیلنے کا نقطہ بھی ہے۔ یہاں خدا کا دین استحکام حاصل کرتا ہے اور یہیں سے وہ اپنے سفر کو بھی جاری کرتا ہے۔ یہ اسلام کا سمندر بھی ہے اور اس کا بھاپ اٹھنے کا مقام بھی۔ مسجد کے اندر تبلیغ کی تاثیر اور تبلیغ کی عظمت تاریخ سے ثابت ہے۔ مغل قبائل نے تیرھویں صدی عیسوی میں مشرق کی جانب سے عالم اسلام پر حملہ کیا، اور اس کے بڑے حصہ میں اسلام کے نشانات کو مٹا ڈالا۔ مگر اسلام کے انھیں کھنڈروں سے اسلام دوبارہ ایک تسخیری طاقت بن کر مغلوں نے اسلام قبول کر لیا۔ وہی مسجدیں جن کو ہلاکو نے سمرقند سے حلب تک اپنے راستہ میں تباہ کر دیا تھا، اس کے پوتوں نے دوبارہ ان مسجدوں کی تعمیر کی اور ان کی چھتوں کے نیچے خدائے واحد کے آگے سجدہ کیا۔

آج اسلام کو جو چیلنج در پیش ہے، اس کے جواب کی صورت یہ ہے کہ مسجد کو اس کے پورے معنوں میں زندہ کیا جائے۔ ایک عرب عالم ڈاکٹر حسین مونس کے یہ الفاظ نہایت صحیح ہیں : ان الاسلام اليوم يخوض معركة آج اسلام کو ایک جنگ کا سامنا ہے اور اس والمساجد من اهم اسلحتنا فيها میں مسجدیں ہمارا نہایت اہم ہتھیار ہیں۔

الوعی الاسلامی (کویت)، رجب ۱۳۹۳ھ ، صفحہ ۶۰ میوات کا سفر صفحات ۲۲۰ هدیه ۲۵ روپیہ

Printed page