Al-Risala · April 1989

مذہبی آزادی

Al-Risala, April 1989, p. 3

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹی ڈبلیو آرنلڈ نے اپنی کتاب اشاعتِ اسلام (The Preaching of Islam) میں لکھا ہے کہ عباسی خلیفہ المامون (۸۳۳-۸۱۳) نے سنا کہ اسلام کے مخالفین یہ کہہ رہے ہیں کہ اسلام اپنی دلیل کی طاقت سے کامیاب نہیں ہوا ہے بلکہ اپنی تلوار کی طاقت سے کامیاب ہوا ہے۔ دور دور کے ملکوں میں پیغام بھیج کہ ہر مذہب کے اہل علم کو بغداد میں جمع کیا اور پھر مسلم علماء کو بلا کر دونوں کو ایک عظیم الشان اجتماع میں بحث ومناظرہ کی دعوت دی۔ اس علمی مقابلہ میں علماء اسلام کامیاب ہوئے اور غیر مسلم اہل علم نے برسرِ عام اسلام کی استدلالی عظمت کا اعتراف کیا (صفحہ ۸۶) آرنلڈ نے لکھا ہے کہ خلیفہ المامون اسلام کی اشاعت کے معاملہ میں بہت زیادہ پرجوش (Very zealous) تھا۔ اس کے باوجود اس نے کبھی اپنی سیاسی طاقت کو تبلیغ اسلام کے لیے استعمال نہیں کیا اور نہ کبھی کسی کو جبراً مسلمان بنایا۔ بغداد کے مذکورہ بین مذاہب اجتماع میں دوسرے مذاہب کے جو اہل علم شریک ہوئے ، ان میں ایک یزداں بخت تھا۔ وہ مانی فرقہ (Manichaean sect) سے تعلق رکھتا تھا اور ایران سے آیا تھا۔ یزداں بخت نے مسلم علما کی باتیں سنیں تو وہ اسلام کی استدلالی طاقت سے مرعوب اس نے مکمل طور پر خاموشی اختیار کرلی۔

اجتماع کے بعد المامون نے اس کو دربار میں بلایا اور اس سے کہا کہ اب تم کو اسلام قبول کرلینا چاہیے۔ یزداں بخت نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا اور کہا : امیر المومنین ، میں نے آپ کی بات سنی اور آپ کے مشورہ کو جانا۔ مگر آپ تو وہ شخص ہیں جو کسی کو اپنا مذہب چھوڑنے پر مجبور نہیں کرتے اور جبراً کسی کو مسلمان نہیں بناتے۔ یزداں بخت کے انکار کے بعد المامون نے اپنی بات واپس لے لی۔ اور جب یزداں بخت بغداد سے اپنے وطن واپس جانے لگا تو اس نے مسلح محافظ یزداں بخت کے ساتھ کر دیا تاکہ جذبات سے بھرے ہوئے مسلمانوں کی کوئی جماعت اس کو نقصان نہ پہنچا سکے ۔

اسلام میں ہر فکر کی آزادی ہے اور اسی کے ساتھ ہر سنکر والے کا احترام بھی۔

Printed page